Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ ج ع منگھانی 

غزل  ۔۔۔ ج ع منگھانی 

اتنی تنہائیاں جانے یہ کدھر جاتی ہے
دل دھلتا ہے جہاں تک بھی نظر جاتی ہے

جب اداسی میں کوئی سانس بھی لیتا ہے کہیں
برچھی سی کیوں میرے سینے میں اتر جاتی ہے

گھنگھروؤں کو تو بجا کر میں کوئی شور کروں
ایسی ہی سوچ میں یہ عمر گذر جاتی ہے

خود کو محصور کروں آنکھ کو محدود کروں
جانے کیوں سوچ بھٹک کر بھی ادھر جاتی ہے

رنگ و خوشبو سے میں جیون کو سجالوں لیکن
تیرگی ایک سیاہ رنگ ہی بھر جاتی ہے

اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں”کنولؔ “کیسے چلوں
روشنی کھینچ کے پاؤں سے گذر جاتی ہے

Check Also

فہمیدہ ریاض

کوتوال بیٹھا ہے کیا بیان دیں اس کو جان جیسے تڑپی ہے کچھ عیاں نہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *