Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » افسانے ۔۔۔ صنوبر الطاف

افسانے ۔۔۔ صنوبر الطاف

ہم جو روشن سی راہوں میں مارے گئے!! ۔

پاکیزہ کا لونی کی رونقیں آج عروج پر ہیں۔ظاہری رونق اور چہل پہل سے قطع نظر یہ وہ رونق ہے جو اہلِ محلہ کے چہروں پر نظر آرہی ہے۔یہ وہ رونق ہے جو چاند رات پر بچوں کے چہروں پر چمکتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج ان کے قہقہے ساری حدیں توڑ کر نکل رہے ہیں۔اہلِ محلہ جذبات سے بھرے نظر آ تے ہیں،بالکل ویسے ہی جیسے بوڑھا باپ بیٹے کی پہلی کمائی کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے جذباتی ہوتاہے۔اکیسویں صدی کے ایک ترقی پذیر ملک میں یہ اجتماعی اور سچی خوشی نظر آنا حیرت کی بات ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے خطے میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ یہ ساری رات اس تبدیلی کی خوشی میں سو نہیں پائے،بلکہ شاید پلک بھی نہیں جھپکی۔آنسوؤں اور دکھوں کو روند کر یہ کسی انجانی خوشی کو گلے لگانے کے منتظر ہیں۔قاسم آباد کے مکین آج اس بچے کی مانند معلوم ہوتے ہیں جو روتے روتے سوگیا ہے،خواب میں جب وہ رنگ برنگی تتلیاں،پھول اور خوشبو دیکھتا ہے تو نیندمیں قہقہے لگاتاہے اور اس کے آنسو خشک ہوجاتے ہیں۔اہلِ علاقہ بھی شاید کسی خواب میں ہیں۔
علاقے کی ظاہری رونق بھی کچھ کم نہیں ہے۔آرسی ڈی کی پیلی جیکٹوں والے کالے سپاہی ہر جگہ ہاتھ میں جھاڑو کھڑے نظر آتے ہیں۔مرکزی چوک پر آج ایل سی ڈی لگایا جائے گا۔جہاں سارے لوگ مل کر الیکشن سے پہلے اپنے لیڈر کی تقریر سنیں گے۔یہ شوروغل اور ہنگامہ خاص تہواروں پر بھی نہیں ہوتا اور جتنا بڑا اجتماع آج چوک پر ہونے جارہا ہے، ویسا تو عید کی نماز پر بھی نہیں ہوتا۔خادم خان جو چند دنوں میں ہونے والے الیکشن کا نمایاں امیدوار ہے،وہ حالات بدل ڈالنے کا عزم لے کر سامنے آیا ہے۔اور وہ سب جو اپنے حال سے بیزار ہیں،اس کے پیچھے پیچھے ہیں۔یہ علاقہ اس کے حامیوں سے بھرا پڑا ہے۔علاقے کی بیشتر آبادی اسی کے حق میں ہے۔اور جو اس کے حق میں نہیں ہیں ۔وہ اس ’’بدل دو‘‘کے جوش و خروش کو دیکھ کرخائف ہیں۔آج اس کی تقریر سننے کے لیے سارا علاقہ مرکزی چوک پر جمع ہونے کی تیاریاں کر رہا ہے۔عورتوں نے شام سے ہی تیاری شروع کر دی ہے۔آج تو وہ رات کا کھانا بنانے کی ذمہ داری سے بھی دستبردار ہوگئی ہیں۔سب کا ارادہ یہی ہے کہ چوک سے ملنے والی کراچی کی مشہور بریانی کھائیں گے۔نہ جانے تقریر کب ختم ہو۔کون گھر آکر بنائے گا روٹی۔
پیارے صاحب کے مزار کا سائیں بھی آج اسی خوشی میں مست ہے۔ہر آنے جانے والے سے پوچھتا ہے کہ وہ آج ایل سی ڈی پر خادم خان کی تقریر سنے گااور اگر کوئی ہاں میں جواب دے تو اس کی کمر پر زوردار دھموکا جڑ کر کہتا ہے،’’دل خوش کیتا ای۔اپنے سوہنے لیڈر کی تقریر ہے۔سارے جائیں گے اور نعرے لگائیں گے۔‘‘
سائیں کی عمر پچاس ساٹھ کے لگ بھگ ہوگی۔علاقے میں موجود پیارے صاحب کی درگاہ پر رہتا ہے۔یہ درگاہ اس علاقے کی معروف جگہ ہے۔محرم اور ربیع الاول کے دنوں میں عقیدت مند اپنے جلوس یہیں سے نکالتے ہیں۔اور علاقے کے تمام ضعیف الاعتقاد لوگ یہیں سے اپنی بیماریوں اور دکھوں کا علاج کرتے ہیں۔سائیں کی ذات اسی درگاہ سے منسوب ہے۔وہ کہاں سے آیا اور کب آیا،یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔علاقے کے بزرگ بھی اسے بچپن سے جانتے تھے۔درگاہ کے سارے انتظامات اسی کے ہا تھ میں تھے۔بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ اتنے سالوں سے مزار پر رہنے کی وجہ سے وہ بھی مدفن پیر کی طرح مقدس ہوچکا تھا۔اکثر والدین اپنے بچوں پر دَم کروانے آتے تھے۔سائیں کا کہنا تھا کہ وہ خادم خان اور اس کے والدین کو بہت عرصے سے جانتا ہے۔وہ دعا کرنے اکثر اس زیارت پر آتے تھے بلکہ اکثر وہ مبالغہ آرائی میں حد سے آگے چلاجاتا تھا ۔کہتا تھا ،اسی زیارت پر دعاؤں اور منتوں کے باعث فیضان کے والدین کو اولاد کی سعادت حاصل ہوئی۔
شام ہوتے ہی سب نے مرکزی چوک کا رخ کیا۔کوئی پیدل چلنے لگا تو کوئی گاڑیوں میں سوار ہوگیا۔سائیں بھی چوک پر جانے والے ایک جلوس میں شامل ہوگیا۔بے فکری سے نعرے لگاتاوہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔منچلے نوجوان اپنا سارا دھڑ ٹیکسیوں ،کاروں سے نکال کر خادم خان کے حق میں نعرے لگاتے۔ڈیک پر جوش و جذبہ بڑھانے کے گیت لگے تھے۔محلے کا یہ جوش و جذبہ دیکھ کر مخالف پارٹی کے کچھ لڑکوں نے فساد پھیلانے کی بھی کوشش کی لیکن سائیں اور کچھ دوسرے بڑے بزرگوں نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔
دوگھنٹے کی تقریر کے دوران لگائے جانے والے نعروں میں سائیں کی آواز سب سے اونچی تھی۔وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر خادم زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔وہ اس کے منہ سے نکلے ہر جملے پر واہ واہ کرتا۔اس کا جوش جوانوں سے بھی بڑھ کر تھا۔مجمع میں موجود بہت سے لوگ اس سے جوش لے رہے تھے۔تقریر کے بعد جب سب لوگ کھانے پینے کی دکانوں کی طرف بڑھے تو کھمبے کے نیچے زمین پر بیٹھے سائیں کو بھی کسی نے مرغ پلاؤ کی ایک پلیٹ لادی۔جسے وہ بڑی رغبت سے کھانے لگا۔وہ نوجوان جس نے سائیں کو پلاؤ لا کر دیا تھا،اس کے پاس ہی بیٹھ گیا اور اس سے پوچھنے لگا،’’یار سائیں !ایک بات بتا؟تیرا نہ تو کوئی گھربار ہے۔نہ بیوی بچے ہیں۔تجھے ان الیکشن کے معاملات سے کیا۔تو درگاہ پہ بیٹھ،وہاں کی صفائی کر،لوگوں کودعا دے۔کہاں رُل رہاہے۔‘‘
نوجوان کی بات ختم ہوئی تو اس نے دیکھا کہ سائیں اسے لال لال آنکھوں سے گھور رہا تھا۔
’’کیوں بے!!میرا اپنا کوئی گھر نہیں تو کیا یہ ملک بھی میرا گھر نہیں؟یہ لوگ بھی میرے نہیں ہیں؟میرے دل میں بھی سَٹ لگتی ہے جب میں لاشیں اور بندوقیں دیکھتا ہوں۔۔۔سڑکوں پہ خون دیکھتا ہوں۔میرا پیٹ بھر جاتا ہے لیکن مجھے ننگے بھوکے پیٹ نظر آتے ہیں۔جا دفع ہو جا۔اور لے جا اپنے چاولوں کی پلیٹ۔کمینے۔مجھ سے پوچھتا ہے کہ۔۔۔۔‘‘
سائیں کے شورغل سے سارے لوگ جمع ہوگئے اور اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
آخر الیکشن کا دن آگیا۔سارا علاقہ اپنے قریبی پولنگ سٹیشن پر پہنچ گیا۔سائیں بھی شور مچاتا ایک جلوس کے ساتھ پولنگ اسٹیشن پر پہنچ گیا۔پولنگ ایجنٹ نے سائیں کو بتایا کہ وہ ووٹ نہیں ڈال سکتا۔کیونکہ نہ تو اس کے پاس شناختی کارڈ ہے اور نہ ہی ووٹنگ لسٹ میں اس کا نام ہے۔
’’میں یہاں ہی پلا بڑھا ہوں۔جب بڑا ہوا تب سے درگاہ پر ہوں۔سب مجھے جانتے ہیں یہاں۔پوچھ لو ان سے۔بتاؤ انہیں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن ووٹ ڈالنے کے لیے اپنی شناخت کروانا ضروری ہے۔کوئی نام اور پتہ ہونا ضروری ہے۔مجھے بتائیں آپ کا کیا نام ہے؟‘‘
’’سائیں!‘‘
’’اچھا!باپ کا نام؟‘‘
’’یہ تو نہیں پتا مجھے۔‘‘
’’اب اس طرح میں آپ کو ووٹ ڈالنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہوں۔آپ ووٹ نہیں ڈال سکتے۔جاؤ بابا۔‘‘پولنگ ایجنٹ نے ناگواری سے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔
سائیں سے کبھی کسی نے اس لہجے میں بات نہ کی تھی۔کچھ دیر تو اسے اس بات کایقین ہی نہیں آیا کہ وہ اتنے دنوں سے جس کام کی تیاری کر رہا ہے،وہ اس کے لیے اہل ہی نہیں ہے۔کچھ لمحے وہاں کھڑے رہنے کے بعد اس کے پاؤں آہستہ آہستہ بغیر مڑے پیچھے کی طرف جانے لگے۔کل اس نے مزار کے خاکروب کو اپنے کپڑے دیے تھے کہ وہ اپنی گھروالی سے یہ دھلوا کر اور استری کرواکر لے آئے۔اتنے عرصے بعد اس نے پاؤں میں چپل بھی پہنے تھے۔لیکن یہ سب تیاری۔۔۔۔اور سب سے بڑی دکھ کی بات تو یہ تھی کہ برسوں سے اس علاقے میں رہنے کے باوجود اس کی کوئی شناخت ہی نہیں ہے۔۔۔۔’’میں یہاں ہوکر بھی یہاں نہیں ہوں!‘‘
’’ابے!باپ کا نام پتا نہ ہو تو بندہ ووٹ بھی نہیں ڈال سکتا۔‘‘سائیں سارا دن یہی جملہ دہراتا رہا۔اور سوچتا رہا۔
شام کوجب نتائج سامنے آئے اور پورے علاقے میں ہلچل ہوئی تو سائیں کو بھی اپنی کو ٹھڑی سے نکلنا پڑا۔خادم خان جیت چکا تھا۔نوجوان لڑکوں کی ٹولیاں فائرنگ کرتے اور بھنگڑے ڈالتی گھوم رہی تھی۔سب نے سائیں کے منہ میں بھی مٹھائی ڈالی۔
’’سائیں پریشان نہ ہو۔یہ الیکشن کے ہنگامے ختم ہوتے ہی ہم تیرا شناختی کارڈ بنوادیں گے۔اگلی بار ووٹ ڈال دینا تو خادم خان کو۔‘‘
’’لیکن مجھے تو اپنے باپ کانام۔۔۔۔‘‘
’’ارے!!کچھ نہیں ہوتا اس سے۔اب تو اپنے بندے کی حکومت ہے۔سب ہوجائے گا۔تو غم نہ کر۔‘‘
لڑکوں کے دلاسے اور خوشی دیکھ کر سائیں بھی اپنا غم بھول گیا۔اور ان کے ساتھ ناچنے لگا۔
ناچتے ناچتے خوشیاں مناتے وہ مخالف پارٹی کے دفتر کے سامنے پہنچ گئے۔ہوائی فائرنگ کی۔ان کا دل جلانے کے لیے ان کے لیڈروں کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔سائیں بھی اس سب میں شامل رہا۔نعرے لگانے میں اس کی آواز سب سے اونچی تھی۔جو نوجوان تھک کر بیٹھ جاتے ،وہ دوبارہ انہیں جوش دلاتا۔مخالف پارٹی کے لوگ کچھ دیر تو صبر کرتے رہے۔تنگ آکر انہوں نے پہلے پتھروں اور اینٹوں سے ان کی تواضع کی۔لیکن ان کے جوش کے سامنے پتھر اور اینٹ کچھ نہ کرسکے۔غصے میں آکر چند نوجوانوں نے اپنی رائفلیں اٹھائیں اور اندھادھند فائرنگ شروع کردی۔ایسی دھند اٹھی کہ کافی دیر کچھ نظر نہ آیا۔باقی کا حال دالان میں روتی عورتیں،چوپال میں خاموش بزرگوں اور نجی چینل کے لوکل نمائندہ سے یہ معلوم ہوا،
’’الیکشن کے دن پاکیزہ کا لونی میں کشیدگی۔مخالف پارٹی کے نوجوانوں نے جیتنے والی پارٹی کے نوجوانوں پر فائرنگ کر دی۔پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔باقی ہسپتال میں تشویش ناک حالت میں بتائے جاتے ہیں۔تبدیلی پارٹی کے قائد نے مقتولین کے گھر والوں کو دو دو لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے۔‘‘
قاسم آباد کے انسان دوست مکین پریشان ہیں اور خادم خان سے پوچھنے آئے ہیں کہ سائیں کے دو لاکھ کس کو دیے جائیں۔

لکھت لکھواتی ہے۔۔۔

میں ایک پیشہ ور لکھاری ہوں۔
منظروں سے اپنی لکھت کشید کرتا ہوں۔خاموشی میں دبی سسکیوں کو سنتا ہوں،آہوں کا مطلب سمجھتا ہوں،بند آنکھوں کے خوابوں کو دیکھ سکتا ہوں،درد سے بلکتے انسانوں کی نہ نکلنے والی چیخوں کو سنتا ہوں اور پھر انہیں لکھتا ہوں۔
میں ان آنسوؤں کو دیکھ سکتا ہوں جو بہے نہیں ہوتے۔میں برف جیسے سرد لوگوں کو بھی جانتا ہوں۔ان کے سرد رویوں کو بھی سمجھتا ہوں۔میں کسی کے برے ہو جانے کے مسائل سمجھ سکتا ہوں اور انہیں سلجھا بھی سکتا ہوں۔میں نے ہمیشہ انسانوں سے پیار کیا ہے،انہیں اپنا سمجھا ہے۔دنیا کے تمام انسان میری لکھت کا خام مال ہیں۔گہری نیند میں گم بلکتے انسان اور ان کی بند آنکھوں میں جاگتے خواب،سب میرے وجود کا حصہ ہیں۔یہ سب لوگ میری قلم کی نوک پر ہیں۔میں جسے چاہوں،جیسے چاہوں درج کرسکتا ہوں۔کسی کو زندہ کردوں ،کسی کو مٹادوں،یہ سب مجھ پر ہے۔یہ سب مجھے اس لیے عزیز ہیں کہ ان کی بدولت میں خود زندہ ہوں اور میرے پیارے بھی۔میں ان کے درد کو اپنی لکھت بنا کر بیچتا ہوں اور پیسے کماتا ہوں۔اگر دنیا میں درد مٹ جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان میرے جیسے لیکھک کا ہی ہوگا۔
میرے پڑھنے والے کہتے ہیں کہ میں درد شناس ہوں،مجھے درد رقم کرنے آتے ہیں۔لوگ میری لکھت کو پڑھ کر بہت عرصے تک اس کے اثر سے نکل نہیں پاتے۔میں حقیقتوں کو روندتا،درد کی گھاٹیوں میں اترتا،تکلیف کی گہرائیوں میں ٹھہرنے کا فن جانتا ہوں۔
کچھ عرصے سے میں کچھ نہیں لکھ پارہا۔شاید ایسا تب ہوتا ہے جب میں نے کسی نئے شاہکار کو وجود میں لانا ہوتا ہے۔میں اس عمل میں ایک عجیب سی بے معنویت کا شکار ہوجاتا ہوں۔کوئی بھی منظر،کوئی بھی چہرہ،کوئی بات مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کرپا رہی۔مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور لکھنا ان پیسوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
آج میرے پیارے بیٹے نے مجھ سے پہلی مرتبہ کسی چیز کی فرمائش کی ہے۔اسے ایک ویڈیوگیم چاہیے۔میں نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ آج میں اسے وہ دلواکر رہوں گا ،چاہے کچھ بھی ہوجائے۔گو مجھے معلوم ہے کہ وہ کوئی ضدی بچہ نہیں ہے۔بہت فرمانبرداراور صابر ہے۔ہم نے زندگی کے کئی دن ایسے بھی گزارے ہیں جب ہمارے گھر کھانے کو کچھ نہ تھا لیکن میرے بچے نے کبھی مجھ سے شکایت نہیں کی۔
سڑک کے دوسری طرف ایک ہجوم کھڑا ہے۔شاید کسی گاڑی نے کسی کو کچل دیا ہے۔ارے!یہ ایک بچہ ہے جو سڑک کے
درمیان درد سے تڑپ رہا ہے۔وہ بری طرح لہو لہان تو ہے لیکن اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔اس کا بستہ جو پاس ہی پڑا ہے خون میں لت پت ہے۔وہ درد کے مارے بار بار کروٹیں بدلتا ہے کبھی دائیں کبھی بائیں۔کبھی اپنا پیٹ پکڑتا اور کبھی سر۔سب لوگ دائرے کی صورت میں کھڑے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح دم توڑتا ہے اور میں،لکھنا جس کا پیشہ ہے سوچ رہا ہوں کہ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔میری انگلیاں لکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔میں زمین پر بچے کے پاس ہی دو زانو بیٹھ گیا ہوں۔میں نے تیزی سے قلم کاغذ نکال کر لکھنا شروع کر دیا ہے۔میں اس بچے کے منہ سے نکلنے والی آہ اور اس کا درد لکھنے لگا ہوں۔میں لکھنے لگا ہوں کہ موت اور زندگی کی لڑائی کیسی ہوتی ہے؟کیسے انسان خود کو موت کے پاس جانے سے روکتا ہے اور کیسے موت اس کو اپنے قریب گھسیٹتی ہے۔
اچانک مجمع میں سے ایک شخص نمودار ہوتا ہے۔وہ ایک کمزور سا نوجوان ہے ،آنکھوں کے گرد بڑی سی عینک،ہاتھ میں ایک کاغذ اور پنسل ہے۔اس نے بچے کے سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر بنانی شروع کر دی ہے۔ایسی درد بھری اور حقیقی تصویر بنانے کا موقع اسے شاید پھر کبھی نہ ملے۔اس کی پنسل بڑی تیزی کے ساتھ سکیچ بنارہی ہے۔وہ بچے کی ایک ایک تکلیف کی تصویر کاغذ پر اتار رہا ہے۔اِدھر میں درد کو لفظوں میں پرورہا ہوں اور اُدھر وہ لکیروں کے ذریعے درد کی شکلیں بنارہا ہے۔ہم دونوں اپنا اپنا کام کررہے ہیں۔مجمع ساکت ہے اور بچہ تڑپ رہا ہے۔
کچھ اور لوگ بھی دھکم پیل کرتے ہوئے بچے کو چاروں طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ہر طرف سے کیمروں سے تصویریں کھینچنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔تصویروں کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے اور تڑپتے بچے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے وہ فوکس نہیں کر پا رہے ہیں۔ہم سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں کہ ایک شخص نے مائیک پکڑ کر کیمرے کے سامنے بولنا شروع کر دیا ہے:’’آج کلمہ چوک میں سڑک پر ایک آٹھ سالہ بچے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق کچھ منچلے نوجوانوں نے اس مصروف سڑک پر کارریسنگ کا مقابلہ رکھا تھا۔یہ بچہ باری باری تین کاروں کی زد میں آیا ہے۔کہا جاتا ہے اس میں سے ایک کار ریٹائرڈ جرنیل کے صاحبزادے کی بھی تھی۔بچہ ابھی زندہ ہے لیکن بری طرح زخمی ہے۔آپ اپنی ٹی وی سکرین پر بچے کو تڑپتا دیکھ سکتے ہیں۔ہم نے اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بول نہیں پارہا ہے۔اس حادثے کی وجہ سے ٹریفک جام ہوچکی ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔یہ سب حکومت کی ناکامی کو منہ بولتا ثبوت ہے۔کیمرہ مین فلاں کے ساتھ،میں فلاں،فلاں نیوز چینل،اسلام آباد۔‘‘
میں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ جب تک بچہ آخری سانس نہیں لیتا میں لکھنا نہیں چھوڑوں گا۔کبھی کبھار وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے لیکن میں ان نظروں کا مفہوم سمجھنا نہیں چاہتا۔میں صرف لکھنا چاہتا ہوں۔
اچانک وہ اپنا خون آلود ہاتھ میرے کاغذ کے اس ڈھیر پر رکھ دیتا ہے جو میرے گھٹنوں پر دھرے ہیں۔میں تھوڑا ناراضگی کے انداز میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔شاید یہ اس کی آخری سانس تھی۔میرا قلم رک جاتا ہے۔تصویریں اور رپوٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔فوٹوگرافر چلے گئے اور ٹی وی والے اپنا سامان باندھ رہے ہیں۔مجمع پہلے کی طرح ساکت ہے۔میں اس خون بھرے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگتا ہوں جو اب بھی میرے گھٹنوں پر دھرا ہے۔وہ ایک چھوٹا سا نرم ہاتھ ہے۔جس کے ناخن بڑی نفاست سے ترشے ہوئے ہیں۔
’’کل ہی تو اس کی ماں نے اس کے ناخن کاٹے ہیں‘‘یہ شاید میری آواز ہے۔’’یہ وہی ہاتھ ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے بڑی مضبوطی سے تھامے رکھا تھا۔انہی ہاتھوں کو پکڑ کر میں نے اسے چلنا سکھایا تھا۔اسے پنسل پکڑنی سکھائی تھی۔انہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر میں نے کئی بار اس سے پنجہ لڑایا تھا،پھر جان بوجھ کر ہارا تھا۔نہیں،یہ بے جان ہاتھ میرے بیٹے کے نہیں ہیں۔یہ تو کہانی کا کردارہے۔ایک رپورٹ،ایک خبر اور ایک تصویر ہے۔‘‘

Check Also

واہگ ۔۔۔ میکسم گورکی / عبداللہ شوہاز

پیپے آ دہ سال اِنت ، بلئے انگت گشئے چو چیچّی ئے پیما سہر سہر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *