Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » آئی ایم ایف کا اکاؤنٹنٹ

آئی ایم ایف کا اکاؤنٹنٹ

 ہمارا ملک اپنی تاریخ کے گھمبیر ترین معاشی بحران کی زد میں ہے۔ٹی وی چینلوں کے خریدے ہوئے  دانشور (جن کی تعداد اب ہزاروں میں ہے) معاشی معاملات کے بارے میں گمراہی پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ معیشت ایک الگ تھلگ موضوع ہے، اور اس کا سیاست،ماحولیات اور سماج کے دوسرے شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ دانشور ہمارے ذہنوں سے اس سائنسی اصول کو مٹا دینے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں جس کے تحت معاشی بحران سیاسی بحران کا لازمی ساتھی ہوتا ہے۔

 ہماری معیشت گلوبل معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ گلوبل معیشت ڈالر معیشت ہے۔ ڈالر کا مطلب آئی ایم ایف ہے۔ یوں ہماری معیشت آئی ایم ایفی معیشت ہے۔  اس آئی ایم ایفی معیشت کو  اگر کسی نے چھیڑا تو ایٹمی قوت امریکہ سے لے کر پسماندہ ترین سومالیہ تک پوری دنیا اس کی تکابوٹی کرنے آن موجود ہوگی۔

 ٹی وی والے فروخت شدہ دانشوروں کی گمراہی پھیلانے والے پروپیگنڈے کے برعکس سچی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں معیشت ایک الگ تھلگ شعبہ نہیں ہے۔بالکل اُسی طرح جس طرح کہ صحت کا محکمہ، جس طرح کہ تعلیم کا محکمہ، یا زراعت کا محکمہ الگ تھلک نہیں ہیں۔یہ سارے شعبے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔

  چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وزیر صحت ایک کمرے میں بیٹھ کر اپنا بجٹ اعلان کردے، یا تعلیم والا صحت کی ضروریات نہ دیکھتے ہوئے اپنے بجٹ کا اعلان کردے۔ اسی طرح وزیر خزانہ بھی اپنی مرضی سے ”منجور نا منجور“کے ہٹلری فیصلے نہیں کرسکتا۔ اکیسویں صدی میں ریاست کا پورا سیاسی معاشی نظام ہوتاہے جس نے منضبط،متناسب، متوازن اور منسلک انداز میں چلنا ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کو پولٹیکل اکانومی کہتے ہیں۔” صرف“  اکانومی  توکسی پرچون فروش بنیے کا  بھی نہیں ہوسکتا، ریاست کا کیسے ہوگا؟۔

ہمارے ملک میں ڈرامہ یہ چل رہا ہے کہ عین بجٹ کے موقع پر آئی ایم ایف سے کسی اکاؤنٹنٹ کو بلا کر ہمارا وزیر ِخزانہ بنایا جاتا ہے، اور پھر ”ہمارا“  وہ آئی ایم ایفی  وزیر خزانہ  ”اپنے“  آئی ایم ایفی ساتھیوں کے ساتھ ہماری طرف سے ”مذاکرات“کرتا ہے۔ ملک کا منہ کالا کر کے اُس سے قرضہ لے کر، دونوں آئی ایم ایفی ساتھی مل کر پاکستان کا بجٹ بناتے ہیں۔

اس خالص  آئی ایم ایفی بجٹ میں دو مدّوں کو ہر گز نہیں چھیڑا جاتا:بیرونی قرضوں اور غیر پیداواری اخراجات کو۔ باقی زراعت جائے جہنم میں، صحت جائے جہنم میں،تعلیم جائے بھاڑ میں، سمندری حیات کو گولی مارو۔ یعنی پورے پاکستانی سماج، اس کی ضرورتوں اور تقاضوں کو لات مار کر ساری ملکی کمائی صرف اِن دو غیر پیداواری شعبوں میں لگائی جاتی ہے۔

                یہ تباہ کن بات ہے۔ زندہ سماج سے ٹیکس تو لیے جاتے ہیں مگر یہ رقم زندہ سماج پر خرچ نہیں کی جاتی۔ محکمے تو قائم ہیں مگر وہ سہولیات نہیں دیتے۔ ایسا کیسے ہوگا؟، ایسا کب تک ہوگا؟۔

  کامن سینس کی بات ہے کہ معیشت، ڈیفنس، قرضے،فنڈز سب کچھ سماج سے وابستہ ہیں۔ اور یہ سارا کچھ  سیاست کے بندوبست کے تحت آتا ہے۔ اسی لیے الیکشن کیے جاتے ہیں۔حتیٰ کہ بورژوا الیکشنوں میں بھی سماج کے کم وبیش ہر حصے اور ہر شعبے سے لوگ منتخب ہوکر آتے ہیں اور ملکی بجٹ میں ضروریات کی لسٹ ترتیب دے کر بجٹ پیش کرتے ہیں اور ایک معقول بحث کے ذریعے ترمیموں پہ توجہ دیتے ہوئے سال کا بجٹ پاس کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے آئی خلائی مخلوق کس  صوبے، کس حلقے سے  منتخب ہو کر وزیر خزانہ بنی ہے؟۔ عوام قوم ملک سب کچھ بائی پاس۔ آئین اسمبلی قانون سب جوتی کی نوک پر۔۔۔۔ اتنی ڈھٹائی  توننگے مارشل لا میں بھی نہیں ہوتی تھی۔

     ایک اور بات بھی ہے۔ وہ یہ کہ معیشت،سماج سے الگ تھلگ کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اگر سماج میں استحکام نہیں ہوگا تو معیشت، آئی ایم ایف،اور اُس کا عطیہ کردہ وزیر خزانہ سب پر زے پر زے ہوجائیں گے۔ سب کچھ پہلے ہی پرزے پر زے  ہوچکا ہے۔

 یہاں عجب فارمولا ہے۔ایک  ملک کا بجٹ وہ شخص بنا رہا ہے جواُس ملک کا شہری ہی نہیں۔ ماوند اور ملتان کا بجٹ وہ شخص بنا رہا ہے جسے مست اور مگسی کے ناموں کے ہجے تک نہیں آتے۔ہمارا سماجی فیبرکس  ایسے ”مسافر“ شخص کے حوالے ہے، جسے ہمارے رواجوں، ہمارے، باہمی تعلقات واختلافات کا اداراک تک نہیں ہے۔

پولٹیکل اکانومی میں ٹیکنوکریٹ کی حکومت ایک گالی ہونی چاہیے۔ عوام ہی اپنے ٹیکنو کریٹ ہوتے ہیں۔ وہی اپنے نمائندے چن کر اسمبلی بھیجتے ہیں۔اُن سے اپنی ضروریات کے مطابق بجٹ بنواتے ہیں اور اُن سے جوابدہی کرتے ہیں۔ ایک گئی گزری جمہوریت میں بھی حفیظ شیخ اوپر سے نہیں ٹپکتے۔ بلکہ مفصل پروگرام رکھنے والی سیاسی پارٹیاں الیکشن اور ووٹ سے عوام کی رضامندی لے کر اسمبلی میں آتی ہیں۔ پارٹی وژن سے لیس سیاسی منتخب لوگ اسمبلی میں بیٹھ کر معیشت بناتے ہیں۔

اِدھر عجب ہے کہ خود سیاستدان ملک کا اہم ترین محکمہ ایک ” غیر ملکی“  کے حوالے کرتا ہے۔ اور خود چادر کندھے پر رکھ کر چل دیتا ہے کہ لومیاں تم چلاؤ، ہم تو جاہل گنوار ہیں۔ خدا کا خوف کرو۔ساری زندگی دکھاوے میں حب الوطنی کا رٹہ لگائے رکھتے ہومگر پھر اپنا سارا وطن امریکہ کے لوگوں کے حوالے کرتے ہو۔  یہ تو عوام کی توہین بھی ہے ۔ ہمارے دکھ درد سے نا آشنا آئی ایم ایفی ٹیکنو کریٹ بجٹ بنائے، اور اس پہ علمدر آمد ہماری منتخب (؟)سیاسی حکومت کرے۔ یوں وزیراعظم پیچھے پیچھے،ٹیکنوکریٹ آگے آگے۔ وہ جہاں چاہے چرواہے کی طرح ”ڈرر اَوہ“ بول دے اور ”منتخب (?)سیاسی حکومت سر نیچے کر کے اُس کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔

                اس قدر احمقی کہ حکومت ہمارے  ”زمینی“حقائق سے نمٹنے کے لیے ”ہوائی“آدمی لے آتی ہے۔

                معیشت کبھی بھی ایک خالص معاشی عمل نہیں ہے۔ یہ سیاسی عمل ہے۔ اور سیاسی عمل آئی ایم ایفی ٹھنڈے کمروں میں نہیں،تپتے سورج کے نیچے جلسہِ عام میں ہوتا ہے۔ مزدور کا سیاسی عمل فیکٹری میں، اورکسان کا سیاسی عمل کھیت میں ہوتا ہے۔اور وہیں سے لوگ منتخب ہو کر پارلیمنٹ جاتے ہیں، لہذا سیاسی عمل پارلیمنٹ میں ہوتا ہے،آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹر ز میں نہیں۔ ٹیکس پارلیمنٹ میں لگتا، یا،  بڑھتا گھٹتا ہے۔ پارلیمنٹ سے باہر کے کمروں میں ٹیکس نہیں تاوان لاگو ہوتے ہیں۔ ٹیکنو کریٹ وزیر خزانہ، ٹیکس نہیں تاوان لگاتا ہے۔ کس چیز کا تاوان؟ سامراجی ممالک کے گورے بینکارکی تجوری بھرنے کا تاوان، گورے صنعت کار کی فیکٹری میں توسیع کا تاوان۔۔۔۔تاوان کبھی بہبود نہیں ہوتا۔ تاوان کبھی ترقی نہیں ہوتا۔

جان بوجھ کر اس معاشی سیاسی بحران کی تشخیص ہی غلط  کی گئی۔ لہذا چارہ گروں کی جو ٹیم لائی گئی تو بھی جان بوجھ کر بالکل  ہی غلط لائی گئی۔بیماری کی تشخیص تو ہے: پولٹیکل اکانومی کابحران۔ آپ لائے گِدھوں کا ہاضمہ بڑھا نے کے ڈاکٹر۔ یہ ٹیم ملٹی نیشنلزاور اور اُن کے پاکستانی ایجنسی ہولڈرز (بالائی طبقہ) کا بھوک بھڑکاتے رہنے والی ٹیم ہے۔ یہ ٹیم مزید مقروض بنائے گی، مزید بھوک لائے گی،مزید غلامی، مزیدپستی لائے گی۔

Check Also

سنگت کے دوستوں کے لئے ۔۔۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

ہر خطے کے مشاہیر کو نصابی ضرورتیں، قومی اُمنگیں یا حاکموں کی وقتی ضرورتیں پیدا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *