Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » جو آں سال اورفطرت ۔۔۔محمد رفیق مغیری

جو آں سال اورفطرت ۔۔۔محمد رفیق مغیری

یہ اللہ کا احسانِ عظیم ہے کہ بلوچ فطرت کاعاشق ہے ۔ بلوچ کے رگ وپے میں فطرت رچی بسی ہوئی ہے ۔ مالک حقیقی نے فطرت کے تمام رنگوں سے بلوچ کے مزاج کورنگ دیا ہے تبھی تو فطرت کی تمام رنگینیاں بلوچ کی فطرت میں بخوبی اُتم وعیاں نظر آتی ہیں ۔ یہی نہیں بلوچ جس خطے میں بس رہا ہے اُس خطے کو بھی مالک نے بے شمار فطرت کے رنگوں سے رنگین اور دلکش بنا یا ہے۔ آئیے ذرا اس کا نظارہ کرتے ہیں۔ طویل ترین خوبصورت اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں چٹیل میدانوں ریت کے پہاڑی نما صحراؤں لہلہاتے کھیتوں سر سبز وادیوں دل بہلانے والے خوبصورت باغوں صنوبر کے جنگلوں اور نہایت ہی پُر فضا خوشگوار موسموں کا یہ حسین امتیاز خطہ بلوچستان کو حاصل ہے۔ ایسی فطرت سے بھرپور سرزمین پر جب ساون کے موسم میں سیاہ وسفید گھن گھور گھٹا ئیں اُمڈ اُمڈ کر چھا جاتے ہیں تو ابرحمت برسنا شروع ہوجاتی ہے ۔ اورچند ہی لمحوں میں چشموں اور ندی نالوں میں طغیانی آجاتی ہے ۔ پتھر اور پانی دونوں بولنا شروع ہوجاتے ہیں۔
ساون کے دنوں میں جب موسم انگڑائیاں لینا شروع کرتا ہے تو آسمان پر سیاہ سفید پہاڑ نما بادل چھا جانا شروع ہوجاتے ہیں۔تو جو آں سال جیسے فقیر منش شاعر کے دل میں بھی فطرت کے لیے محبت کے جذبات بھر پور انداز میں جوش مارنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ اِن بادلوں سے برسنے والی بارش کے لیے گمان کرتا ہے۔ کہ اوپر آسمان پر شاید اللہ تعالیٰ نے کوئی بڑا تالاب بنا رکھا ہے۔ جس سے مسلسل تیز اور ٹھنڈے قطروں کی بارش برستی رہتی ہے ۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یوں بیان کیا ہے۔
ترجمہ: ’’ پھر ہم اتارتے ہیں بادل سے پانی پھر اس سے نکالتے ہیں سب طرح کے پھل۔‘‘ الاعراف نمبر57۔
جو آں سال مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری کا کیا کہنا کہ کہیں دیکھو تو بڑا دریا موجیں مارتا ہوا نظر آتا ہے تو کہیں دیکھو تو بڑے بڑے آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑ نظر آتے ہیں ۔ تو کہیں میدان کہیں موسموں کی تغیر وتبدیلی کہیں شدید گرمی ہے تو کہیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔ ایک پل میں قدرت کے بے شمار کمالات وکاریگریاں نظر آتی ہیں۔ ہرسو قدرت کے کرشمے ہی کرشمے نظر آتے ہیں۔ آئیے اس کی زبانی فطرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ہر دو جہانا خدا بادشاہیں
داں عرش کُرشاں تھئی یہ نگاہیں
چھیار کُنڈہ چھراں خدائی ستائیں
تھئی قدرتانی کھیارا سمائیں
جاہے آ گِنداں تہ آف دریائیں
جاہے آ گِنداں جبل آں مزائیں
جاہے آ گِنداں ڈِغار صفائیں
حیوانہ چھرّاں چھراں دادُلائیں
یہ پلک لافا ہزاریں لقائیں
وختے آ گِنداں تہ گرمیا تائیں
وختے آ گِنداں تہ ساڑتھیں ہوائیں
وختے آ گِنداں تہ جُڑاں بادلائیں
وختے آ گِنداں تہ گرند ئے ٹھکائیں
ساڑتھیں پُھڑی آ رشاں بے بہا ئیں
گُواراں ہموذاکہ ھذائی رضائیں
دِلارا گُمان ئے کہ بُڑ ز ا تلائیں
اِسی طرح ایک اور جگہ پر جو آں سال فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت وکاریگری کو دیکھ کر انسان کا عقل حیران ہوتا ہے کہ کروڑوں سالوں سے دن اور رات کا نظام مسلسل محوِ سفر ہے۔ اور ہر ایک اپنے اپنے مقررہ وقت پر آتا اور جاتا ہے ۔اور پھر اِن بارشوں کے نظام کو دیکھیے اور غور کیجیے کہ بادلوں سے بارش برس کر بھوری اور خشک زمین کو سبز چادر یوں لپیٹ دیتی ہے کہ ہرسو گل وگلزار نظر آتا ہے اور پھر انسان تو کیا حیوان بھی خوش وخرم زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ جوآں سال فرماتے ہیں
جی خدا پاکا رنگ و اِسراراں
عبرتا کھئے تھئی قدرتی کاراں
پہ شف و روشانی برو آراں
بارواں چھرنت ہر دوں چھیار پہراں
نوذے ژہ سوزیں کو کھراں گُواراں
کھور لیٹنٹ پہ موژو اُوبھاراں
بستہ غیں بندو بنوے داراں
مڑد جُمبھنت گوں کھین و ننگاراں
ڈیھ سوادھانی سوزو گلزاراں
چھے پہ حیوان و برّہ سہداراں
قدرت کی کاریگری پر دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں سائنسدانوں ڈاکٹرز انجینئر ز فلاسفی بزرگ وولی اصحاب وانبیا سب نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے ۔ جس کے لیے خالق نے خود مخلوق کو غور وفکر کرنے کی تلقین کی ہے ۔ تو اس کی تگ ودو اور جانکاری میں انسان نے جو جدوجہد کی ہے یہ موجودہ سائنسی ترقی اس کی موحونِ منت ہے ۔ بہر کیف بڑے بڑے عقلمندوں کے ساتھ ساتھ جو آں سال جیسا ایک دیہاتی بلوچ شاعر بھی قدرت کی کاریگری پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں ہمہ وقت اس رحمن و رحیم ہستی کی یاد میں رہتا ہوں کے ہر کوئی اس کی کاریگر یپر حیران ہے کہ اللہ تعالی نے اتنا بڑا آسمان بغیر ستونوں کے کیسے کھڑا کیا ہے ۔ دن رات کو نظام کو کیسے مقررہ وقت پر چلا رہا ہے ۔ کس طرح کہاں سے آسمان پر بادلوں کو لاتا ہے ۔ اور پھر اِن سے بارش برساتا ہے ۔ کس طرح زمین سے مختلف اقسام کے اناجوں درختوں اور میووں کو پیدا کر رہا ہے ۔ کون اُگا رہا ہے تو کون کھا رہا ہے ۔ جس جس چیز پر غور کرو اللہ تعالی کی قدرت کی نمایاں نشانیاں نظر آتی ہیں، جو آں سال کی زبانی سُنیئے:
ہر دماں صند گنجیں خدایا یا د کھناں
ہر کہ حیرانیں اژ تھئی بازیں قدرتاں
چکھر یں آزمان تھاں رنگا داشتئے گوں پراں
تھاں رنگیں روشاں تھاں رنگیں اِستار و شفاں
تھاں رنگا کھارئے تھارنگا گوار نیئے جُڑاں
تھاں ہندا سامبئے تھاں رنگا کھارئے موسماں
تھاں رنگا نوذا گُو ار نتھ آ نندی آ لُڑھاں
تھاں رنگیں گٹھاں تھاں رنگیں سہدار ہ چھراں
تھاں رنگیں حیواں گوں نگہبا نیں نوکراں
تھاں رنگیں درشکاں تھاں رنگیں میوہ و براں
تھاں ہند اہ پھشاں تھاں ہندی بندہ ئے وراں
تھاں رنگیں سہدار مں جہانا پھیذا وراں

Check Also

انجیلا ڈے وس(خودنوشت) ۔۔۔۔ ترجمہ:سید سبطِ حسن

اتفاق سے اُنہیں دنوں میری ملاقات کئی کمیونسٹ گھرانوں سے ہوئی اور بٹینا اپٹھیکر جو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *