Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » استقبالیہ  ۔۔۔ رفیق کھوسہ

استقبالیہ  ۔۔۔ رفیق کھوسہ

جناب صدر امین الملت کانفرنس میں شریک قومی کارکنو، باہر سے آئے ہوئے خواتین وحضرات !۔
میں اپنے روحانی استاد، فکری نظریاتی قوم اور وطن دوست سیاسی رہبر سندھ وبلوچستان کے مشترکہ قومی ہیرو کامریڈ محمد امین خان کھوسہ کی یاد میں منعقد اس سیمینار میں شریک ہونے والے قومی کارکنوں اور مہمان حضرات کو اپنی اور آل بلوچستان کانفرنس جعفر آباد کی جانب سے خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اس کانفرنس کو منعقد کرنے کا فیصلہ9اگست 2018کو سندھ کے ترقی پسند طالب علم لیڈر شہید نذیر عباسی کی برسی میں کیا گیا تھا۔ شہید نذیر عباسی کی برسی میں مجھ نا چیز کے علاوہ ڈاکٹر شاہ محمد مری ، عابد میر ، پناہ بلوچ، صوفی عبدالخالق بلوچ، سید اختر زمان شاہ، محمد نواز کھوسہ اور حافظ روشن الدین کھوسہ نے شرکت کی تھی۔ شہید نذیر عباسی ڈے پر ہونے والے فیصلہ کے مطابق آج خد اکے فضل سے ہم سب اس تاریخی تقریب کا حصہ بنے ہیں۔ کل جب میں اور ساتھی محمد نواز کھوسہ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد سے اس تقریب کی ضلع کونسل ہال میں اجازت نامہ لینے گئے تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے استفسار کیا کہ جس شخصیت کا دن آپ لوگ منا رہے ہیں اُن کی سیاسی خدمات اور سیاسی وابستگی کے متعلق بتائیں۔ ہم نے ڈپٹی کمشنر کو بتایا کہ اس خطے سے محمد امین خان کھوسہ نے انگریز سامراج کے خلاف چلنے والی قومی آزادی کی تحریک میں قائدانہ رول ادا کیا ۔ محمد امین خان کھوسہ کا دوسرا بڑاکارنامہ یہ تھا کہ اُس نے سندھ میں ہونے والے1938کے ضمنی الیکشن میں انگریز سرکار کے پروردہ ایک مضبوط قبائلی سردار سردار شیر محمد خان بجا رانی کو عوامی مدد سے بڑے مارجن سے شکست فاش دی تھی۔ یہ سُن کر دپٹی کمشنر صاحب نے ہم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ’’ پھر ایسی شخصیت کا ضلع کونسل ہال میں تقریب کی اجازت نہیں دینی چاہیے‘‘۔ ہم نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو کہا آپ صحیح کہہ رہے ہیں یہاں صرف اور صرف انگریزوں کے لقب یافتہ خان بہادروں اور اُن کی اولادوں اور وطن فروش وظیفہ خور قبائلی سرداروں اور جاگیرداروں کے دن منانے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ یہ ملک اُن کے لیے بنایا گیا۔ محمد امین خان کھوسہ جیسے قومی ہیروز کی جگہ قید خانے اور عقوبت خانے ہوتے ہیں۔
دوستو 70سال کے بعد ہم آج بھی وہاں کھڑے ہیں جہاں 1938میں محمد امین خان کھوسہ کھڑے تھے۔ آج بھی ہماری نوکر شاہی اور اشرافیہ کے طور طریقے وہی ہیں جوفرنگی سامراج کے دور میں ہوتے تھے۔ میں آج کی اِس چھوٹی تقریب کو 1932میں ہونے والی آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا تسلسل سمجھتا ہوں ۔کانفرنس کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے اس تحریک کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ میں ایک بار پھر تمام مہمانوں اور قومی کارکنوں کا اس تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ اد اکرتا ہوں۔

Check Also

سٹیفن ہاکنگ ۔۔۔ شاہ محمد مری

سائنس دان بالخصوص فزکس کے سائنس دان(فزِسسٹ) مائتھالوجی کے گہرے دوست ہوتے ہیں۔ مائتھالوجی انسان ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *