Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔۔ ظہیر مشتاق

غزل ۔۔۔۔ ظہیر مشتاق

دیکھا نہیں ہے آنکھ نے کچھ بھی سوائے خواب
اور خواب بھی نئے نہیں دیکھے دکھائے خواب

راتوں کی خاک چھاننے والوں سے تجھ کو کیا
تیرے تو پورے ہو گئے بیٹھے بٹھائے خواب

تعبیر وہ بھی بانٹتے پھرتے ہیں شہر میں
دیکھی نہیں جنہوں نے کبھی شکل ہائے خواب

پیشِ نظر ہے تیرگی اور ایسی تیرگی
منظر تو دور آنکھ سے دیکھا نہ جائے خواب

رستے ہمارے! حاجتوں نے کر دیے جدا
رختِ سفر میں رہ گئے رکھے رکھائے خواب

ٹوٹے تو ٹو ٹنے کا بھی احساس کب ہوا
کِس احتیاط سے مجھے اس نے دکھائے خواب

Check Also

غزل ۔۔۔۔   محسن شکیل

جسم  سے  روح  تلک  خود  کو  اجالے  ہوئے  لوگ ہیں چراغوں کو ابھی خود میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *