Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ نوشین قمبرانی

غزل  ۔۔۔ نوشین قمبرانی

میں ساحلوں کو عطا ؔ کی غزل سنانے لگی
زمین اٹھ کے مِرے آسماں پہ چھانے لگی

گو تیری آگ مرے باغ میں زمانے لگی
مگر میں پھول تِری زلف میں سجانے لگی

ہوا کے طور سے پانی کا سانس گھٹنے لگا
نظر کے قحط سے پھولوں کی جان جانے لگی

گْماں کے غار سے اک خوف کی پِچھَل پَیری
نکل کے فہم و فراست کا دل چبانے لگی

یہ دیکھتی رہی پہلے درخت تھی میں بھی
پھر اپنی لکڑیاں خود کاٹ کر جلانے لگی

عجیب دْھن بجی آسیب ڈر کے بھاگ گئے
میں ایک خوابِ رواں سے نکل کرآنے لگی

دْرونِ دل کوئی پتہ گِرا اور اْس کی سدا
مِرے قریب کے لوگوں کو بھی ڈرانے لگی

نکل کے وہم سے نخلِ ابد کے بے گھر تھی
تمھارے ہاتھوں کا پھر گھونسلہ بنانے لگی

مْہیب شام مِری مرگِ نامکمل کی
تڑپ کو دیکھ کے میرا گلا دبانے لگی

Check Also

فرحین کے لیے! ۔۔۔ امداد حسینی

تیرے گھر پر چاندنی سے ایک سندھی نظم لکھ کر گھر کے در پر چھوڑ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *