Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » ذولفقار یوسف

ذولفقار یوسف

نظم

مرے بدن پر ہے بوجھ اتنا
کہ انگ سارے
چٹخ گئے ہیں
میں دھار مِک بھاوناؤں کا
اک وِشال پتھر
اٹھاکے
صدیوں سے پھر رہا ہوں

برمُودا مُثلث 

جذبے سارے گم گشتہ ہیں
لوگوں کی گویائی کم ہے
آنکھوں کے دپپک روشن ہیں
پر ان کی بینائی گم ہے
ظلم وستم کی ارزانی ہے
مصنف کا انصاف بھی گم ہے
آوازوں پر دائم قد غن
سُرمفقود ہے ساز بھی گم ہے
جو خاموش ہیں جی سکتے ہیں
جو کچھ بولا یکسر گم ہے
اس دھرتی پر سب کچھ گم ہے
چاروں جانب برمُودا ہے

Check Also

فہمیدہ ریاض

کوتوال بیٹھا ہے کیا بیان دیں اس کو جان جیسے تڑپی ہے کچھ عیاں نہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *