Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » انجیلا ڈیوس(خودنوشت) ۔۔۔ ترجمہ: سید سبطِ حسن

انجیلا ڈیوس(خودنوشت) ۔۔۔ ترجمہ: سید سبطِ حسن

ان نسل پرستوں نے یہ بم خاص طور سے میری چاروں سہیلیوں کو مارنے کے لیے نہیں پھینکا تھا۔ ان کو تو شاید احساس بھی نہ تھا کہ گر جاگھر کے تہہ خانے میں بم رکھنے سے کوئی شخص بلاک بھی ہوسکتا تھا۔ وہ تو برمنگھم کے کالے باشندوں میں خوف اور دہشت پھیلانا چاہتے تھے جو اچانک نیگرووں کی آزادی کے لیے کمر بستہ ہوگئے تھے۔ وہ آزادی کی تحریک کو قبل اس کے کہ وہ ہمارے ذہنوں اور ہماری زندگیوں میں جڑ پکڑے نیست ونابود کرنے کے درپے تھے۔ اب اگر کسی بے گناہ کی جان چلی جائے تو ان کی بلا سے ۔
نومبر1963میں ہماری ٹولی پیرس سے واپس آگئی اور میں ساربونؔ یونیورسٹی میں داخل ہوگئی۔ اس کی عمارتیں صدیوں پرانی تھی۔ اونچے اونچے کھمبے اور اونچی اونچی چھتیں جن کے نقش و نگار مٹتے جارہے تھے۔ وہاں کچھ ایسا تقدس چھایا رہتا تھا کہ طلبا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے لامحالہ خاموش رہتے تھے ۔ قدامت کی اس فضا میں میرا جدید فرانسیسی ادب پڑھنا بڑا بے جوڑ لگتا تھا۔
پیرس میں جب کینڈی کے قتل کی خبر پھیلی تو ہر شخص نے امریکی سفارت خانے کا رخ کیا۔کینڈی کی موت میرے لیے خوشی کا باعث ہر گزنہ تھی حالانکہ اس کا دامن پاک نہ تھا۔ (مجھے کیوبا پر امریکی حملہ بار بار یاد آرہا تھا) لیکن اس کے قتل سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہ تھا بلکہ مجھے یقین تھا کہ ٹیکساس نژاد نائب صدرجانسن اور اس کی پشت پناہی کرنے والے تیل کے مالک میرے ہم قوموں کے لیے جینا اور دوبھر کردیں گے ۔ پھر بھی سفارت خانے کے ماحول میں میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کررہی تھی ۔ امریکی میرے چاروں طرف کھڑے آنسو بہا رہے تھے اور میں سوچ رہی تھی کہ ہیر لڈٹر یبون ؔ میں چار نیگر ولڑکیوں کے بہیمانہ قتل پر ان میں سے کتنوں نے افسوس کیا ہوگا۔
اگلے مہینے میں ایک دوست کے ہمراہ جو مد عو تھی، ویت نام کا سالِ نوکا سالانہ تیوہار دیکھنے گئی ۔ یہ تیوہار جنوبی اور شمالی ویت نامی الگ الگ جگہوں پر منا رہے تھے ۔ میں شمالی ویت نام کی تقریب میں شریک ہوئی جو پیرس کے مزدور علاقے میں بہت وسیع سٹیڈیم میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ شاندار تقریب سات گھنٹے جاری رہی جس میں بے شمار گیت گائے گئے۔ مزاحیہ کھیل کھیلے گئے اور جسمانی کرتب دکھائے گئے۔
یہ فنی مظاہرے ویت نامیوں کے عزم اور حوصلہ کی بھر پور ترجمانی کر رہے تھے مگر ان کے پیغام کو سمجھنے کے لیے ویت نامی زبان سے واقفیت بالکل ضروری نہ تھی۔ البتہ جب کبھی امریکی حکومت یا امریکی فوج پر طنز کا اظہار ہوتا تو امریکی حملہ آوروں کی پیدا کردہ گھنا ؤنی حقیقتیں مجھے نغمہ و رقص کی رومانی دنیا سے جھنجوڑ کر اصلی دنیا میں واپس لے آتیں۔
مجھ کو فرانسیسی ادب میں تو ڈگری ملنے ہی والی تھی لیکن میں دراصل فلسفہ پڑھناچاہتی تھی۔ بالخصوص مارکس اور اس کے پیش روؤں اور جانشینوں سے مجھ کو بڑی دلچسپی تھی۔ چنانچہ جب کبھی موقع ملتا میں فلسفہ کی کتابیں پڑھا کرتی۔ اس مطالعے کا مقصد میرے ذہن میں واضح نہ تھا البتہ کائنات، تاریخ ، انسانی وجود اور شعور کے بارے میں فلسفیوں کے خیالات معلوم کر کے مجھے بڑا سکون ملتا تھا۔
برنیڈس یونیورسٹی میں دوسرے سال کے دوران مجھ کو پروفیسر ہر برٹ مارکوس کی کتاب Eros and Civilisationپڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس سال وہ سار بون میں لیکچر دے رہے تھے لیکن جب میں پیرس پہنچی تو وہ برنیڈس واپس جاچکے تھے۔ البتہ طلبا میں ان کے لیکچروں کا بڑا شہرہ تھا۔برنیڈس واپس آکر مجھ کو پروفیسر مارکوس کے سبقوں میں سرکاری طور پر تو داخلہ نہ مل سکا لیکن میں اُن کے ہر لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوتی تھی۔ طلبا ان کے علم و فضل کا اتنا احترام کرتے تھے کہ ان کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سناٹا چھا جاتا تھا اور طلبا گوش برآواز ہوجاتے تھے۔ اُن کی شخصیت بڑی پروقار اور دلکش تھی۔
ایک دن میں نے ہمت کر کے پروفیسر مارکوس سے ملاقات کی درخواست کی ۔ میں چاہتی تھی کہ فلسفے کے مطالعے کے لیے کتابوں کی فہرست تیار کرنے میں وہ میری رہنمائی کردیں۔ وہ بادی النظر میں بہت کم آمیز اور نار ساد کھائی دیتے تھے۔ اُن کے قدو قامت اور سفید بالوں سے اور پھر ان کے بھاری لہجے ، غیر معمولی خود اعتمادی اور علم کی فراوانی سے بھی یہی گمان ہوتا تھا لیکن قریب سے دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ تو بڑے ہنس مکھ اور خوش مزاج انسان تھے او ران کی متلاشی آنکھوں میں بلاکی چمک تھی۔
میں نے وجہ ملاقات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ میں فلسفہ میں اعلیٰ سند حاصل کرنا چاہتی ہوں لیکن میں نے اب تک فلسفہ بڑے بے ڈھنگے پن سے پڑھا ہے لٰہذا میری آپ سے استدعا ہے کہ مجھے کتابوں کی ایک سلسلہ وار فہرست بنادیں۔ تاکہ میں فلسفہ کا باقاعدگی سے مطالعہ کرسکوں۔ دوسرے یہ کہ فلسفی کانٹ کی تصنیف Critique of pure Reasonپر آپ جو لیکچر دے رہے ہیں اُن میں میرا داخلہ ہوجائے ۔
کیا تم واقعی فلسفہ پڑھنا چاہتی ہو۔ انہوں نے بے حد سنجیدگی سے ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ گھبراہٹ میں میرے منہ سے بس اتنا نکلا کہ جی ہاں۔ میں کم سے کم یہ ضرور معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ آیا مجھ میں اس کی صلاحیت ہے بھی یا نہیں۔
’’تو پھر تم سب سے پہلے قبل سقراط کے فلسفیوں کو پڑھو اور ان کے بعد افلاطون اور ارسطو کو۔ اگلے ہفتے مجھ سے ملو تو ہم قبل سقراط فلسفیوں پر غور کریں گے‘‘۔ اس وقت مجھے اندازہ نہ تھا کہ میری اس چھوٹی سی درخواست کا نتیجہ نہایت خرد افروز ہفتہ وار بحثوں کی شکل میں برآمد ہوگا۔
ہٹلر سے قبل فرینک فرٹ یونیورسٹی کا شعبہ فلسفہ اپنے ’تنقیدی نظریہ‘ کے لیے سارے یورپ میں مشہور تھا۔ اس کے روح رواں پروفیسر مارکوس ، پروفیسر ادارنو اور پروفیسر میکس ہور خائمر تھے ۔ نازیوں کے بر سراقتدار آنے پر یہ تینوں فلسفی ترک وطن کر کے امریکہ چلے آئے ۔ نازیوں کی شکست کے بعد ادار نو اور میکس ہور خائمر تو فرینک فرٹ واپس چلے گئے البتہ مارکوس نے امریکی شہریت اختیار کر لی ۔ میں جن دنوں فرانس میں زیر تعلیم تھی تو میں نے چند ہفتے فرینک یونیورسٹی میں بھی گزارے تھے اور ادارنو کے لیکچروں میں شریک ہوئی تھی۔ اس وقت مجھے جرمن زبان بہت کم آتی تھی ۔ لیکن میرے دوست لیکچروں کا مفہوم سمجھنے میں میری مدد کرتے رہتے تھے۔ بعد میں میں نے ان تینوں جرمن فلسفیوں کی وہ کتابیں پڑھ ڈالیں جو انگریزی یا فرانسیسی میں ترجمہ ہوچکی تھیں۔
برینڈز یونیورسٹی کے آخری سال میں میں نے فرنیک یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھنے کی غرض سے وظیفہ کی درخواست دے دی ۔ پروفیسر مارکوس کی بھی یہی رائے تھی۔ اُن کے خیال میں ہیگل اور مارکس کے مطالعے کے لیے سب سے موزوں جگہ وہی تھی۔ اسی اثنا میں بی ۔ اے کا امتحان سر پر آگیا اور میں پڑھائی میں مصروف ہوگئی۔
میرے والدین میرے ملک سے دوبارہ باہرجانے پر چنداں خوش نہ تھے ۔ البتہ تقسیم اسناد کے جلسے میں شریک ہوکر جب انہوں نے یہ سنا کہ بیٹی اول آئی اور اُس کو کئی انعام اور تمغے بھی ملے تو ان کی فخر یہ مسرت کی انتہا رنہ رہی۔ تقریب ختم ہوئی تو میں نے اپنا سامان باندھا اور ان کے ہمراہ برمنگھم روانہ ہوگئی۔ راستے میں میرے والد نے ایک دکان سے بوربن و ہسکی کی کئی بوتلیں خریدیں اس لیے کہ ریاست الاباماؔ میں دکانوں پر وہی وہسکی ملتی ہے جو وہاں کے سفید فام گورنر والیںؔ کے رشتہ داروں کی فیکٹری میں بنتی ہے ۔
ریاست ٹینسی کی سرحد میں ہم بہت رات گئے داخل ہوئے مگر ہم جانتے تھے کہ راستے میں ہم کو کوئی ایسا ہوٹل (سرائے) نہیں ملے گا جس کو نیگر و چلاتے ہوں لٰہذا یہی طے پایا کہ سیدھے برمنگھم کا رُخ کیا جائے ۔ رات کو دو بجے ہوں گے اور ہم ٹینسی کے کسی قصبے سے گزر رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی موٹر کار کا سائرن زور زور سے بجنے لگا۔ میرے باپ نے موٹر روک لی اور ہم پولیس کا انتظار کرنے لگے۔ پولیس کی گاڑی ہمارے پاس آکر رُک گئی۔ اور ایک موٹا سا تمبا کو چباتا ہوا گورا سپاہی بڑی نفرت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ میرے باپ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔ کیاتمہیں خبر نہیں کہ تم گاڑی بہت تیز چلا رہے تھے ۔ نیچے اترو ۔ اس کی انگلیاں پیٹی سے لٹکے ہوئے پستول پر تھیں اور مجھ کو معاًوہ نیگرو یاد آگئے جو ہمارے قصباتی جیلوں میں ہفتوں بلکہ بعض اوقات ہمیشہ کے لیے غائب ہوجاتے ہیں۔ سپاہی نے پہلے ہماری گاڑی کی اندر سے تلاشی پھر میرے باپ سے ڈکی کھولنے کو کہا۔ مگر ہمارے سوٹ کیس دیکھ کر اس کو بڑی حیرت ہوئی اور جب میرے والد نے بتایا کہ ہم لوگ اپنی بیٹی کے تقسیم اسناد کے جلسے سے واپس آرہے ہیں تو اس کی رعونت تھوڑی دھیمی پڑی مگر اس کا لہجہ سرکاری ہوگیا۔ البتہ وہسکی کو بوتلیں دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
’ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں شراب ممنوع ہے ۔ اس علاقے میں شراب رکھنا جرم ہے‘۔’لیکن یہ بوتلیں بند ہیں اور ہم ا س علاقے سے فقط گزر رہے ہیں‘۔
’اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ اس ضلعے میں شراب نوشی جرم ہے اور شراب کی در آمد ممنوع ہے ۔ تم کو تیس دن کے لیے جیل میں بند کیا جاسکتا ہے ۔ جج صاحب باہر گئے ہوئے ہیں اور اگلے ہفتے واپس آئیں گے ۔ شاید تم کو اس وقت تک حوالات ہی میں رہنا پڑے‘۔
جب میرے باپ نے اپنے وکیل سے فون پر گفتگو کرنے کی بات کی تو سپاہی کہنے لگا اچھا چلو میں تمہارے سات وہی رعایت کرتا ہوں جو اپنے چھو کروں سے کرتا ہوں ۔ موٹر میں میرے پیچھے پیچھے آؤ۔ اس نے وہسکی کی بوتلیں اپنی کار میں رکھ لیں۔
بھاگنا نہایت خطرناک تھا لہذا یہ سمجھ کر کہ پولیس والا ہم کو تھانہ لے جا رہا ہے ہم اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ لیکن اس کی موٹر رکی تو وہاں تھانے کے کوئی آثارنہ تھے بلکہ ہم ایک کچی گلی میں تھے۔ اور پولیس والا موٹر خانے کا پھاٹک کھول رہا تھا۔
میری ماں نے گھبرا کر کہا ’ڈیوس ! تم کو اندر نہیں جانا چاہیے ۔نہ جانے وہ کیا کرے۔ لیکن میرے باپ کے چہرے پر خوف کا نام ونشان تک نہ تھا ۔وہ اندر چلے گئے اور ہم بڑی بے چینی سے گاڑی میں ان کا انتظار کرنے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ باہر آئے تو ان کے ہونٹوں پر بڑی زہریلی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ موٹر چلاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بے ایمان کو بوتلوں سمیت بیس ڈالر کی طلب تھی سوپوری ہوگئی۔
فرینک فرٹ میں میرا ماہانہ وظیفہ سوڈالر تھا ۔ وہاں پہلا مسئلہ رہائش کا تھا۔ مگر میں جس ایجنسی کے پاس جاتی یہی جواب ملتا کہ ہمارے پاس غیر ملکیوں کے لیے کوئی کمرہ نہیں ہے لیکن ان کے چہرے بشرے سے صاف عیاں ہوتا کہ کمرے تو ہیں مگر خالص آریاؤں کے لیے۔
تاریخ میں بیس سال کی مدت کچھ زیادہ نہیں ہوتی ۔ چنانچہ شہر کی پچاس فیصدی آبادی کو ہٹلری دور کا تجربہ تھا۔ اور مشرقی جرمنی کے برعکس مغربی جرمنی میں فاشزم اور نسلی امتیاز کے خلاف کبھی کوئی منظم مہم نہیں چلائی گئی تھی لٰہذا نسلی نفرت لوگوں کی رگ وپے میں بدستور موجود تھی۔
بارہ ہفتوں کی دوڑ دھوپ کے بعد مجھ کو ایک گھر میں ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر مل گیا۔ یہ کمرہ جس فلیٹ سے وابستہ تھا اس میں رہنے والے مغربی جرمنی کے عام لوگوں سے بہت مختلف تھے ۔ ان کو امریکی نیگروں سے ہمدردی تھی اور وہ ہمارے ہم قوموں کے مسائل پر گفتگو کرتے وقت ہم پر توڑے جانے والے مظالم کا موازنہ نازی جرمنی میں یہودیوں پر ہونے والے مظالم سے ضرور کرتے تھے۔ وہ اکثر مجھے کھانے پر بلاتے اور گھنٹوں باتیں کرتے ۔ اس میل جول اور بات چیت سے مجھے جرمن زبان سیکھنے میں بڑی مدد ملی۔
فرینک فرٹ میں طلبا کی سوشل ڈیموکریٹک لیگ بہت فعال جماعت تھی۔ میں ان کے جلسے جلوسوں میں شریک ہوتی رہتی تھی ۔البتہ ہم غیر ملکی طلبا پولیس کی گرفت میں آنے سے بچتے تھے اس لیے کہ پردیسیوں کو ملکی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہ تھی۔ اور اگر وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرتے پکڑے جاتے تو ان کو فوراً ملک بدر کردیا جاتا تھا۔ پھر بھی میں ویت نام پر امریکی حملے کے خلاف مظاہروں میں ضرور شریک ہوتی تھی۔
میں نے 1964میں جب فرینک فرٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو امریکہ میں سیاسی اعتبار سے نسبتاً سکون تھا۔ لیکن 1965کی گرمیوں میں جب وطن واپس آئی تو حالات بدل چکے تھے ۔ میرے ہزاروں بھائی بہن لاس اینجلز کی سڑکوں پر چیخ رہے تھے کہ ہم نے بہت دن صبر کیا، بہت دن تماشا دیکھا اور اب مزید صبر ناممکن ہے ۔
جن دنوں میں مغربی جرمنی میں چھپی بیٹھی تھی تو کالوں کی تحریک آزادی چولا بدل رہی تھی۔ بلیک پاور کا نعرہ پہلی بار ریاست مسی سی۔ پی کے ایک مظاہرے میں بلند ہوا تھا۔اور نیگرو تنظیموں کی سوچ میں بنیادی تبدیلی آرہی تھی۔ نیگرو طلبا کی رابطہ کمیٹی عدم تشدد جس کے نام کا جُز تھا بلیک پاور کی وکالت میں پیش پیش تھی۔ یہ رابطہ کمیٹی شہری حقوق کی سب سے مضبوط تنظیم تھی ۔ نسلی مساوات کی کانگریس (Congress for Rocial Equality) میں بھی اسی قسم کی تبدیلی آرہی تھی۔ شہر نیویارک میں ایک قومی بلیک پاور کانفرنس بھی ہوچکی تھی۔ اور سیاسی حلقوں، ٹریڈ یونینوں، گرجاگھروں اور دوسری تنظیموں میں کالوں کے مفاد کی حفاظت کی خاطر کالوں کے سیل بن رہے تھے۔ ہر طرف سخت ہیجان اور اُبال تھا۔
اُدھر میں فرینک فرٹ میں فلسفہ پڑھ رہی تھی اور سوشل ڈیمو کریٹک لیگ کی تحریکوں میں شرکت کر رہی تھی۔ ادھر ریاست کیلی فورنیا کے شہر اوک لینڈ میں کالے نوجوان کا لے باشندوں پر پولیس کے سفاکانہ مظالم کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا عہد کر رہے تھے۔ ایک روز میں نے اخباروں میں پڑھا کہ ہوئی نیوٹن ، بابی سیل اور بابی ہٹن نامی نیگرو نو جوان شہر سیکرا منٹو میں کیلی فورنیا کی قانون ساز اسمبلی میں اسلحہ لیکر داخل ہوگئے( گوروں کو یہ حق حاصل تھا) ان کی تنظیم کا نام تحفظِ ذات کی خاطر بلیک پینتھر پارٹی تھا۔
یہ تحریک جیوں جیوں شدت اختیار کرتی جاتی تیوں تیوں اپنی بے بسی پر میرا غصہ بھی بڑھتا جاتا۔ ہر چند کہ میں فلسفہ کی گہرائیوں میں اُترتی جارہی تھی اور میرا شعور پختہ ہوتا جارہا تھا لیکن تحریک سے دوری اور تنہائی کا احساس بھی تیز ہوتا جارہا تھا ۔ میں میدان کا رزارسے اتنی دور تھی کہ میں جدوجہد کے واقعات کا ٹھیک ٹھیک تجزیہ بھی نہیں کرسکتی تھی۔ میں تو یہ تصفیہ بھی نہ کرسکتی کہ تحریک کے کون سے دھارے سچے ہیں اور کون سے جھوٹے۔
میں عجیب تذہذب میں مبتلا تھی ۔ ایک طرف وطن کی بڑھتی ہوئی جدوجہد دوسری طرف فلسفہ میں ڈاکٹری کی ڈگری کی تحصیل ۔ یہ تضاد ہر روز زیادہ اذیت ناک ہوتا جاتا تھا۔ اور مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہورہی تھی کہ میری تحصیل علم کی صلاحیت براہ راست اسی بات پر منحصر ہے کہ میں نیگرو جدوجہد میں کوئی ٹھوس خدمت سرانجام دوں۔
میرے پی۔ ایچ ۔ ڈی کے کام کے نگراں پروفیسر اَدور نوؔ تھے لیکن میں محسوس کر رہی تھی کہ اب میں جرمنی میں زیادہ نہیں رہ سکتی۔ بس دو سال کافی تھے ۔ میں نے پروفیسر اَدور نوؔ کو صورت حال سے آگاہ کیا اور وطن واپس جانے کا اصل سبب اُن پر واضح کردیا۔ اسی اثنا میں پروفیسر مارکوس کو سیاسی اسباب کی بنا پر برینڈ زیونیورسٹی سے علیحدہ ہونا پڑا تھا اور اب وہ وین دیگو میں واقع کیلیفورنیا یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے تھے۔ میری اُن سے خط و کتابت تھی۔ چنانچہ میں نے طے کیا کہ کیلیفورنیا جا کر تعلیمی مشغلہ بھی جاری رکھوں گی۔ اور عملی جدوجہد میں بھی شامل رہوں گی۔ میں وطن روانہ ہوگئی۔

Check Also

احمد خان کھرل ۔۔۔ شاہ محمد مری

احمد خان، کھرل ایک عرصے سے میرے ذہن کا دل مراد،کھوسہ بنا ہوا تھا۔اُس نے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *