Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » انجیل صحیفہ

انجیل صحیفہ

میں اور تم 

آسمان ہمیشہ سے اوپر ہے کبھی جھکتا نہیں
اور زمین ابتداء افرینیش سے زمین پر ہی ہے
یہ اشارے کنائے سمجھتی ہے
اور اپنے ہی محور پر گھومتی ہے
آسمان غصے میں غرائے
تو زمین گرد میں اپنا بدن لپیٹے رقص کرنے لگتی ہے
وہاں سے توجہ کی چند بوندیں ٹپکیں
تو یہ یہاں مہک مہک کر اترانے لگی
جب جب آسمان کی مشیر ہوا نے
زمین کے ماتھے پر کوئی بیج ٹانکا
تو اس نے جواب میں محبت کے لہلہاتے کھیت دان کر دئیے
آسمان نے کبھی زمین کے سر پر چلچلاتی دھوپ اوڑھا دی
کبھی اس کی خواہش کو بادل پہنا دئیے
اور کبھی اس کے بدن پر چاندنی بچھا دی
پر اسے کبھی زمین کی طلب سمجھ نہیں آئی
وہ وہاں سے کچھ بھی بھیج سکتا ہے
لیکن زمین اپنی لگن کے رنگ صرف دکھا سکتی ہے
یہاں سے وہاں کچھ بھیجنے والی
کورئیر سروس ابھی شروع نہیں ہوئی
کشش ثقل زمین کا خاصہ ہے
پھر بھی زمین کے پاس
آسمان کو اپنے قریب کرنے کا گر نہیں آیا
زمین کے خواب معمولی ہیں
وہ آسمان کو مٹی سے جنما پھول دینا چاہتی ہے
پر آسمان کے پاس زمین کو بہلانے کے لیے
ہیرے والا چاند ہے
مریخ پر زندگی کے آثار نمودار ہوگئے ہیں
چلو وہاں چلتے ہیں
ویسے بھی یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم دونوں میں
زمین آسمان کا فرق ہے!۔

ابہام 

رنگ رنگ لفظوں میں سانس بھردو
اور پھر اسے دیوار پر لٹکا کر
سالگرہ کا انتظار کرو
منظر در منظر کینوس پر ریت کے پاؤں بنا کر
ٹوٹے ہوئے فوارے تک جانا
اف! الٹی گنتی گننا بھی کیا عجیب کوفت زدہ کام ہے
تم دیکھنا کسی دن سمندر سیپی میں ڈوب جائے گا
ہاتھوں کو رگڑ کر گرم کرنے والے لوگ
جون کی گرمی سے گھبراکیوں جاتے ہیں؟
آہ! زندگی کتنی رنکین ہے
لیکن اسٹرابری اپنے رنگ جتنی مزیدار نہیں ہوتی
ہر چیز اپنی جگہ پر ہی اچھی لگتی ہے
سوچو اگر کبوتر کی ٹانگیں سارس جیسی ہوتی
کیسی عجیب بات ہے
دنیا کا تین حصہ پانی ہے اور ہم پانی ختم ہو جانے
کے خوف میں مبتلا ہیں
ایک تو ہم کائنات کے نظام کو نہیں سمجھتے
دیکھو ایلوویرا لگانے سے زخم جلدی ٹھیک ہوجاتے ہیں
ہاں تو تم کیا پوچھ رہے تھے
نہیں نہیں!۔
میں سلویا پلاتھ نہیں ہوں

ہتھیلی پراگائی ہوئی نظم

کبھی غیر ارادی طور پر
ہتھیلی کی زمیں پہ انگلیوں سے ہل چلایا جائے
تودل، دماغ اور زندگی کی لکیریں
اپنے حالات کے پوشیدہ راز اگلنے لگتی ہیں
یکا یک ہاتھ پر نئی کہانیاں، موضوعات اور
احساسات جنم لیتے ہیں
ایسے میں ہتھیلیوں کو سادہ کاغذ پر جھاڑ لینا چاہیے
نرم پوروں سے نوزائیدہ کہانیاں اور موضوعات الگ کرلینا اچھا ہوتا ہے
کیوں کہ ساتھ رہنے سے پرانی کہانیاں اور نئے موضوعات آپس میں الجھ پڑتے ہیں
احساسات کو تو کہیں بھی رکھا جاسکتا
ایسے ہی جیسے نظم کہیں بھی اگائی جاسکتی ہے!۔
سادہ کاغذ پر پڑی ننھی منی کہانیاں ذرا سی توجہ سے
داستان بن سکتی ہیں
موضوعات کی بہتر نگہداشت دورانِ پرورش کارآمد ثابت ہوتی ہے
دماغ کے موضوعات،زندگی کی کہانیاں
اور دل کے احساسات ایک دوسرے سے دورہی رہتے ہیں
اگر کاغذ سمیٹتے وقت ایک دوسرے کو چھو جائیں
تو کوفت ان کے چہرے سے چھلکنے لگتی ہے
کہانیاں اکثر لفظوں کا ہاتھ تھام لیتی ہیں
اور موضوعات یہاں وہاں ہوتے مباحثوں کا رخ کر لیتے ہیں
لیکن یاد رہے!
احساسات کہیں بھی نہیں رکھے جاسکتے
بالکل ایسے ہی جیسے
نظم آسانی سے نہیں اُگائی جاسکتی۔۔!۔

Check Also

فہمیدہ ریاض

کوتوال بیٹھا ہے کیا بیان دیں اس کو جان جیسے تڑپی ہے کچھ عیاں نہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *