Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ رضوان فاخر

غزل ۔۔۔ رضوان فاخر

پھر اسکی خوشبو پکارے کسی کتاب میں بند
وہ ایک پھول کھلا تھا جو میرے خواب میں بند

میں کر رہا ہوں بدن سے ترے کشید مہک
میں کر رہا ہوں ترے حسن کو گلاب میں بند

میں جس کو چھیڑ کے خود بھی بڑا پشیماں تھا
عجیب کیف تھا اس ساز بے رباب میں بند

بس ایک لمحہ گزراں تھا سائبانِ سماں
مرے بہار و خزاں تھے کسی غیاب میں بند

نہ جانے کتنے زمانے مہکتے پھول میں تھے
نہ جانے کتنے ترانے تھے صوتِ آب میں بند

اسی خرابے سے پھوٹے گا جا بہ جا سبزہ
ندائے آب چہکتی ہے اس سراب میں بند

Check Also

فہمیدہ ریاض کی کہی ہوئی آخری نظم 

(بشکریہ نجمہ منظور اور انیس ہارون صاحبہ) میں جس کمرے میں رہتی ہوں اِس کمرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *