Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » قفس کا بلبل ۔۔۔۔ فائزہ امام آسکانی

قفس کا بلبل ۔۔۔۔ فائزہ امام آسکانی

قفس کے بُلبل کی آرزو ہے
کھلی فضاؤں میں سانس لینا
بلند وبالا عمارتوں سے بہت بلند تر
اُن آسمانوں کو چھو کے آنا
اُن لہلہاتے سنہرے کھیتوں سے
رزق لینا
اُس ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کو چھونا اور
گلے لگانا
درختوں پہ تنکا تنکا جوڑے
گھونسلے بنانا
صبح شبنم کی تشنگی کو
گھونٹ گھونٹوں سے یوں مٹانا
کہ اس میں شیرین زندگی ہے
کہ اس چہچہاہٹ میں بندگی ہے
اے میرے مالک
جو ایک پل کو قفس سے نکلوں
اُن آسمانوں کو چُھوکے آؤں
کُھلی فضاؤں میں پر پھیلاؤں
سمندروں کے شفاف پانی سے
باوضو ہوکے چہچہاؤں
فلک جن نغموں سے جھوم جائے
میں ایسی خوشیوں کے گیت گاؤ
میری دعائیں اثر دکھائیں
قفس میں مجھ کو نہ موت آئے
کہ قید سے جو ملے رہائی
مد توں کی اسیر زادی
زمین کو چوموں
فضاؤں کو بس گلے لگاؤں
اسی گھڑی کو
یہ سانسیں کم ہوں
آنکھیں بند ہوں
او رپرواز میں کمی ہو
یہی فخر مجھے رہے ہمیشہ
کہ قید میں نہ یہ موت آئی
میں قید اِک حقیر پنچھی
میری التجاء بھی کبھی ہو پوری
قفس نہیں میرا آشیانہ
قفس میں بُلبل
تمہارا قیدی۔۔۔۔

Check Also

شاکر شجاع آبادی

اے ہوا توں ونج کے آکھیں میڈے سونہڑیں یار کوں کوئی دوا تاں ڈے ونجیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *