Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » کشور ناہید

کشور ناہید

بدن کا ہدیہ

(Body organ donation)
جب میری روح پرواز کر جائے گی
کتنا شاداب ہوگا وہ بدن
جس میں میرا دماغ لگایا جائے گا
اور وہ دل
جب کسی جسم میں دھڑکے گا
تو شہنائیاں گونجیں گی
میں تو چاہوں گی میری زبان
سچ بولنے والے منہ میں
لگادی جائے
جس دن کسی چشم کورکی
مایوسیاں ، میری آنکھوں سے
یوں شعاع ریز ہوں
کہ ہر ایک رنگ کی قوسِ قزح کو
دیکھ کر مسکرائے
کتنی خوش ہوگی میری روح
کہ میرابدن ، زندگی اور روشنی
بانٹتے بانٹتے
مٹی میں فنا ہوجائے گا۔

عاصمہ ! تم جاوداں ہو

عاصمہ ! آج تمہارے لاہور شہر کی فصیل میں دراڑ پڑگئی ہے
مفسد وعیار ، بربریت کے پروردہ
آج تمہارے جانے پہ خوش نظر آرہے ہیں
یہ تو اُس دن بھی خوش تھے
جب حسن ناصر، فیض اور بھٹو خاندان کو
اللہ میاں کے پاس بھیج دیا گیا تھا
اللہ میاں نے پھر دیکھا ، پھر وہی شیطان
کبھی مشال ، کبھی نقیب
اور کبھی نوجوان بچیوں کو ٹکڑے ٹکڑے
کرنے والوں کو عزت بچانے کی
مبارکباد دے رہے تھے
مگر اللہ بے انصاف نہیں ہے
امن کی شہزادی عاصمہ!۔
تمہیں کتنی کالی ہواؤں کے تھپیڑے لگے
کتنی زہر بھری گولیاں چلائی گئیں
مگر تم اس لیے بچ گئیں
کہ نگر نگر سسکتے چہرے
تمہاری بے ریا مسکراہٹ کے
انتظار میں چشم براہ تھے
کہتے ہیں روحیں آواگون کے ذریعہ
حرکت میں رہتی ہیں
یہاں تک کہ وہ پاک ہوجاتی ہیں
تمہاری بے چین، مگر پاک روح عاصمہ!۔
تمام خاک بسر لوگوں کے چہروں کی خراشیں
سبک، نرم رو، تازہ شگوفوں میں بدل دے گی
سب اجاڑ بستیوں میں
ہر روز تمہارے قدموں کی چاپ سن کے
آزردوہ اور بے نور آنکھیں بھی
جگمگا اٹھیں گی
اذیت پرستی کے سارے ناخدا
نابود ہوجائیں گے
مگر تمہاری روح!۔
کبھی کیا، اکثر چڑیا کی آواز کے ساتھ
اور سارے عالم میں
بادلوں کی گرج کے ساتھ
ہمارے ساتھ کھڑی ہوگی!۔

زائچہ

موت سے ڈرتی ہو
وہ بتاتی ہی نہیں کب آنا ہے
اس سے کیا ڈرنا!۔
دھوپ سے ڈرتی ہو
میرا گندمی رنگ شہابی
نہیں روسکتا
ڈرنا کیسا!۔
اندھیرے سے ڈرتی ہو
ہوا میں تیر چلانا
میری عادت نہیں!۔
ہم عصر ادیبوں سے ڈرتی ہو
واہ، سامنے کچھ اور پیچھے کچھ !۔
بزرگ ادیبوں سے ڈرتی ہو
ان کی کھوکھلی جپھیاں اور
پھولے ہوئے سانس پہ ہنسی آجاتی ہے
سیاست دانوں سے ڈرتی ہو
تھوتھا چنا، باجے گھنا!۔
صحافیوں سے ڈرتی ہو
شکر ہے میری ساس نہیں ہے!۔
فتویٰ فروشوں سے ڈرتی ہو
عذابِ قبر سے مجھے ڈر نہیں لگتا!۔
اپنی اولاد سے ڈرتی ہو
وہ میری کتابیں نہیں پڑھتے !۔
آئینے سے ڈرتی ہو
میری ساری جھریاں میری شناخت ہیں
بارش سے ڈرتی ہو
وہ میری آنکھوں میں رہتی ہے!۔
سوچ سے ڈرتی ہو
وہ مری ہمزاد ہے !۔
سچ سے ڈرتی ہو
سراب لگتا ہے!۔
جھوٹ سے ڈرتی ہو
آنگن آنگن پھیلا ہے!۔
سمندر سے ڈرتی ہو
ڈوب کی خواہش ہے!۔

اس عورت کے ساتھ کیا مسئلہ ہے!۔

وہ خودندی ہے
مگر خود کو سمندر ظاہر کرتی ہے
وہ زرہ ہے
مگر ایٹم کی سی طاقت رکھتی ہے
وہ خود کو مٹی سے بنایا ہوا نہیں
سٹیل کا بنا ہوا ظاہر کرتی ہے
وہ خود کو آتش فشاں سمجھتی ہے
مگر اندر ، باہر، بھوبھل ہے
وہ رات کی رانی کی طرح مہکنا
اور پھیلنا چاہتی ہے
مگر کیکٹس جیسے کانٹوں کی
زبان رکھتی ہے
وہ ملتا س کے پھولوں کی طرح
زرد دکھائی دیتی ہے
مگر موتیا کی رنگت اور خوشبو
پہننا چاہتی ہے
وہ ہاتھ میں خالی کٹورا لیے
پیاس پیاس کہتی
دھوپ میں ننگے پاؤں چلتی
اپنے ہی سائے کو مٹانا چاہتی ہے
وہ اس دن کو تلاش کرنے
نکلتی ہے جو کل چلا گیا!۔

Check Also

فہمیدہ ریاض

کوتوال بیٹھا ہے کیا بیان دیں اس کو جان جیسے تڑپی ہے کچھ عیاں نہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *