Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » بابا مجھے خود بڑے ہونے دیتے۔۔۔۔ ثروت زہرا

بابا مجھے خود بڑے ہونے دیتے۔۔۔۔ ثروت زہرا

میں خواب کے کنارے بیٹھے بیٹھے
ہلکورے لیتی لہروں میں
تیرنے کا ہنر سیکھ لیتی
تو مجھے تمہارے لمس کی
ناؤ نہ تیار کرنی پڑتی
میں ہواکی شال اوڑھ کر
بگولوں میں رقص کرتے ذرات کے ساتھ
گھوم گھوم کر
کائنات پیدا کرنے کا ہنر جانتی
تو مجھے آرزو کی کالی چوکی ٹھوکنے کے لیے
کیلوں سے ہاتھ زخمی نہیں کرنے پڑتے
میں سراب میں روشنی کی طرح
منعکس ہوکے رہ سکتی
اور پیاسی آنکھ سے خود تک آنے والی
لکیر کازائچہ بنا سکتی
تو اپنی ہتھیلیوں کی لکیروں کی کھوج میں
خود کو نہ کھودتی رہتی
روح کے سیرابی کے پیالوں میں، ادراک۔۔۔
بھر بھر پیتی رہتی
تو شائد مجھے
وجود کی کھال سے
تمنا کا مہنگا سودا نہ طے کرنا پڑتا

Check Also

غزل ۔۔۔۔   محسن شکیل

جسم  سے  روح  تلک  خود  کو  اجالے  ہوئے  لوگ ہیں چراغوں کو ابھی خود میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *