Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » قوم کی ایک خادمہ سے ۔۔۔ عبدالرحمن غور

قوم کی ایک خادمہ سے ۔۔۔ عبدالرحمن غور

وہ نغمہ اُلفت پھر اک بارسنا جاؤ

لللہ سمجھ جاؤ خورشید چلی آؤ

 

ویران ہے دل میرا برباد تمنا ہوں

جو کام نہ آئے کچھ وہ تلخی دنیا ہوں

نے طالبِ عشرت ہوں نے ساغر ومیناہوں

خودبھول گیا مجھ کو معلوم نہیں کیا ہوں

 

ایامِ گزشتہ کی کچھ بات بتاؤ

لللہ سمجھ جاؤ خورشید چلی آؤ

 

آؤ کہ وہی محفل اک بار سجائیں پھر

اجڑی ہوئی دنیا کے گھر بار بسائیں پھر

جو روٹھ گئے ہم سے اُن کو بھی منائیں پھر

تاریکی عالم کو گردوں سے ہٹالیں پھر

 

 

آفاق کی وسعت سے گردش کو اٹھا جاؤ

لللہ سمجھ جاؤ خورشید چلی آؤ

 

مجبور ہوں میں ورنہ وہ ”نقش ِ بقا“ ہوتا

انجم بھی فدا ہوتے گردوں بھی فدا ہوتا

پھر بُھول کے ساقی سے ہر چند خفا ہوتا

ساغر بھی چھلک جاتے تم دیکھتیں کیا ہوتا

 

آزاد میں ہوجاؤں وہ راہ دکھا جاؤ

لللہ سمجھ جاؤ خورشید چلی آؤ

 

انجام تو دیکھا خود ایام کے کھونے کا

اب وقت نہیں ایسا آرام سے سونے کا

تم کام کیے جاؤ پیکان چھبونے کا

گرتم سے کبھی ایسا یہ بھی نہیں ہونے کا

 

پھر بن کے ستمگر تم اک آگ لگا جاؤ

لللہ سمجھ جاؤ خورشید چلی آؤ

Check Also

روگ  ۔۔۔۔ گلناز کوثر

کیسے ہنستے ہو دکھتی سانسوں سے زخمی ہونٹوں کی درزوں کو بھرتے جیتے۔۔۔ مرتے۔۔۔ چلتے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *