Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ گلناز کوثر

غزل ۔۔۔ گلناز کوثر

وقت کے تھال پر پھر نئے دن کی اجلی کرن تھرتھرانے لگی آہنی کھڑکیوں پر دھری رات کا جو ہوا سو ہوا

بند آنکھیں کھلیں اور پلکوں سے چمکیلے تارے جھڑے وہ حقیقت تھی یا خواب کا سلسلہ بھول جا جو ہوا سو ہوا

کیسے کردار تھے اس قدر لغو، بیکار ،الجھی ،ادھوری کہانی نبھاتے رہے زندگی تیری قیمت چکاتے رہے

لکھنے والے نے پیروں سے اندھا سفر باندھ کر لکھ دیا رائیگاں ،پھر فسانے کا انجام اس کے سوا جو ہوا سو ہوا

یاد ہے !آخری شام کے آخری پل نے چٹخی نظر کو چھوا تو زمانوں سے ٹھیرا ہوا زرد موسم پگھلنے لگا

خیر جانے دو قرنوں کی الجھی مسافت کے دوجے سرے پر دھری اک فریبی ملاقات کا ذکر کیا جو ہوا سو ہوا

ایک دن ہم سنہری کتابوں جنوں خیز خوابوں کا بستہ لیے آگ سر پر دھرے وقت کے دائروں سے نکل آئے تھے

زندگی پھر ہماری بلا سے تو آدھی یا پوری ،جہاں ،جیسے ، جس طورگزری ترے ساتھ اچھا برا جو ہوا سو ہوا

رات کیسی سیہ تھی مگر دیکھ لو ڈھل گئی جو گزرنی تھی دل پر گزر ہی گئی یہ گھڑی بھی گئی وہ گھڑی بھی گئی

ہجر کا پھول جس وقت کھلنا تھا کھل ہی گیا جو بھی ملنا تھا مل ہی گیا میری جاں کیسا شکوہ گلہ جو ہوا سو ہوا

Check Also

غزل ۔۔۔۔   محسن شکیل

جسم  سے  روح  تلک  خود  کو  اجالے  ہوئے  لوگ ہیں چراغوں کو ابھی خود میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *