Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » ارتقا ۔۔۔ عبدالرحمن غور

ارتقا ۔۔۔ عبدالرحمن غور

زیست کیا ہے اک تماشائے عجیب

موت کیا ہے اختتام لطفِ زیست

اب سکوں کی وادیوں میں جارہیں

ہاں یہاں سے دور اس دنیا سے دُور

نیم تاریکی جہاں پر ہے محیط

اُس جگہ اُس خطہِ برباد میں

ایک گوشے میں کہیں آرام سے

نظم دنیا کے لیے سوچیں ذرا

ہم اگر چاہیں تو دنیا کا نظام

پھر بدل سکتے ہیں اک تدبیر سے

”انقلاب“ اور ہمت مرداں بغیر

ہو نہیں سکتا مگر کچھ اس طرح

ہم ترقی کر نہیں سکتے اگر

زندگی کی فکر میں الجھے رہے

آؤاب پہلے بدل دیں زیست کو

پھر بدل ڈالیں گے یہ نظم جہاں

مجھ کو یہ نظمِ جہاں بھاتا نہیں

مجھ کو اس دنیا میں چین آتا نہیں

Check Also

غزل ۔۔۔۔   محسن شکیل

جسم  سے  روح  تلک  خود  کو  اجالے  ہوئے  لوگ ہیں چراغوں کو ابھی خود میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *