Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بچے کے لیے خوراک سے متعلق تجاویز ۔۔۔ ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو

بچے کے لیے خوراک سے متعلق تجاویز ۔۔۔ ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو

چھ ماہ کی عمر تک

دن رات بچہ جتنی بار چاہے اسے ماں کا دودھ پلائیں۔چوبیس گھنٹوں میں کم از کم آٹھ مرتبہ ہر مرتبہ بچے کو دنوں چھاتیوں سے باری باری اور ہر چھاتی سے کم از کم دس منٹ کے لیے دودھ پلائیں۔کوئی اور خوراک پانی و دیگر مشروبات ہر گزنہ دیں۔بوتل یاچوسنی استعمال نہ کریں۔

چھ ماہ تا بارہ ماہ

بچہ جتنی بار چاہے اسے ماں کا دودھ پلائیں۔ بچے کو مناسب مقدار میں۔ کھچڑی ، موسمی سبزیوں (گاجر۔ پالک۔ آلو وغیرہ) یا قیمہ کے ساتھ چاول، چاولوں کی کھیر، سوجی کا حلوہ یا کھیر، دلیہ، سویاں، چوری، ابلے مسلے ہوئے آلو یا سبزیوں ، انڈا ، کیلا ، موسمی پھل یا کوئی بھی کھانا جو چار ماہ سے چھ ماہ کے بچے کیلئے دی گئی فہرست میں دیا گیا ہے دیں۔ (نوماہ کی عمر تک کھانا مسل کر دینا چاہیے)۔ اگر ماں اپنا دودھ پلا رہی ہو تو دن میں تین مرتبہ کھانا دیں۔اگر ماں اپنا دودھ نہیں پلا رہی تو دن میں پانچ مرتبہ کھانا دیں۔ ہر مرتبہ کھانے کی مقدار تقریباً آدھا کپ ، پونا کپ یا پورا کپ ہونی چاہیے۔

بارہ ماہ تا دو سال

بچہ جتنی بار چاہے اسے ماں کا دودھ پلائیں۔ بچے کو مناسب مقدار میں روٹی ، پراٹھا ، کھچڑی یا چاول ، سالن ، قیمہ، چکن ، انڈا ،موسمی سبزیاں، چوری ، سویاں یا کوئی بھی کھانا دیں جو چھ سے بارہ ماہ کے بچے کیلئے دی گئی فہرست میں دیا گیا ہے ۔ ہر روز کم از کم تین مرتبہ کھانا دیں۔اور ہر روز کھانوں کے درمیانی وقفے میں دو مرتبہ کچھ اور ہلکا کھانا دیں۔ جیسے کہ موسمی پھل (کیلا ، سیب، آم یامالٹا وغیرہ) رس ، چپس، پکوڑے یا سموسے، لسی ، دہی، ڈبل روٹی کے ساتھ انڈا اور حلوہ وغیرہ یا وہ کھانا جو گھر کے دیگر افراد کھاتے ہیں دن میں پانچ مرتبہ دیں۔

دوسال اور اس سے زائد عمر

دن میں تین مرتبہ وہ کھانا دیں جو گھر کے دیگر افراد کھاتے ہیں ۔ ساتھ ہی دو مرتبہ کھانوں کے درمیان مقوی /غذائیت سے بھر پور کچھ اور کھانے کو دیں۔ جیسا کہ : موسمی پھل (کیلا، سیب ، آم ، مالٹا وغیرہ) بسکٹ، رس، چپس، پکوڑا، سموسہ، لسی، دہی، ڈبل روٹی کے ساتھ انڈا اور حلوہ وغیرہ۔

Check Also

امین کھوسہ، جھٹ پٹ۔۔۔۔رپورٹ: عابد میر

پہلا پتھر، پہلا سنگِ میل کتنا اہم ہوتا ہے،اس کا اندازہ شاید آپ تبھی کر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *