Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » محمد امین کھوسہ ۔۔۔ جاوید اختر

محمد امین کھوسہ ۔۔۔ جاوید اختر

عشاق کا قافلہ تو مفلسوں اور ان کے رہنماؤں کا قافلہ ہے۔یہ قافلہ نہ تو سیر سپاٹے کی غرض سے دنیا سے نکلا تھا۔اور نہ ہی اس کا مقصد تجارت تھا۔تجارت میں تو سود و زیاں ہی ہر چیز کا پیمانہ ہوتا ہے۔ عشاق کے قافلے میں تو سود تھا ہی نہیں۔اس میں تو صرف زیاں ہی زیاں تھا اور ہے۔ اس زیاں کے بہی والوں کے قافلے میں نہ کوئی بڑا تھا اور نہ کوئی چھوٹا،نہ کسی رنگ و نسل کا فرق تھا۔اور نہ طبقاتی تفاوت۔بلکہ اس میں تو اونچے طبقات کے لوگ نچلے طبقات سے مل کر ایسے شیرو شکر ہوگئے کہ من تو شدم تو من شدی کے مصداق ہر قسم کا فرق کافور ہوگیا۔ اس عشاق کے قافلے کا ایک ہی دستور ہے۔کسے کہ کشتہ نہ شد از قببیلہء ما نیست۔محمد امین کھوسہ بھی عشاق کے قافلے کا ایک مسافر تھا،جو ایک جاگیردار طبقے کا فرد ہوتے ہوئے بھی محنت کشوں کی تحریک سے وابستہ ہو ا۔اور پھر ان کا ہی ہو کر رہ گیا۔وہ 11دسمبر1910ء میں گوٹھ حیات خان جیکب آ باد میں پیدا ہوا۔اس نے 1929ء میں گورنمنٹ ھائی سکول جیکب آباد سے میٹرک کیا۔بعد ازاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے علی گڑھ گیا۔
اس زمانے میں بر صغیر میں برطانوی سامراج کے خلاف تحریک آزادی زوروں پر تھی۔اور اس کے جلو میں مزدور کسان تحریک بھی سر اٹھا کر چل رہی تھی۔ہندوستان کے شہر شہر اور گاؤں گاؤں میں محنت کشوں کی ٹریڈ یونین تحریک اور کسان سبھائیں منظم ہو رہی تھیں۔یہ تنظیمیں مارکسزم اور سوویت یونین کے زیر اثر قومی و طبقاتی جنگ لڑ رہی تھیں۔تحریک خلافت اور تحریک نمک نے عوام میں انقلابی شعور بیدار کردیا تھا۔دوسری طرف انگریزی حکومت کے ظلم وجبر کا بازار گرم تھا۔1929ء میں جلیانوالہ باغ (امرتسر) میں بھگت سنگھ اور اس کے کامریڈوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ یہ واقعہ برطانوی سامراج کے جبر و ستم کی ایک واضح مثال تھی، جس نے ترقی پسند انقلابی قوتوں کومہمیز دی۔جس سے محنت کش تحریک اپنے مقصد میں مزید واضح ہوگئی۔یہ وہ پس منظر تھا،جس سے امین کھوسہ علی گڑھ میں اپنے زمانہ طالب علمی میں ان سب تحریکوں اور واقعات سے واقف بھی ہوا اوربے ھد متاثر بھی۔اس نے جب پلٹ کر بلوچسان کی طرف دیکھا تو اس وقت اسے واضح طور پر دو بلوچستان دکھائی دیے۔برطانوی بلوچستان اور خان کا بلوچستان۔اول الذکر میں ریلوے، ٹیلی گراف،ڈاک، مواصلات، سڑکوں کے علاوہ انگریزی تعلیمی اداروں ہسپتالوں اور فوجی چھاونیوں کی تاسیس اور سرمایہ داری کی ترویج نے بلوچستان کو عالمی سرمایہ داری سے مربوط کردیا تھا، جس سے اس کا قدیم قبائلی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار تھا۔ یہ حالات قومی و طبقاتی تحریک کو مضبوط کررہے تھے۔ جب کہ ثانی الذکر خانی بلوچستان میں پسماندگی، جہالت اور غربت غالب تھی اور قبائلی نظام کا گھامڑ پن ابھی تک قائم تھا۔خان قلات بزرگروں کے ششک پر منحصر تھا اور دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے محل میں رنگ رلیاں منارہا تھا۔اور قبائلی سرداروں کی چیرہ دستیاں اپنی پوری آب و تاب سے جاری تھیں ،جو غریب عوام کا استحصال کرنے میں مصروف تھے۔جس کی وجہ سے وہ بھوک، بیماری اور جہالت کا شکار تھے۔
محمد امین کھوسہ جو احساس آزادی، قومی شعور اور طبقاتی سوچ سے پہلے ہی لیس ہوچکا تھا، اس لیے اس نے 1932ء میں یوسف عزیز مگسی اور اس کے دیگر ساتھیوں کی منظم کردہ آل انڈیا بلوچ و بلوچستان کانفرنس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہیں سے اس کی سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوا۔یہ کانفرنس تو ایک ہمہ گیر بلوچ سیاسی پارٹی کا سنگ اساس رکھنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس نے محمد امین کھوسہ پر بہت دور رس اور گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس نے علیگڑھ میںآل انڈیا بلوچ ایسوسی ایشن قائم کی۔ وہ 1931ء میں دوسری آل انڈیا مسلم کانفرنس میں ایک مندوب کے طور پر شریک ہوا۔جس میں اس نے ایک پرجوش تقریر بھی کی تھی۔دریں اثناء اس نے سٹوڈنٹ پالیٹیکس میں بھی حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ اس نے 1934ء میں گریجویشن کیا اور 1936ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔
علی گڑھ سے واپس آکر اس نے جیکب آباد میں صمد خان اچکزئی، اسلم اچکزئی اور عزیز کرد کے ساتھ صحافت اور سیاست شروع کی۔ اس دوران اس نے قومی سیاست کو طبقاتی جدوجہد کے ساتھ مربوط کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔لہذا اس نے ہاری پارٹی کی بنیاد رکھی ،جس میں چھوٹے درجے کے کسانوں،بزگروں، ہاریوں اور کھیت مزدوروں کو جاگیرداروں کے خلاف متحد کرنے کی جدوجہد کی۔ یوسف عزیز کے مشورے پر اس نے مارکسزم کا مطالعہ کیا، اور اس کے ہی مشورے پر اس نے کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل، جان ریڈ کی کتاب دنیا کو جھنجوڑ دینے والے دس دن اور دیگر کتابوں کا مطالعہ کیا۔جس کی وجہ سے اس کی سوچ میں طبقاتی جدوجہد کا رنگ اور گہرا ہوتا گیا۔اورمارکسزم کے باقاعدہ مطالعے سے وہ اس ڈائیلیکٹس کی تہہ تک پہنچ گیا کہ کسان محنت کش کے ساتھ انقلابی اتحاد اور اس میں اس کی رہنمائی کے بغیر سوشلسٹ انقلاب کی منزل کی طرف نہیں بڑھ سکتا ہے۔اس وجہ سے وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوگیا۔اور 1937ء میں اس نے بلوچستان و سندھ میں اس کی شاخ قائم کی۔اس نے ایسا کر کے کسانوں اور مزدوروں کے انقلابی اتحاد پر زور دیا۔اسی دوران اس نے سندھ کو بمبئی پریزیڈینسی سے علیحدہ کر نے کی تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آخر کار سندھ کو صوبائی حیثیت کا درجہ مل گیا۔اس نے 1938ء میں کانگریس کی ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے مد مقابل ایک جاگیردار جھاکرانی کو شکست فاش دی اور وہ سندھ اسمبلی کا ممبر بنا۔اور 1945ء تک اس کا ممبر رہا۔اس نے اس دوران اپنے عوام کے لیے بہت کچھ کیا۔اسی دوران اس کے دوستانہ تعلقات عبیداللہ سندھی،جی ایم سید، قادر بخش نظامانڑیں اورکئی دیگر شخصیات سے استوار ہوئے۔1942ء میں برطانوی سرکار نے اسے حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا۔
امین کھوسہ نے عوام کے لیے اپنی قلمی و عملی جدوجہد کی۔اس نے سندھی زبان میں کئی ایک تحریریں بھی چھوڑی ہیں۔کئی خطوط تحریر کیے۔جن میں سائیں جی ایم سید پر ایک کتاب سید اعظم قابل ذکر ہے۔وہ بہت خوب صورت سندھی لکھتا تھا، جس کی وجہ سے یوسف عزیز نے اسے سندھی کا شیکسپئیر قرار دیا۔کھوسہ صاحب کی سیاسی جدوجہد 1932ء سے لے کر 1970ء تک محیط ہے،جس میں کئی اتار چڑہاؤ بھی آتے رہے،مگر کھوسہ صاحب بلوچ عوام کے مسائل سے ہمیشہ مربوط رہا۔اس نے مخلصانہ طور پر بلوچ قومی مسئلے کو طبقاتی جدوجہد سے الگ کر کے کبھی نہ سمجھا بلکہ قومی مسئلے کو طبقاتی جدوجہد کا اٹوٹ حصہ تصور کیا۔یہی خوبی اس کی سیاست میں ہمیشہ نمایاں حیثیت کی حامل رہی۔جو آج کے بلوچ قوم پرستوں کے لیے ایک عبرتناک سبق ہے،جو قومی آزادی کو ہر مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔اور طبقاتی جدوجہد سے اپنی آنکھیں ایسے بند کرلیتے ہیں جیسے بلی کو دیکھ کر کبوتر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔اور دوسری طرف ان نام نہاد طبقاتی جدوجہد کے علم برداروں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے،جن کے نزدیک قومی سوال ایک بورژواچیز ہے، جو کسی اہمیت کا حامل نہیں ہے۔اور ان کی سیاست میں کسان یا ہاری کے انقلابی کردار کی بالکل نفی پائی جاتی ہے۔حالاں کہ کوئی بھی قومی آزادی کی تحریک سامراج دشمنی کے بغیر، دیگر قومی آزادی کی تحریکوں کے اتحاد کے بغیر اور بین الاقوامی محنت کش تحریک کی حمایت کے بغیر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔اسی طرح کوئی بھی سوشلسٹ تحریک قومی سوال کو طبقاتی جدوجہد سے مربوط کیے بغیر سوشلسٹ انقلاب کی منزل کی طرف نہیں بڑھ سکتی ہے۔

Check Also

پراگریسورائٹرز ایسوسی ایشن  ۔۔۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری

انقلاب کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ۔وحشت ناک رائیگانی کے بین الاقوامی ماحول ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *