Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » دربدری ۔۔۔ ظہیر مشتاق

دربدری ۔۔۔ ظہیر مشتاق

ہوا کے رحم و کرم پہ رکھے
ہم اپنی شاخوں سے ٹوٹے پتے
ہمیشہ دیکھا تو پت جھڑوں کو
سمے کے رتھ پر سوار دیکھا
جنہوں نے دیکھی نہ کوئی صورت
فقط رخِ انتظار دیکھا
سمے کے رحم و کرم پہ رکھے
ہوئے ہم ایسے کہ جیسے کوئی
چڑھی ہوئی سر پھری ندی میں
بنا کے کاغذ کی ناو رکھ دے
ہم ایسے پیڑوں کی مثل ٹھہرے
جو جڑ پکڑنے کی کوششوں میں
یہاں وہاں در بدر ہوئے ہیں
وہ سبز رت جو کبھی نہ آئی
اسی کی خاطر بسر ہوئے ہیں
فقط اسی آس میں کہ اک دن
کہیں مداوائے غم ملے گا
ہوائے تازہ کا دم ملے گا
جڑوں کو مٹی سے نم ملے گا

Check Also

پروردگار  ۔۔۔ عبدالرحمن غور

موسمِ خوشگوار کا عالم گویا نقش و نگار کا عالم اِک طرف آہ بے رُخی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *