Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔۔ بدر سیماب

غزل ۔۔۔۔ بدر سیماب

اس دل کی وحشتوں کا زمانہ تمام شد
اے یاد یار ! تیرا فسانہ تمام شد

درپیش اب مجھے ہے مری ذات کا سفر
اپنا ہو یا ہو کوئی بیگانہ تمام شد

اشکوں کا سیل خواب ہی سارے بہا گیا
آنکھوں میں حسرتوں کا ٹھکانہ تمام شد

میرے ہیں کام سارے ادھورے پڑے ہوئے
اب دوستوں کا بوجھ اٹھانا تمام شد

سیماب ! چپ لگی ہے کہو کیا ہوا تمہیں؟
موقوف ہے دلیل ، بہانہ تمام شد

Check Also

یہاں خوش گمانی کا راج تھا  ۔۔۔  ازہر ندیم

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *