Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » فہمیدہ ریاض کی کہی ہوئی آخری نظم 

فہمیدہ ریاض کی کہی ہوئی آخری نظم 

(بشکریہ نجمہ منظور اور انیس ہارون صاحبہ)

میں جس کمرے میں رہتی ہوں
اِس کمرے میں اک کھڑکی ہے
گر رات کو میری آنکھ کھلے
میں مڑ کر اُس کو تکتی ہوں
تب مجھے دکھائی پڑتا ہے
کھڑکی میں چاند چمکتا ہے
میں ہولے سے مسکاتی ہوں
اور مجھ کو ایسا لگتا ہے
وہ چاند بھی جیسے مسکایا
پھر موند کے اپنی آنکھوں کو
ہولے ہولے سو جاتی ہوں
تب مجھے خیال یہ آتا ہے
میں نہیں اکیلی دنیا میں
یہ کائنات اور یہ تارے
چاند اور سورج کے نظارے
یہ موٹرکار کی آوازیں
انجان پروں کی پروازیں
ہیں ایک ہی گوہر سے یہ بنیں
جو میرا بھی ہے تیرا بھی
جو اُس کا بھی ہے اِس کا بھی
میں نہیں اکیلی دنیا میں

Check Also

غزل  ۔۔۔ نوشین قمبرانی

میں ساحلوں کو عطا ؔ کی غزل سنانے لگی زمین اٹھ کے مِرے آسماں پہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *