Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

غزل ۔۔۔ اسامہ امیر

افلاک پہ جا سکتا نہیں، میرے نہیں پَر
موجود و میسر سے جھگڑتا ہوں زمیں پر

چھوتا تو میں ہر روز ہوں کھولوں گا کسی دن
اس زلفِ گرہ گیر کے میں اپنے تئیں پَر

میں چلتے ہوئے دیکھتا ہوں حسن خدا کا
ہر شام ستارے اتر آتے ہیں زمیں پر

وہ نقش بہانے سے ہٹانے کی طلب ہے
جو نقش ابھرتے ہیں اس عورت کی جبیں پر

پھر مصرع ء ثانی مجھے لے آتا ہے مجھ میں
جب مصرع ء اولی مجھے لے جائے کہیں پر

کل رات اداسی نے مجھے حوصلہ بخشا
ورنہ تو میں مر جاتا تری ایک حسیں پر

میں بارِ کائنات اٹھا لاؤں گا گھر میں
دروازہ کوئی کھول دے مجھ جیسے مکیں پر

Check Also

گزری اور آنے والی بہاروں کے نام ۔۔۔ نوشین کمبرانڑیں

ہزاروں گنج ہیں جن پر تیرے پیروں کے بوسے ہیں تہہِ خاکِ وطن تو ہے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *