Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » سوالاََ جواباََ ۔۔۔ شاہ محمد مری

سوالاََ جواباََ ۔۔۔ شاہ محمد مری

۔2018کے بورژوا ،اوردھاندلی شدہ دُم کٹے الیکشنوں کی وجہ سے سنگت اکیڈمی کی ریگولر سرگرمیوں کی تاریخوں میں ردوبدل کرنی پڑی ۔ اسی طرح بلوچستان سنڈے پارٹی کے احباب بھی ووٹ ڈالنے اپنے اپنے علاقوں کو گئے تھے۔ بڑی عید بھی یہیں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ اس لیے اکیڈمی کی مرکزی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پوہ زانت اور عید ملن پارٹی اکٹھا کیا جائے ۔یہی خواہش بی ایس پی یعنی بلوچستان سنڈے پارٹی کے دوستوں کی بھی تھی۔ چنانچہ دو ستمبر کا اتوار مقرر ہوا۔
کابینہ میں میٹنگ کے ایجنڈے پہ بات ہوئی تو ایک کنفیوژن یہ پیدا ہوئی کہ یہ لفظ ’’ ایجنڈا‘‘ کیا ہے؟۔ اس کی حیثیت کیا ہے اور اسے کسے طے کرنا چاہیے۔ چنانچہ کھوج کے بعد معلوم ہوا کہ ایجنڈا دراصل لاطینی زبان کالفظ ہے جس کا مطلب ’’چلانا‘‘ ہے۔ کسی اجلاس یا میٹنگ کی وہ مرتب ومربوط سرگرمیاں جو باری باری اٹھائی جاتی ہیں۔ جمہوری تنظیموں میں صدر یا سیکریٹری کا طے کردہ یہ ایجنڈا اور اس کی ترتیب حتمی نہیں ہوتی بلکہ ’’ دیگر امور‘‘ کے خانے میں میٹنگ میں موجود شرکا اپنی طرف سے نکات شامل بھی کرسکتے ہیں،اور حذف بھی۔
عمومی طور پر سابقہ میٹنگ کے منٹس پڑھ کر اُن کی منظوری لی جاتی ہے ۔ کمیٹیوں کی رپورٹیں وغیرہ سنی جاتی ہیں۔ کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اگلی میٹنگ تک کے لیے لائحہ عمل متعین کیا جاتا ہے۔ اور اگر میٹنگ سنگت جیسے روشن فکر ادبی سماجی اور تحقیقی ادارے کی ہوتو وہاں ملکی وبین الاقوامی سیاسی معاشی اور ادبی صورتحال کا تجزیہ بھی ضرور ہوتا ہے۔
ایجنڈے کے مطابق یہ اجلاس تین حصّوں پر مشتمل تھا ۔پوہ زانت کے حصے کو بطور سنگت(توسیعی) جنرل باڈی اجلاس میں بدلنے کا فیصلہ ہوا۔ تاکہ اُس میں دوکام ہوسکیں ۔
اول :سنگت اکیڈمی کی پئے در پئے منعقد ہونے والی مرکزی کمیٹی کی میٹنگوں کے فیصلوں کو جنرل باڈی کے عملی اور نپی تلی نگاہوں میں سے گزارا جائے اور ان کی منظوری لی جاسکے۔ اور
دوئم :ممبران کی طرف سے اپنی تنظیم کے بارے میں ایک بھر پور خود تنقیدی ہوسکے۔سنگت اکیڈمی کے اغراض و مقاصد اور کارکردگی پر عام بحث و مباحثہ ہو۔ اوپن سوالات کے جوابات دیئے جائیں۔
یہ چونکہ تنظیمی اور نظریاتی معاملہ تھا اس لیے اس حصے کی صدارت اور کاروائی کی پوری نگرانی تنظیم کے سرابراہ ڈاکٹر غلام نبی ساجد بزدار نے کرنی تھی۔
دوسرا حصّہ کثیرا لسانی مشاعرہ کے لیے تھا۔ اس میں بلوچستان میں بولی جانے والی پانچ زبانوں میں سے ہر زبان کے پانچ شعرا سے اُن کی اپنی مادری (قومی) زبانوں میں کلام پڑھوانا تھا۔
اورتیسرا عید ملن پارٹی یعنی خوردونوش۔
چونکہ واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کی ٹکنالوجی نے وہ راستے بند کر دیے جب ہم کاغذپہ لکھ کر،اور لفافوں میں ڈال کر دعوتیں پہنچاتے تھے ، اس لیے اِس نئے ذریعے کو بھر پور استعمال کیا گیا۔ سنگت کے زیر اہتمام سمیناروں اور نشستوں کے انعقاد کے لیے ایک انچارج ہر دوسال بعد الیکشن کے ذریعے منتخب ہوتا ہے ۔ ہمارے ساتویں دوسالہ الیکشنوں والی موجودہ کابینہ میں اس شعبے کا سربراہ ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجوہے ۔ ڈاکٹر صاحب نہایت ذمہ داری اور محنت سے، گروپس میں بھی اور فرداً فرداً بھی، دو تین بار دعوت دہراتاہے ۔ یوں، وہ سست الوجود لوگ بھی جاگ پڑتے ہیں جن کی عادت ہوتی ہے کہ انہیں دعوت نامے کے جواب میں’’او کے‘‘ تک نہ لکھنا پڑے اور جن کا محبوب مصرع ہوتا ہے کہ : جب انقلاب آئے تو جگا دینا مجھے۔
مہینے میں دو اتوار ہماری بیٹھکوں اور اجلاسوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ مہینے کا آخری اتوار سنگت سمیناروں تنقیدی نشستوں ،یعنی پوہ زانت کے لیے ہوتا ہے اور مہینے کا پہلا اتوار بلوچستان سنڈے پارٹی(BSP) کی نشست کے لیے۔پوہ زانت باقاعدہ ایجنڈہ لیے ہوئے ایک تنظیمی اور سٹرکچرڈ اجتماع ہوتا ہے جبکہ بلوچستان سنڈے پارٹی روشن فکر احباب کی کھلی ڈلی ، تقریباً بے پروگرام ، بے ایجنڈہ اور بے مہار بیٹھک ہے۔ یہ دونوں اجتماع اس حد تک ریگولر ہیں کہ ایک سنڈے پارٹی تو ماما عبداللہ جان جمالدینی کے سوئم پہ آئی تھی اور دوسری ایک دوست کے پیارے بیٹے کی وفات کے سوئم پہ ۔ ہم نے اُنہیں بھی کینسل نہ کیا۔
اِن اجلاسوں میں کچھ پرابلم بھی ہیں۔سنگت اکیڈمی آف سائنسز چونکہ دانشوروں شاعروں ادیبوں کی تنظیم ہے اس لیے اس میں نازک طبعی کی موجودگی فطری بات ہے ۔ طبقاتی لحاظ سے بھی ہم سب تقریباً اپرمڈل کلاس کے ہیں اس لیے اُس طبقے کی نازک اندامی بھی ہم میں موجودرہتی ہے۔ ڈی کلاس ہونے کیلئے مسلسل تربیت او رترغیب چاہیے ہوتی ہے اور چونکہ نچلے طبقے کی تحریک سرگرم نہیں ہے اس لیے ہمیں اپنی کلاس ترک کرنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔
سنگت اکیڈمی کے پاس اپنا دفتر یا سمینار ہال نہیں ہے ۔ہم مانگے تانگے کی جگہ پہ اجلاس کرتے رہتے ہیں۔چونکہ عبدالقادر کے قائم کردہ پروفیشنل اکیڈمی میں اتوار کو کلاسیں نہیں لگتیں لہذاہم دو گھنٹے وہیں اپنی بیٹھک جمالیتے ہیں۔
وہ جو کہتے ہیں ناں کہ: بھیک مانگی ہوئی گھاس سے گھوڑیاں موٹی نہیں ہوتیں،تو ہمارا بھی یہی حال ہے ۔ کبھی چابی وقت پر مل جاتی ہے۔ کبھی اتوار کے دن قادر جان کو نیند سے جگانا پڑتا ہے۔کبھی کبھی تو ہمیں ہنگامی طور پر مری لیب کھلوانا پڑتا ہے ،یا کسی ہوٹل میں نشست رکھنی ہوتی ہے ۔ ظاہر ہے ہم سب کو اس کی تکلیف ہوتی ہے۔
اسی طرح کلاس روموں میں پڑی پلاسٹکی کرسیوں پر پڑی ہوئی گرد کبھی کبھی نازک اندامی کو مشتعل کر دیتی ہے ۔ہم سب دوست کلاس روموں سے خود کرسیاں باہر نکالتے ہیں ، انہیں جھاڑجھا ڑ کر لائن میں رکھتے ہیں ۔ اور جاتے وقت ترتیب سے واپس اپنی جگہ پر رکھ جاتے ہیں۔مگر کبھی کبھی دوستوں کو دوانگلیاں کرسی پر گھسیٹ کر اپنی انگلیوں کو ناگواری سے دیکھنا بہت ناگوار گزرتا ہے ۔
اسی طرح مانگی ہوئی جگہ میں کبھی کبھی خوشبو بدبو بھی کچھ دوستوں کو بے چین کرتی ہے ۔ رکشوں ، اور سڑک پہ چلتے انسانوں کا شور بھی ہم کو ڈس موڈ کرجاتا ہے۔میٹنگ ڈیڑھ بجے ختم نہ کرسکنے کی صورت میں ساتھ والا ملاّ اذان سے پہلے لاؤڈ سپیکر پر زور زور سے پانچ چھ پھونکیں مارنے کی کارستانی بھی کرتا ہے۔۔ کاش ہم چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ہی اپنا دفتر قائم کرسکیں ، اوراسی طرح کاش کہ ہم نچلے طبقے پر محنت کر کے وہاں سے دانشور پیدا کرلیں!!۔
چنانچہ سنگت اکیڈمی آف سائنسز کا ماہانہ ’’ پوہ زانت‘‘ دو ستمبر 2018کوپروفیشنل اکیڈمی کوئٹہ میں منعقد ہوا۔
ہزارہ دوستوں، علی تورانی، علی ہمدم، شاہد طوفانی، مصطفےٰ ابجانی ، اور رازق کو ہزادکی آمد پر ہم ،سب سے زیادہ خوش ہوئے۔ اس لیے بھی کہ ہمیں اپنے اِس یقین کا ثبوت ملا کہ تاریک وطویل ترین دہشت گردی سے بھی انسان کی انسانیت یعنی تخلیقیت کا گلہ نہیں گھونٹا جاسکتا ۔ اِن دوستوں نے پتہ ہی نہیں چلنے دیا کہ اس اقلیتی برادری کے ساتھ کیا کیا آسمان گرادیے گئے۔ ایسی خوبصورت اور مستقبل بین شاعری کی کہ دل خوش ہوا۔
سنگت کے بار بار کے فیصلوں کے باوجود کہ اجلاس مقررہ وقت پر ہی شروع ہوگا ،ہمارایہ اجلاس 20،25منٹ کی تاخیر سے بسمِ اللہ پڑھ اور سن کرشروع ہوا ۔
ڈاکٹر بزنجو اجلاس کی کارروائی کی شروعات دوتین بمباٹ قسم کے شعر پڑھ کر کرتا ہے۔ اور وہ ایسا یوں کرتا ہے جیسے شعر کے الفاظ ایک بزنجو سے نہیں بلکہ ایک پلاسٹکی چینی کھلونے سے ادا ہورہے ہوں۔ اُس کے چہرے کی شاملات اور سٹیلائٹس الفاظ کے زیر وبم کے ساتھ ٹیڑھے سیدھے ہوتے رہتے ہیں مگر اس شریف آدمی کا تو پوراجسم شعر کی سنگت میں ڈول ڈول جاتا ہے ۔بزنجو ڈوب کر شعر پڑھتا ہے ۔ بالخصوص ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب کو پڑھتے وقت تو اُسے جن پکڑتے ہیں۔ چہرہ سرخ پڑتا ہے، آنکھیں گیلی ہوجاتی ہیں، اوپر کی پلکیں بوجھل ہو جاتی ہیں ، اور جسم کے سارے بارہ بند شعر پہ مرکوز ہوجاتے ہیں۔ ہم سب کے دعووں کے باوجود میرا خیال ہے کہ اس خطے میں عطاللہ بزنجو ہی ساحر لدھیانیوی کا سب سے بڑا مرید ہے۔اور بنیاد پرست مرید۔
ساحر وجالب خوانی میں اس کایہ خلوص ،تلفظ کے ، تذکیر وتانیث کے، اور ادائیگی کے، اسرار و رموز کے چھکے چھڑاتا آگے بڑھتا ہے ۔
ڈاکٹر بزنجو نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، کچھ باتیں بطور غرض وغایت سنگت اکیڈمی اور اس اجتماع کے بارے میں بتائیں اورصدارت کے لیے سنگت اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر ساجد بزدار ، اور نائب سرابرہ پروفیسر جاوید اختر کو سٹیج پر بٹھایا۔پھر اکیڈمی کے تعارف ، اس کی تاریخ اور کارکردگی کا خلاصہ بیان کرنے اور ممبران کے سوالات پر مشتمل اِس حصے کے لیے کارروائی بزدار صاحب کے حوالے کر کے وہ ہمارے ساتھ عوام الناس میں آن بیٹھا ۔
چونکہ جدید ترقی ہماری روایتی محفلوں مجلسوں کو ہڑپ کر چکی ہے ۔ اب سماج منہ سے نہیں لاتوں لاٹھیوں بموں سے گفتگو کرتا ہے ۔ اس پس منظر میں انسانوں کاکوئی اکٹھ اجتماع ہو تو بولنے سننے کو ترس جانے والے لوگوں کی عید ہوجاتی ہے اورمجمع میں شریک ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہر صورت اپنے خیالات کا اظہار کرے ، بولے۔ منتظمین کو اندازہ تھا کہ دوست بہت سارے سوالات پوچھیں گے اس لیے بزدار صاحب نے اپنی تعارفی معروضات انتہائی مختصر رکھیں۔
اُس کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا:۔
’’ سنگت اکیڈمی آف سائنسز ایک اچھے معتبر انسان کی طرح اپنا شجرہ رکھتی ہے۔ اور اچھی اولاد وہ ہوتی ہے جو اپنی اس تنظیم کے شجرہ نسب کو نہ بھولے ، وہ اس کے نظریہ اور فکر کو بار بار دہراتی رہے۔
سنگت اکیڈمی بلوچستان میں 1920 میں عبدالعزیز کرد کی قائم کردہ تحریک کی اولاد ہے ۔اُس زمانے میں اُس کا نام ’’ینگ بلوچ‘‘ تھا۔ یہ ایک نیم سیاسی نیم سماجی اور نیم ادبی تنظیم تھی ۔ بعد میں ’’ینگ بلوچ‘‘ فکری اور افرادی وسعت پاگئی اور پھراس تنظیم کا نام ’’انجمن اتحاد بلوچاں‘‘ پڑ گیا۔
نو سال بعد 1929میں عوام کا ایک اور ہونہار بیٹا یوسف عزیز مگسی، کرد کے اِس قافلے میں آن ملا۔ اور پھر بڑا اچکزئی صمد خان اس جوڑی کوتکون بناتا اس میں شامل ہوا۔تحریک نے سیاسی پارٹی کی صورت اختیار کی ۔اس کا نام ’’آل انڈیا بلوچ کانفرنس ‘‘ہوا ۔ عبدالصمد اچکزئی چیئرمین اور یوسف عزیز مگسی نائب چیئرمین۔ تین سال تک اس پارٹی نے ہزاروں لوگوں کوکامیابی سے سیاسی بنایا۔ دو بڑی سالانہ کانفرنسوں میں عوام الناس سے سو کے قریب روشن خیال اور بنیادی نوعیت کی قرار دادوں کی منظوری لی ۔
ذرا غور سے سنگت اکیڈمی کی تحریریں تقریریں اور قراردادیں دیکھیے آپ کو اس میں آل انڈیا بلوچ کانفرنس کی اولاد ہونے کے جینز ملیں گے۔
۔1949میں اِس تکون کوبے شمارنئے ساتھیوں کے میسر ہونے سے اپنی ہیئت بدلنی تھی۔ اب انجم قزلباش ،کامل القادری، عین سلام ، گل خان نصیر، رفیق راز اور آزاد جمالدینی کے بزرگ ومقدس نام سامنے آئے۔ بلوچ کانفرنس کے نام نے بھی خود کو بدل دیا ۔ اب یہ بزرگ پراگریسورائٹرز ایسوسی ایشن کے نام سے کام کرنے لگے، یہ 1949کا سال تھا۔
سفر جاری رہا۔ ایک سال کے اندر اندر پرچم ،ہماری سنگت اکیڈمی کی بنیاد رکھنے والے عبداللہ جان جمالدینی ، ڈاکٹر خدائیداد اور کمال خان شیرانی نے تھام لیا۔ تنظیم نے مقامی معروض کو سمجھ کر اپنی کوکھ سے دو تنظیموں کو جنم دیا: ’’بلوچی زبان وادبہ دیوان‘‘ اور ’’پشتو ٹولی ‘‘۔ آج کی ہماری SAS اُسی پشتو ٹولی اور بلوچی زبان وادبہ دیوان کی گرینڈ چائلڈ ہے۔
۔1954میں پاکستان بھر میں روشن فکرپارٹیوں تنظیموں اور ایسوسی ایشنوں پرپابندی لگ گئی اور دائمی بنیاد پرست ریاست، بھرپور طاقت کے ساتھ ہمارے اکابرین پر ٹوٹ پڑی۔ دس برس تک ساری سیٹو سنٹوئی، ذہنیت ، لاٹھیوں کی صورت جیلوں کی سٹراند میں ہمارے نجیب ساتھیوں کی پیٹھوں پر اپنے نعرے ثبت کرتی رہی۔ہماری ٹوٹی کمر کہیں جاکر 1967میں جڑی تو ہم اب ’’عوامی ادبی انجمن‘‘ کا نام دھار چکے تھے۔ہمارا گل خان نصیر قیادت کر رہا تھا۔
۔1986میں قافلے کا تسلسل ایک بار پھر بلوچستان میں PWAکے نام میں ڈھلا۔ اور تین برس بعد یعنی (13اگست 1989میں)یہی تنظیم ’’ لوز چیذغ‘‘ بنی۔ صدر سلطان قیصرانی ، جنرل سیکریٹری شاہ محمد مری اور خزانچی صبادشتیاری۔ اور سرپرستِ اعلیٰ ماما عبداللہ جان جمالدینی ۔ ملک فیض محمد یوسف زئی ، نادر کمبرانڑیں اور ڈاکٹر خدائیداد ہمارے مہمانانِ خصوصی ہوا کرتے تھے۔
چار برس تک زبردست سرگرمیاں کرنے کے بعد مارچ1993میں ہم ایک بار پھر ، پروفیسر خلیل صدیقی کی قیادت میں PWAکا اپنا نام اپناتے ہیں ۔ اب کے ہماری کابینہ یوں تھی۔
سرپرست اعلیٰ ۔ پروفیسر خلیل صدیقی
سرپرست ۔ پروفیسر عبداللہ جان
صدر۔ ڈاکٹر خدائیداد
جنرل سیکریٹری ۔ سید امیر الدین
خزانچی۔ شاہ محمد مری
ہماری ایگریکنو کمیٹی میں نادر کمبرانڑیں، بہادر خان رودینی، اورمحمد سرور جیسے بڑے لوگ شامل تھے۔
چار سال بعدیعنی1997میں PWA کی کوکھ سے موجودہ سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ولادت ہوئی۔ایسی اکیڈمی جو ینگ بلوچ ، انجمن اتحاد بلوچاں ، بلوچ کانفرنس، PWA ،پشتو ٹولی، بلوچی زبان وادبہ دیوان ، اور لوز چیذغ کی تسلسل ہے
یوں سنگت اکیڈمی کوتنظیمی صورت اختیار کیے22برس ہوچکے ہیں۔ ہمارا مقصد خطے میں تمام سکالرز کی حوصلہ افزائی کرنا ، تحقیق پر زور دینا ، محنت کشوں اور خواتین کی تنظیموں سے تعاون کرنا ،قومی زبانوں اور ثقافتوں کا تحفظ کرنا، حقیقی جمہوری تحریکوں سے روابط قائم کرنا اور انسان دوست اور روشن فکر ادبایبوں دانشوروں کی تنظیم سازی کرتے رہنا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر بزدار کے ان تعارفی کلمات کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔
سب سے درشت لہجے والا سوال قاسم شاہ کا تھا کہ سنگت اکیڈمی کے پاس عوام نہیں۔ مزدور کسان نہیں۔کوئی جلسہ جلوس نہیں ، کوئی پکڑ دھکڑ نہیں۔
جواب میں ڈاکٹر بزداربولا:
’’ سنگت اکیڈمی آف سائنسز ایک سیاسی پارٹی نہیں ہے۔یہ ایک علمی، ادبی اور تحقیقی ادارہ ہے ۔ہم سمینار ، ادبی تنقیدی نشستیں اور مشاعرے کرتے ہیں ۔ ہم ادبی ، سماجی ، معاشی وسیاسی موضوعات پر مہمانوں کے مقالے اور لیکچرز سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم روشن فکر کتابیں چھاپتے ہیں۔ بالخصوص ہم انٹرنیشنل کلاسیک کے تراجم بلوچی، براہوئی اور پشتو میں کروا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اب تک ہماری62 کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں33لوگوں کی لکھی اور29 انٹرنیشنل کلاسیک کے تراجم کی کتابیں شامل ہیں۔
لوہے کو لوہا اور نوشکی کو نوشکی جواب دے سکتا ہے ۔ قاسم نوشکوی کے سوال کے جواب میں جیند خان جمالدینی نوشکوینے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ سنگت اکیڈمی شعوری فیصلے کے تحت مستقل طور پر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف حزبِ اختلاف کی تنظیم رہے گی ۔
دوسری اہم بات اس نے یہ بتائی کہ SASس کی ترجمانی کے لیے ہم ایک ماہنامہ سنگت نکالتے ہیں۔ یہ رسالہ اب اپنی مسلسل اشاعت کے 22ویں سال میں داخل ہو رہا ہے۔
نیز،سنگت اکیڈمی آف سائنسزنے ایک یونیورسٹی کی طرح مختلف شعبوں کی فیکلٹیاں بھی قائم کر نے کا کام شروع کر رکھا ہے ۔ اب تک ہم سنگت کی ایجوکیشن فیکلٹی قائم کر چکے ہیں جو ہمارے اُس ڈاکو منٹ کی روشنی میں کام کرے گی جسے ڈیڑھ سال کی محنت کے بعد ہم ’’آلٹرنیٹ پیپلز ایجوکیشن پالیسی ‘‘کے نام سے چھاپ اور بانٹ چکے ہیں۔
ہم ایک عوامی متبادل کلچرل پالیسی ڈرافٹ کرنے کے کام میں سرگرمی سے جتے ہوئے ہیں۔ SAS کی کلچر فیکلٹی اسے مرتب کر رہی ہے۔ جو نہی کلچر پالیسی ہمارے اپنے اداروں سے منظور ہوکر دیگر علمی ادبی فورمو ں سے پذیرائی حاصل کر کے آخری شکل اختیار کرے گی ہم اُسے شائع کر کے اس کی روشنی میں کام کریں گے۔
جیند خان نے بتایا کہ مستقبل میں، بہت عرصہ بعد جو نہی ہماری capacity اجازت دے تو ایک پولٹیکل سائنس کی فیکلٹی بھی قائم کی جائے گی ۔SASکی سنٹرل کمیٹی اور جنرل باڈی اس فیکلٹی کے قیام کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔
سرجن اعظم بنگلزئی نے بلوچستان میں ہیلتھ کے شعبے کی مکمل تباہی کا تذکرہ کیا اور سنگت اکیڈمی کی اس سلسلے میں پالیسی پوچھی۔ ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو نے سرجن سے متفق ہوتے ہوئے کہا کہ صحت کے ادارے مکمل طور پر بیٹھ چکے ہیں۔ اس نے کہا کہ سنگت اکیڈمی ایجوکیشن کی طرح ’’عوام کی طرف سے ایک متبادل ہیلتھ پالیسی ’’بھی بنائے گی۔ جس کے بعد اکیڈمی کی ہیلتھ فیکلٹی اس پالیسی کے نکات کے لیے رائے عامہ ہموار کرتی رہے گی اور حکومت کو اس طرف اپنی تمام بدکاریوں ، بداعمالیوں اور غفلتوں کو دوہرانے نہ دینے کی کوشش کرے گی۔
فیکلیٹیاں بنانا اور پالیسیاں مرتب کرنااس لیے بھی اہم ہے تاکہ برسہا برس کی ہلاکت خیز جدوجہد کے بعد اٹھارویں ترمیم سے جو محکمے صوبوں کو دیے گئے انہیں رول بیک کرنے کی سازشوں کو روکا جاسکے۔ صوبائی حکومتیں اِن محکموں کے لیے اپنی پالیسیاں اب تک نہ بنا سکیں ۔ یہی بہانہ بناکر ون یونٹی ذہنیت اِن محکموں کو پھر سے چھیننے کی کوشش کرے گی۔
پروفیسر رحیم بخش مہر کا مشاہد ہ تھا کہ اکیڈمی بلوچی زبان کے ادب اورادیبوں شاعروں کے معاملات پہ کم توجہ دیتی ہے۔
بزدار صاحب نے پروفیسر صاحب کو بتایا کہ سنگت اکیڈمی ہر سنٹرل کمیٹی میٹنگ ، جنرل باڈی ، پوہ زانت اور اپنی دیگر اجتماعات میں بلوچستان اور بلوچ مسائل و معاملات پر قرار دادیں کرتی ہے۔۔ ساتھ ہی اُس نے عہد کیا کہ سنگت اکیڈمی اور زیادہ توجہ اپنی سرزمین کے زبان دانوں شاعروں اور ادیبوں کی بہبود کی جانب دے گی۔
ایک سوال کے جواب میں بتایا گیاکہ سنگت اکیڈمی آف سائنسز بلوچستان کی سطح پر ایک متحدہ ادبی فیڈریشن کے قیام کی طرف سست رفتاری ،مگر استقامت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔ہم بلوچستان کی سطح پر ادیبوں شاعروں دانشوروں کی تنظیموں کی ایک وسیع کنفیڈریشن بنانا چاہتے ہیں۔ ایسی کنفیڈریشن جو کہ صوبہ بھر میں موجود ہو اور ہر جگہ کے ادب پاروں کا تمغہ اپنے سینے پہ سجائے ادب اور ادیبوں کی خدمت کرسکے۔
ہم نے جمہوری اور روشن فکر تنظیموں کو قریب تر لانے کے اس سلسلے میں نہایت جمہوری راستہ سوچا ۔ وہ یہ کہ ہم مختلف جگہوں پرپہلے ہی سے قائم تنظیموں کو خود میں ضم کرنے کی حرکت نہیں کریں گے۔ اُن پہ کسی طرح کی بالادستی،قبضہ گیری والا معاملہ نہیں کریں گے۔ نہ ہی وہاں اپنی متوازی تنظیم کھڑی کریں گے۔ طے یہ ہے کہ ہم اُسی تنظیم سے دوستی کے معاہدے کریں گے ۔ہم نے ایسے معاہدوں میں تین شقیں رکھی ہیں۔
نمبر1۔ہم اُس تنظیم کی تاریخی ثقافتی اور خوبصورت نام کو بدلنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے۔
نمبر 2۔اُن کے مالی معاملات سے ہمارا کوئی وسطہ تعلق نہ ہوگا۔
نمبر 3۔ سنگت اکیڈمی ان کے تنظیمی امور سے کوئی غرض نہ رکھے گی۔ ہمیں کوئی غرض نہ ہوگی کہ اُن کے الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں ،یااُن کے ادارے فعال ہیں یا نہیں۔
عام تاثر یہ ہے کہ صوبے بھر میں قائم ادبی تنظیموں کی اکثریت یک نفری یا یک خانواد ہی ہے ۔اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ ظاہر ہے چھوٹی جگہوں پر بہت بڑی یا بہت جمہوری ادبی تنظیم کا سوچنا آئیڈیلزم ہے ۔ اب تنظیم خواہ کچھ افراد والی ہے یا زیادہ افراد کی، اصل معاملہ توادب اور ادیبوں کے مسائل کا ہے ۔ جوکہ پورے صوبے میں مشترک ہیں۔
ایک ترقی پذیر معاشرے میں ویسے بھی روشن فکر ادارے شکل پذیری کی طرف ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔ اور ہر جگہ سماجی معاشی ترقی کی مطابقت میں تنظیمیں ارتقائی سطح پر ہوتی ہیں۔ یہ بہت tricky صورت حال ہے۔ لہذا ایک بہت ہی براڈ بیسڈ ، جمہوری اور ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن ہی واحد صورت ہے ۔اوریہ بہت ٹائم لینے والا پراسیس ہے۔
چنانچہ سنگت اکیڈمی ’’بلوچستان ادبی فورم ‘‘نامی اُس کنفیڈریشن کی ممبر ہے جس میں صوبے کی چودہ دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ژوب اور سکام ادبی اکیڈمی کے ساتھ ہم دوطرفہ دوستی کے معاہدے کر چکے ہیں ۔
پاکستان کی سطح پر ہم پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کا حصہ تھے ،ہیں،اور رہیں گے۔ یہ بات سنگت اکیڈمی کے خون میں شامل ہے ۔بیچ میں البتہ مرحوم محمد علی صدیقی نے راحت سعید کے کہنے پر یہاں ایک متوازی تنظیم کھڑی کی تھی۔جو تقریباً چار پانچ برس تک خلائی بلائی مخلوق کے اڈوں پہ جا کر اِس پاک نام پر مشاعرے کراتی اور عوض میں انگور کی ملائی پیتی رہی۔ محترم مسلم شمیم، سلیم راز اور دیگر سنیئر لوگوں کو اس سارے عمل کا پتہ بھی تھااور وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس ملائی نوشی کا حصہ بھی رہے۔ مگر بہر حال بہ یک وقت جب تین شہروں سے رنگین روزنامہ جاری ہوا تو اگلے نے اس بہت ہی استعمال شدہ کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ باقی ماندہ صاحب سے جب بھی اس شرمندگی کی بات چھیڑو تو وہ اپنے سو ناولوں کا قصہ چھیڑ کر موضوع ہی بدل دیتا ہے ۔ میں حیران ہوں کہ سیتا تو راونڑ کے پاس رہی تو رام اِس دس سال کو وصال میں گنے گا، یا ریکارڈ درست کرنے کے لیے اس دس سال کو SASکے نام کرے گا۔
ہم پہلے بھی کہتے تھے ، اب بھی کہتے ہیں کہ یہاں سنگت اکیڈمی آف سائنسز ہی PWAہے۔ ہمارے منتخب عہدیدار آٹو میٹک طور پر PWAکی بلوچستان شاخ کے عہدیدار بھی ہیں اور پاکستان کی سطح پر قائم PWAکی مرکزی کمیٹی کے رکن بھی۔
واضح رہے کہ آج محترم احمد سلیم اسلام آباد سے اور پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد کراچی سے اپنی ہی PWAبلوچستان شاخ یعنیSASکے پوہ زانت میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔
محترم محمود ایاز کا مشاہدہ تھا کہ گوکہ سنگت اکیڈمی ادیبوں کی بہبود کے لیے بہت کچھ کرسکتی ہے ، مگر اُس کی توجہ اِس طرف بالکل نہیں ہے ۔ بیمار اور بوڑھے رائٹرز کے علاج معالجے سے لے کر اُن کی کتب کی اشاعت وڈسٹری بیوشن تک کے مسائل کو ریاست سنجیدہ نہیں لیتی۔ ہمیں ادیبوں کے لیے صحافیوں جیسی سہولتوں کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔
صاف لگ رہا تھا کہ اس طرف اکیڈمی نے کوئی خاص کام نہیں کیا۔ یقین دہانی کرائی گئی کہ ہم باقاعدہ ایک مستقل فیکلٹی اس بارے میں بنائیں گے جو ادیبوں کے معاملات پر سرکار کی توجہ مبذول کرواتی رہے۔
سوال جواب کا سلسلہ تھما توسنگت اکیڈمی کی لیڈر شپ میں دوسرے نمبر کے دوست جاوید اختر نے مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کرائیں۔
۔1۔ آج کا اجلاس پشاور، مستونک اور کوئٹہ میں دہشت گردی کے مذموم واقعات اور دھماکوں کی پرزور مذمت کرتا ہے۔
۔2۔ عوام کی قربانیوں سے جو آئینی حقوق حاصل کئے ہیں جن میں اٹھارویں ترمیم بھی شامل ہے ، ان میں کمی یا ان کا خاتمہ ناقابلِ قبول ہوگا ۔
۔3۔اٹھارویں ترمیم سے صوبائی محکموں کو جو اختیارات حاصل ہوئے ہیں ان پر عمل درامد نہیں ہورہا کیونکہ کسی صوبائی محکمے کے پاس اپنی پالیسی نہیں ہے ۔ آج کا اجلاس اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے کہ ہر صوبائی محکمے کو اپنی پالیسی مرتب کرنی چاہیے اور اس پالیسی کو لاگو کرنا چاہیے۔
۔4 ۔آج کا جلاس روز افزوں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، افراطِ زر اور بے روزگاری کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے ۔
۔5۔ آج کا اجلاس بلوچی زبان کے مشہو ر دانشور اکرم صاحب خان ، انور صاحب خان اور غوث بہار کی ادبی خدمات کو بہ نظرِ تحسین
دیکھتا ہے اور ان کی وفات پر اظہارِ افسوس کرتا ہے ۔
اجلاس کے دوسرے سیشن کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر منیر رئیسانی کے سپرد کر دیے گئے ۔مشاعرہ کی صدارت پشتو زبان کے مشہور دانشور اور شاعر جناب محمود ایاز نے کی ۔ مہمانِ خصوصی بلوچی زبان کے شاعر ومحقق اور بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچی کے پروفیسر اے ۔آر داد اورہزارگی زبان کے نامور شاعر و ادیب علی تورانی تھے ۔یہ ایک کثیر اللسانی مشاعرہ تھا ۔ جس میں اردو، بلوچی ، براہوئی ، ہزارگی ، فارسی ، پشتو ، سندھی اور پنجابی کے شعراء شامل تھے جو اپنی اپنی زبانوں کی نمائندگی کررہے تھے ۔
منیر رئیسانی نے اپنے ایک تازہ غزل کے ان اشعار سے باقاعدہ کثیرلسانی مشاعرہ کا آغاز کیا :۔
گلِ نایاب کی مہکار لئے پھرتا ہوں
یہ جو میں خواب کے انبار لئے پھرتا ہوں
یکے بعد دیگرے تمام زبانوں کے نمائندہ شعراء اپنا کلام پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔ ان شعراء میں:۔

رحیم مہر، مصطفیٰ الہانی و دیگر شامل تھے ۔

اردو:۔
محسن شکیل، منیر رئیسانی، فیاض تبسم، بلال اسود، وصاف باسط۔

غزل
بلال اسود

بس خلا سے ہی صدائیں ہوئیں رد
اس لئے ساری دعائیں ہوئیں رد

ہو گئیں ساری کتابیں ردّی
علم و دانش کی کتھائیں ہوئیں رد

وہ جو پھوکٹ میں جئے اور مرے
ان کے جسم اور چتائیں ہوئیں رد

میز پر پیش ہوئی جب درخواست
حبس دفتر میں ہوائیں ہوئیں رد

شام پر شامِ ابد تھی بھائی
کتنی بہنوں کی ردائیں ہوئیں رد

ہم نے جب تول گھٹایا صاحب
اپنی قسمت کی گھٹائیں ہوئیں رد

عشق میں ردّ و بدل تھا مشکل
حسن کی کتنی ادائیں ہوئیں رد

بلاک ہونے کے تھے امکان بہت
خط پہنچتے ہی خطائیں ہوئیں رد

خیر کی خیر نہیں تھی اسود
اور نہ بدلے میں بلائیں ہوئیں رد

ڈاکٹر اعظم بنگلزئی

نیندسے اٹھ کے بس اک بار ذرا دیکھو تو
گھن گرج کیسی ہے اس پار ذرا دیکھو تو

ذرد پتوں کو اڑاتی ہوئی یہ تیز ہوا
کیا خزاؤں کے ہیں آثار ذرا دیکھوتو

لذتِ درد سے اپنی توشناسائی ہے
تم کہاں سمجھو یہ اِسرار ذرا دیکھو تو

چاہتیں بھیک میں ملتیں تو بتاتے ہم بھی
بن کے پھرتے ہو خریدار ذرا دیکھو تو

تلخ لہجہ ہے تو ماتھے کی بھی شکنیں گن لو
کیوں کوئی خود سے ہے بیزار ذرا دیکھو تو

دردِ دل ہے کہ جو آنکھوں سے چھلک پڑتا ہے
بندہیں کیوں لبِ اظہار ذرا دیکھو تو

یونہی ہاتھوں کی لکیروں میں اسے مت ڈھونڈو
تم سے قسمت نہ ہو بیزار ذرا دیکھو تو

تم نگاہوں کی تبسم کو تو محسوس کرو
بج اُٹھیں گے ترے سب تار ذرا دیکھو تو

کسر کٹا کسِ کا کسے بھون کے رکھا کس نے
کس کے سر سے گِرا دستار ذرا دیکھو تو

ہر طرف خون میں ڈوبی ہوئی شامیں اعظم
کس قیامت کے ہیں آثار ذرا دیکھو تو

براہوئی:۔
اعظم بنگلزئی ، افضل مراد، وحیدر زہیر، حسن ناصر۔
بے کارنگا دردنا
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی

خُر خوسنگا ااونا سنگت ھنیہ نی
عادت ء اَوناکرونڈک ، کے امر
تو سوتے دیھون تے آ آوانک اک
بس ڈغارے یکا کو نڈک کے امر
پوٹ اونا ٹوپ پائے خان اس
ماس ایلوتا لچر مذدک کے امر
پنت اے نا ھیتا او پدامہ الیک
ھیل اوڑا تومے ، ترخک کے امر

پرھیز
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی

مس ایاتہ چُنا اس اوخنا
جوانو باخوسے کن ہم او سکک اَک
زندہ دگرمانہ او ذال آستا
بے خوراکی آن چڑہ اوھکک اک
بلہ غاتا دوتہ آن پاریز د او
یخ انگا دیتے کہ ہم اوپگ اک اک
ھلے بوپاء دکہ غاک اود ھلکو کو
او نرو آن ڈغارک الگ اگ

اعظم بنگلزئی

غزل

نا اُست ہم نے آن بار مرو سُس تو جوان اس
نی اُستِ دا اُستا تخو سُس تو جوان اس

نگاہ تو شاغاس نی ھڑپ پس موتے
نے آ ہمراٹ ھُرو سُس تو جوان اس
دو دینگ اٹ نمایارہ غالیونہ نن
تو ارااس ننے نی کروسُس تو جوان اس
کسرک ہم صباہیج متہ وسہ نے آن
نی دوٹی دا دُو ء ھلو سُس تو جوان اس
وفاء تینا دوتے اٹ پُتک تسپوس
دا اُست ہم ھندن ھشو سُس تو جوان اس
کریس انتے گیرام نی ہر گڑا
ذرس نی پدی چک خلو سُس تو جوان اس
سما ء اس نے اعظمؔ کہ نی باء تروسبک
نی دا گو اَثق پد سلو سُس تو جوان اس۔

آزادر اجی ء نظم
حسن ناصر

نی جہدء سے کہ سنگت
نی سوب ء سے کہ سنگت

ہر فیس گام ء تینا
نی مزلا تا کنڈا

راہی روان پُر عزم

داپُر پت آکسر تیٹ

تیپسہ دم دری ء
فوفان تو ہمسری ء

دلدستہ آکاٹم ء نا
نا عشق خود سری ء

خن تیٹی موت ننا نی
خن تے خلیسہ کاسہ

پاسہ جہان ئسے نی
ای قوم ئسے ناخواجہ

رنگ تسونُس دتر تیٹ
نی جہد کاروان ء

خیسُن دتر نا بے مٹ
تمے اگہ ڈغارا

نا کاروان نا سنگت
بے سوب امر مروئے؟

ناپُرخمارا خن تیٹ
واسوب ء سے ناڈس ء

داننک مُر غن انگا
نا جہد سوگو انگا

ڈے ء وسم کروئے
گوربام ء سے بتوئے

بلوچی:۔
اے ۔ آر۔ داد، رحیم مہر، عبداللہ شوہاز۔

رحیم مہر بلوچ

ہزار تہر و دروشم انت ہزار قصہاں منی
جہان ئے گنجیں سینگا پتار قصہاں منی
تیاب ئے چولے آ پُر شاں گوں جمبراں سفر کناں
اے کور و جو و درچک و دار قصہاں منی
چہ تئی گمان ئے ساہگا ہماقلی اِنت منی بساط
ہتم منی شبین و رنگ، بہار قصہاں منی
بہشتیں نیادے آ زراں ودار ئے دوز ہیں شپاں
زہیری زند ئے ستکگیں دیار قصہاں منی
اے قرنی ئیں سفر منی گشئے دو گام ئے قصہ اِنت
غذاب ئے محشریں پڑا شمار قصہاں منی
تومہر ئے دوداں سر پدئے تہ عشق بے زبان بیت
وتی دلا تو محر میں بدار قصہاں منی

تہاری جنگلے آ مانتر ینیت
رحیم مہر بلوچ

منی مچانی دنیا آ
ہزاراں رنگ تالان انت
ہزار دروشم
من جیڑاں،
آنہیں اہد ئے حصار ئے غم
منی و اہانی گویاکاامانت کنت
ملامت کنت۔۔
گلاب و ناز بوہیں واہگ ئے چہراں،

سماراں ، اوست ئے سرکشیں
تہاری جنکلے آ مانتر ینیت
زہیری مولمے ساچیت
منی چماناں بادینیت
ہزاری دروشم و تہراں
منی وابانی گویاکا
وتی اہدئے حصار ئے قید ا پرینیت
تہاری جنگلے آ مانتر ینیت

 

غزل
عبداللہ شوہاز

تماھ ئے بُلم بہشتا گزالے آ سستگ
کماتہ زندگی من پلّے ئے گورا بستگ

منا را بژن نہ بیت پہ وتی ابیتکی آ
دلا کہ تومنی منگیرے واہگ ئے بستگ

اے داگ و زیماں کجا موسمے مئے کنت درمان
جگرگوں مولم ئے زہر آپاں سد براں گرستگ

چے پیما چیر بئے دنیا ئے دیدگاں قہریں
شوہاز ئے ارساں تئی گوناپا کورجو ہے رستگ

غزل
عبداللہ شوہاز

وتی داتگیں وعدہاں من نہ نشتاں بہل کن منا
وتی جند ئے ترسا چہ وت دُور تتکاں پہل کن منا

تہ زوراکیں وھد ئے مسافر نہ جلّیت منی ساہگا
زمانگ اگاں من چہ تو دُورسستاں پہل کن منا

ترا اِشت تہنا گوں ارسیگیں چماں امل سردر ا
پہ چریبیں دپارے درانڈیھ ئے رفتاں پہل کن منا

وتا شادہانی مراداں چین و منا را شموش
مں ہر دیں جہانا پہ تو سر نیا تکاں پہل کن منا

مہ گرے روچ و شپ کہ وتی دیدگاں من ملامت باں
گڑا ساہ ئے چنگل اگاں درلگشتاں پہل کن منا

او دنیا! ترا گوں تئی رسم و دوداں ملامت کتگ
حدا ئے سر ا بخت ئے گلہ نہ مُشتاں پہل کن منا

پشتو:۔
محمود ایاز، عابدہ رحمان۔

غزل
محمود ایاز

شاید پہ ہغہ گلدستہ کی رانہ پاتہ شوی
نخسبنی دی ٹوی پہ بستہ کی رانہ پاتہ شوی

بیا ستالہ خیالہ سرہ چرتہ بھر وَ وتمہ
اوتنہائی پہ کمرہ کی رانہ پاتہ شوی

داچی ہیس نہ وینمہ تورہ شپہ شوہ جو ڑہ پہ ما
ستر گی شاید ستاپہ کوچہ کی رانہ پاتہ شوی

بیرتہ خالی لمن راستون شوم لہ گودرہ سخہ
ھیلی ، پہ ہغہ تماشہ کی رانہ پاتہ شوی

ستا خوژی ہیلی او ایازہ ستا شیر ینی ٹپے
چرتہ دیادپہ جزیرہ کی رانہ پاتہ شوی

غزل
عابدہ رحمان

زما ژوندون خود افسانو نہ ڈک او
تہ حقیقت پہ کبنی دکومہ راغلی
زہ پہ مینہ کبنی دانتہا یم قائل
تہ پہ نیمگڑے مینہ سہ لہ راغلی
زما غمونہ یو معیاروی یارا
تہ پہ سودا دکوم غمونو راغلی
ماشرابونہ دعشق داسی سکلی
ساقیاتہ وایہ، دکومہ راغلی؟
عشق زہیر دی کڑم ناتہ سہ دخدے
اوس نند ارے لہ میی، تہ سہ لہ راغلی

غزل
عابدہ رحمن

کشکول پہ غاڑہ کڑمہ اوم دمینی
زہ نفرتونہ پہ عیوض کبنی گٹم
زہ خود عشق پہ اسویلو کبنی سوئزم
زہ شو گیری کوم، زہ حلو یارونہ کرھتم
زہ د جداغوندی موسم مارغہ یم
پہ ہر موسم کبنی بہارونہ گٹم
دنیا دی ٹولہ د رنگو نو رنگ وی
زہ خو پشتون یم پر ھرونہ گٹم

پنجابی: ۔
شہزاد شیخ۔

شہزاد شیخ

دُکھ اے اجکل بوہتا اے
بکھ دا دلدل بوہتا اے
لوک نمانے لبدئے نئیں
ہر کوئی کھو چل بوہتا اے
رونہ بیٹھیں اج کِدرے
اکھ وچ کجل بوہتا اے
رہ سکنا واں اندر اپنے
قدتوں کمبل بوہتا اے
قید تے ساڈی تھوڑی اے
سوچ داسنگل بوہتا اے

ہور کسے نال کی لڑئیے
گھر وچ دنگل بوہتا اے

اک دوجے نوں کھان ڈیارے
شہر کی جنگل بوہتا اے

جنیا نئیں سوکھا شہزادؔ
جیون گجُل بوہتا اے

***

ھورا جیا جے حوصلہ کردا
ذونگے پانیاں دے وچ تردا

ہوجاندا اور گھر دامالک
وکپڑے دے وچ کندنہ کدونا

جدے نال وی نیکی کیتی
خوف رھیا مینوں اودھدے شرک

دُرکے کی جنیا شہزادؔ
جیڑا دُردا اومیو مردا

خبر مینوی ناں کیسے نے دسی نئیں
کالی بدلی آئی سی پروسی نئیں

میرے ہاسے بانیویں رُس کے لرگئے نیں
توں وی لگدا بڑے جراں تو میسی نئیں

شورے کیزی نے نیڈ وسان اے
ایتھے تے نیں سکھن ساگ تے لسی نتیں

شھر لوگے اباد کئی نے ہوگئے نیں
دل دی بستی اجڑی اے تے وسی نتیں

خورے لوکی حال میرا کیوں پچھیدے نہیں
اپنی یبڑتے ہو کسے نوں دسی نئیں

ملنا جاہویں سانیوں نے سورستے نہیں
ایڈی وی کوئی جان شکنجے ھسی نیں

اُچے شملے والے اپنی خیر منان
اساں تے سرتے کوئی پگڑی کسی نئیں

لکھاں تبصرے جاھن واے نیں پن شہزاد
پہلے وانگوں سٹھ ستر یا اسی نئیں

سندھی:۔
شبیر احمد موج
ہزارگی :۔
علی تورانی، علی ، ہمدم، شاہد طوفانی، مصطفےٰ ابجانی ، رازق کو ہزار۔

غزل

علی ہمدم

مولوی بیہ واز کو ، تو کیتابی چن سدمسلسل
پورس رپال کندم از تو، از خرابی چن سد سال

پگ او لوسی خوش باور، برچی خود خوتئی تیر کد
قدادیسی بے بونیاد ، قد سوابی چن سد سال

از ادیس و آشورا ، از زکات وخومسی خلق
خسکر نکو بیدی ، توایسابی چن سد سال

تو دیگر ندی ایدغئید۔ اوکمی کوفری مردم وہ
کو الگی شودہ بے زار، از جینابی چن سد سال

مردوھار کیسدو زامد، دشت وکو بورگ پور گول
تو چیکہ لکدی مونٹی ، پگ گولابی چن سد سال

جور شودے تو قد لونگی، جانشین پیغمبر
کول رہ تو دیدے بازی ، قد نیقابی چن سد سال

مولوی بید بازم ، دای اقل وفتیق واز
تیر بیہ تو از حورو، ازئر دبی چن سد سال

***

نیہ کوشتواید غئید دہ دینی خوب
اسنید سئیرہ الئی آئینی خوب

توخمی خوب آسل خوب میدیہ شیجیر
کیسئت اگہ بائسہ بلے زمینی خوب

عید ملن کے لیے مٹھائی تو جیند خان لایا۔ البتہ کیک اور کوک سنگت کے اپنے فنڈ سے مہیا ہوئے، مبلغ 1800روپے پہ۔ہم نے اپنی اپنی سیٹوں پہ ڈسپوزیبل پلیٹوں میں کیک ومٹھائی کھائی اور ڈسپوزیبل گلاسوں میں کوک و سپرائیٹ پی، خدا کا شکر اداکیا اور غیر رسمی باہمی گفت وشنید میں مزید پونہ گھنٹہ لگا کر مانگے تانگے کا ہال خالی کیا۔ اس حالت میں کہ ہماری گھوڑی جسمانی تو نہیں مگر شعوروعلم کے حوالے سے ذرا موٹی ہوچکی تھی۔

Check Also

روایت ، ترقی اور ناسٹلجیا  ۔۔۔ ڈاکٹر منیررئیسانی

ماہنامہ سنگت کوئٹہ کے ستمبر 2018 کے شمارے میں محترم وحید زہیر صاحب اور محترم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *