Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » مزدور عورت ۔۔۔ کروپسکایا

مزدور عورت ۔۔۔ کروپسکایا

چنانچہ پورے ملک میں ہر جگہ عورت مزدور کی حالت انتہائی کھٹن ہے ، اس لیے کہ وہ اُسی کچھ میں مبتلا ہے جس میں مرد مزدور مبتلا ہے ۔ مرد مزدور کی طرح وہ بھی بغیر وقفے کے کام کرتی ہے ، غربت جھیلتی ہے ، اور مرد مزدور ہی کی طرح ، وہ سماج کے اس طبقے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ سب سے زیادہ محروم اور استحصال شدہ ہے ۔ عورت مزدور ورکنگ کلاس کی ممبر ہے اور اُس کے سارے مفاد اُسی طبقے کے مفاد سے سختی سے جڑے ہوئے ہیں۔
جب ورکنگ کلاس کوئی بہتری جیت لے گی تو عورت مزدور کی حالت بھی تبدیل ہوگی۔ اگر ورکنگ کلاس بھکاریوں والی جہالت اور حقوق کے بغیر رہے گی تو عورت مزدوراسی دردناک وجود میں گھسٹتی رہے گی جس میں وہ آج ہے ۔ لہذا عورت مزدور اس بات سے بے تعلق نہیں رہ سکتی کہ آیا ورکنگ کلاس ایک بہتر مقدر جیتے گی۔ مزدوروں کا کاز اس کا اپنا پیار ااور اہم کاز ہے ۔ یہ اُس سے اسی قدر قریب ہے جتنا کہ مرد مزدوروں کے قریب ہے آئیے دیکھیں کہ۔ تو اِس ’’ورکرز کاز‘‘ میں کیا چیز شامل ہے؟۔
مزدور (ورکرز) اپنے حالات سے غیر مطمئن ہیں اس لیے کہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اُن کے ہاتھوں سے ، اُن کی محنت سے ساری دولت پیدا ہوتی ہے۔ پھر بھی اس محنت سے انہیں صرف اتنا ملتا ہے کہ وہ اپنا پیٹ بھر سکیں اور محنت کرنے کی اپنی صلاحیت برقرار رکھ سکیں۔ وہ اپنے لیے کام نہیں کرتے بلکہ ملوں، زمین ،کانوں ،دکانوں اور دیگر کے مالکان کے لیے کام کرتے ہیں۔ اُن لوگوں کے لیے جنہیں عام طور پر بورژوازی کہاجاتاہے۔
سارے قانون جائیداد والے طبقے کی خدمت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اور سارا ملک بورژوازی کے مفادات میں چلایا جاتا ہے ۔ ورکرز کا قانون بنانے میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ، نہ ہی ملک کی انتظام کاری میں۔ ان کا کام مشقت کرنا ہے ۔ دوسروں کے لیے بغیر تھکے مشقت کرناہے، ٹیکس دینے ہیں، خاموش رہنا ہے اور خاموشی اور تابعداری سے سردی اور بھوک برداشت کرنے ہیں اور اپنے شخصی وقار کی گراوٹ میں مبتلا ہونا ہے۔
مزدور چیزوں کا نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ مزید طبقات نہیں چاہتے ، کوئی امیر غریب نہیں۔ وہ زمین، اور فیکٹریاں ، ورکشاپیں اور معدنی کانیں پرائیویٹ افراد کی ملکیت میں نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ ان کی ملکیت اور اُن کی انتظام کاری پورے سماج کی ہونی چاہیے ۔ اب مالکان صرف خود کو امیر بنانے کی ترکیبیں سوچتے ہیں۔ وہ اُن مزدوروں کی صحت ، آرام اور خوشحالی کے بارے میں نہیں سوچتے جو اُن کے لیے محنت کرتے ہیں۔ وہ محنت کرنے والے انسانوں کی زندگی کو صفرکی طرح گنتے ہیں۔ ۔۔۔منافع اُن کا اہم مقصد ہوتا ہے۔
جس وقت پیداوار کا کنٹرول پرائیوٹ مالکوں سے سماج کے ہاتھوں منتقل ہوجائے گا تو چیزیں تبدیل ہوجائیں گی۔ سماج خود کو’’ ہر ایک کے لیے اچھی طرح زندگی گزارنے کو‘‘ ممکن بنانے میں لگائے رکھے گا ، یہ دیکھنے کے لیے کہ ہر شخص کے پاس ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ، ایک بھرپور زندگی انجوائے کرنے کے لیے کافی آزاد ٹائم ہے ، اور جو مسرت اور لطف میسر ہے اس سے وہ لطف اندوز ہو۔ ورکرزجانتے ہیں کہ اس میں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے کہ چیزیں کافی مقدار میں میسر ہیں۔
مشینوں کے درآنے سے ، جنہوں نے انسانی محنت کی پیداوار یت کو اس قدر بڑھا دیا ، اور زمین کی کاشت کے نئے طریقوں نے اس کی زرخیزی کو بڑھایا ، اس سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہر ایک کے لیے ہر چیز کافی ہوگی۔ موجودہ حالات میں لوگ غربت میں رہتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اناج ،یاپوشاک ناکافی ہے ۔ اناج ریلوے سٹیشنوں پہ لوڈڈ پڑا رہتاہے اور خریداروں کے انتظارمیں گل سڑ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ محنت کرنے والے عوام الناس بھوک سے پھول جاتے ہیں اور مرجاتے ہیں ۔ فیکٹری مالکان کے سٹور نہ فروخت شدہ مال سے پھٹ جاتے ہیں جبکہ اُن کے گیٹوں پرروزگار کی تلاش میں چھیتڑوں میں مجمعے کھڑے ہیں ۔
جب پیداوار کا انتظام معاشرہ کرے گا تو ہر ایک کو کام کرنا ہوگا۔ مگر محنت اس قدر مشقت بھری نہیں رہے گی جتنی کہ آج ہے ۔ اس لیے کہ کام کرنے کے ناخوشگوار پہلوؤں کو ہلکا بنانے کے لیے سب کچھ کیا جائے گا اور محنت گھٹن والی ،بدبودار اور متعدی مرض پھیلانے والی فیکٹریوں میں نہیں کی جائے گی بلکہ روشن ، کشادہ ، خشک اور اچھی طرح ہوادرعمارتوں میں ہوگی۔ محنت اس قدر طویل نہیں ہوگی جتنی کہ آج کل ہے۔ اس لیے سب کام کریں گے، اور آج کے برعکس کچھ مزدوروں بشمول بچوں اور حاملہ عورتوں کو اپنے کام کے بوجھ پر تناؤکرتے ہوئے نہ دیکھا جاسکے گاجبکہ دوسروں کو بے روزگاراور کام کے لیے ناامیدی سے تلاش میں نہیں دیکھا جاسکے گا۔ ہر شخص کو کام کرنا ہوگا مگر یہ جبر کے تحت نہ ہوگا، تھکادینے والانہ ہوگا اور ذلیل کرنے والا نہ ہوگا جس پہ کہ اب ورکنگ کلاس مجبورہے ۔
سماج کمزوروں ، بیماروں اور بوڑھوں کا خیال اپنے ذمے لے گا۔ مستقبل کا کوئی خوف نہ ہوگا، کسی پچھواڑے میں مرجانے کا خوف نہ ہوگا، دوسروں پر محتاج ،بھکاری کی سی زندگی گزارنے کا خوف نہ ہوگا۔لوگ جب بیمار پڑیں گے تو انہیں یہ خوف نہ ہوگا کہ خاندان محتاجی میں جائے گا، اس لیے کہ سماج بحیثیت مجموعی بچوں کی پرورش ، اُن کی نگہداشت اور انہیں مضبوط، صحت مند،عقلمند، کار، آمد اور صاحبِ علم لوگ بنانے کا ذمہ دارہوگا۔ وہ اچھے سٹیزن ہوں گے۔
جو لوگ اس طرح کے حالات چاہتے ہوں اور اس کے حصول کے لیے لڑتے ہوں، سوشلسٹ کہلاتے ہیں۔
ایسا بالخصوص مزدوروں میں ہوتا ہے کہ وہاں سوشلسٹ زیادہ ہوتے ہیں ۔ جرمنی، بلجیم، فرانس اور کچھ دوسرے ممالک میں ملینوں سوشلسٹ ہیں اور وہ مزدور پارٹیوں میں منظم ہیں جوکہ ہم آہنگی میں عمل کرتے ہیں اور مل کر اپنے مشترکہ مفادات کی حفاظت کرتے ہیں ، اور انہوں نے بہت ترقیاں کی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سوشلسٹوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے ۔
مزدور کسی دوسرے سے اپنے حالات میں بہتری لانے کی کوئی توقع نہیں کرسکتے، نہ ہی بادشاہ اور نہ دیوتا ان کی مدد کرے گا۔ بادشاہ ہر چیز کو سرمایہ داروں اور اشرافیہ کی نظر سے دیکھتا ہے، وہ انہی پر عنایتیں برساتا ہے اورا نہیں ہی سارے حقوق عطا کرتا ہے ۔ وہ ملک کا انتظام اُن کے حوالے کرتا ہے اور اُن مزدوروں کو فسادی قرار دیتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ وہ ہڑتال پر موجود غیر مسلح مزدوروں پہ گولی چلانے والے فوجیوں کی اعزاز کے ساتھ شکر گزاری کرتا ہے ۔ چنانچہ یہ 1895 تھاجب یوروسلاول میں کور زِنکن ٹکسٹائل مل میں بے چینی ہوتی تھی۔ یہ سچ ہے کہ وہ یہ بیان کرتا ہے کہ وہ فیکٹری مالکان اور مزدور دونوں کی بہبود کو مساوی طور پر اپنے دل کے قریب رکھتا ہے ، مگر کوئی اندھاہی یہ دیکھ نہ سکے گا کہ وہ خالی خولی الفاظ ہیں۔
دیوتا غریبوں کی مدد کو نہیں جاتا ۔ اُس کے خدام محکوموں کو محض صبر اور انکساری کی تبلیغ کرتے ہیں، اپنے ستم گر سے محبت کرنے کی تبلیغ۔ اور ’’حرص گناہ ہے ‘‘والی بات کی اُن لوگوں کو تبلیغ کرتے ہیں جو بمشکل اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ اُن لوگوں پر بے کاری کا الزام لگاتے ہیں جو دن میں 16سے18گھنٹے تک مشقت کرتے ہیں۔ اور وہ آسمان کی بادشاہت کی بات کرتے ہیں جبکہ اُن ساری سوچوں کوعلیحدہ کرنے کی حددرجہ کوشش کرتے ہیں جو مزدوروں کے لیے زمین پر ایک بہتر زندگی لاسکتے ہوں۔ اس زمین کے بارے میں بات کرنا اور شکایت کرنا گناہ ہے اور گناہوں کی سزا مہربان دیوتا دیتا ہے ۔ نہیں۔ مزدور ، بھگوان اور بادشاہ سے کچھ کی توقع نہیں کرسکتے۔ یہ توقع کر نابھی وقت کا ضیاع ہے کہ سرمایہ دار اپنا ذہن بدل دیں گے اور ان کا استحصال کرنا بندکردیں گے ، بالکل اس طرح جیسے بھیڑ یاکے بکریاں کھانے سے رک جانے کا انتظار کیا جائے ، یا پرندوں کی طرف سے کیڑے کھانا ترک کردینے کا انتظار کیا جائے ۔ سرمایہ دار قوتِ محنت کے استحصال پہ زندہ ہیں اور کبھی بھی استحصال ترک نہیں کریں گے ۔
ساری سرزمینوں کے ورکرزجانتے ہیں کہ وہ اپنے علاوہ کسی اور پر اعتماد نہیں کرسکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ خود انہیں زمین پر ایک بہتر زندگانی جیتنی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص انفرادی طور پر بے طاقت اور بے دفاع ہے ، مگر ایک بار جب ایک بڑی فوج کے اندر سب متحد ہوجائیں تو وہ ایک طاقت بن جاتے ہیں جس کے سامنے کوئی ریاست نہیں ٹھہر سکتی ۔ مزدور جتنا زیادہ اتفاق میں اقدام کریں گے اتنی ہی طاقت سے وہ اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے ، جتنا زیادہ شفاف وہ اپنی صفوں کی قدرکرنے آئیں گے ، اور اپنے مقاصد کو شناخت کریں گے ، اتنی قوت کی وہ نمائندگی کریں گے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ مزدور وں کے اجتماعات میں’’ دنیا بھر کے ورکرز ایک ہوجاؤ ‘‘اور ’’ایک سب کے لیے اور سب ایک کے لیے ‘‘ کے الفاظ دہراتے جاتے ہیں۔ ورکرزکو ایک طویل اور مصمم جدوجہد کرنی ہوگی۔ آگے کے لیے ہر قدم کے لیے لڑنا ہوگا۔
پہلے پہل ورکرزاُن مطالبات کے لیے لڑتے ہیں جو اُن کے قریب ترین ہوں۔ یعنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ،مختصر کام کے دن کے لیے ، ایسے سارے ناجائز طریقوں کو ہٹانے کے لیے جو انہیں ہڑتال سے منع کرتے ہیں ، اپنے معاملات پر بحث کرنے کے لیے اجتماعات سے منع کرتے ہیں اور جو یونین بنانے سے منع کرتے ہیں۔ انہیں اپنی ضروریات اور مطالبوں کو اخبار میں لکھنے نہیں دیا جاتا۔ مالکوں اور مزدوروں کے بیچ ساری مخالفتوں میں حکومت مالکوں کی طرفدار ی کرتی ہے۔ ورکرز جانتے ہیں کہ فیکٹری مالکان سے جدوجہد کے لیے مناسب طور پر تنظیم رکھنے کے لیے انہیں ہڑتال کی آزادی چاہیے، میٹنگیں کرنے اور یونین بنانے کی آزادی، تقریر کی آزادی اور پریس کی آزادی چاہیے ۔ مگر وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بڑے سول سرونٹ ہمیشہ عالی مقام اور امیروں کی طرفداری کرتے ہیں ، اور ہمیشہ مزدوروں کے خلاف قوانین بناتے ہیں تاکہ ورکرزاندھیرے اور لاعلمی میں رہیں۔وہ ہمہ وقت تازہ ٹیکس اورکٹوتیاں لگاتے رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک مزدور، اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے قوانین بنانے میں اور سماج کو چلانے میں اپنی آوازنہ رکھیں۔ چنانچہ مزدور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کو اُن قوانین کے مطابق چلایا جائے جو پارلیمنٹ کے منظور کردہ ہوں ، یہ کہ افسر شاہی جو ملک کو چلاتی ہے اپنے اقدامات کے سلسلے میں پارلیمنٹ کو جوابدہ ہوتا کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر عوام پر کوئی ٹیکس وغیرہ لگائے نہ جاسکیں، اور یہ کہ لوگوں سے جمع کردہ رقوم کے استعمال کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے۔
مزدور عام اور مساوی رائے دھندگی کا مطالبہ کرتے ہیں جو انہیں اپنے نمائندے پارلیمنٹ بھیجنے کی اجازت دے گی۔ دوسرے لفظوں میں مزدور سیاسی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی آزادی کے بغیراور ملک کو چلانے میں شراکت داری کے بغیر مزدور کبھی بھی سماج کے ایک سوشلسٹ نظام کے اپنے عزیز مقصد کو حاصل کرنے کے قابل نہ ہوسکیں گے۔ لہذا سارے ملکوں کے مزدور سیاسی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔یورپی ممالک میں تو پہلے ہی پارلیمنٹ موجود ہیں جہاں مزدوروں کو اُن ممالک کو چلانے میں کچھ شنوائی حاصل ہے ۔ حالانکہ بہت سے ملکوں میں وہ شراکت داری موجود نہیں۔ صرف روس میں مزدور اوردیگر عام سارے لوگوں کو قوانین بنانے اور ملک کی انتظام کاری میں حصہ لینے سے مکمل طو رپر خارج رکھا گیا ہے ۔ یہاں سب کچھ بادشاہ کے حکام طے کرتے ہیں جو صرف اپنے آپ کو جوابدہ ہیں ۔اُن ممالک میں جہاں سیاسی آزادی ہے وہاں مزدور سیاسی پارٹیوں میں منظم ہیں ، اور وہ پہلے ہی بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں اور وہاں مزدوروں کے حالات روس سے بہت بہتر ہیں۔ روس میں مزدور کاز کے لیے جدوجہد محض ابھی شروعات میں ہے اور مزدور تحریک طفلی حالت میں ہے۔ مگر آج روس کے سارے کونوں میں جدوجہد کے مشعل روشن کیے گئے ، اور ہر گزرتے سال کے ساتھ مزدور تحریک بڑھوتری کرے گی اور مضبوط ہوگی۔
تو پھر،ورکرز کا ز کو جیتنے کی جدوجہد میں عورت مزدور کس طرح کا تعلق رکھے؟۔ کیا اُسے اس میں حصہ لینا چاہیے؟۔
آج یہ عمومی معاملہ ہے کہ عورت مزدوروں کے کاز میں اپنے خاوند کی شمولیت پر ایک بہت منفی رویہ اپناتی ہے ۔ وہ مکمل طور پر غلط سمجھتی ہے کہ وہ کس چیز میں شمولیت کر رہا ہے اور وہ صرف اس میں خطرہ دیکھتی ہے ۔وہ اکثرورکرز کے کاز ،یا ورکرز کی تحریک کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی ، لہذا اپنے خاوند کو نہیں سمجھتی ، نہ ہی اُس سے ہمدردی کرتی ہے ۔ وہ ہر طریقے سے اس کے مطالعہ میں مداخلت کی کوشش کرتی ہے اور وہ اُس کے دوستوں کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتی ہے ۔ سیاسی طور پر باشعور نوجوان مزدور عموماً رپورٹ کرتے ہیں کہ ایک ایسی بیوی ڈھونڈ نا مشکل ہے جو اُن کی سرگرمیوں میں اُن سے ہمدرد ہو، اور یہ کہ وہ کسی ایسی عورت سے شادی نہیں کرنا چاہتے جو انہیں پیچھے کھینچے ۔
سیاسی طور پر باشعور مرد مزدوروں میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو ورکرز کے کاز کے لیے جدوجہد میں شامل نہیں ہونا چاہیے ، یہ کہ یہ اُن کا کام نہیں ہے ، اور یہ کہ، یہ زیادہ بہتر ہوگا اگر صرف مردجدوجہد کو جاری رکھیں۔ یہ ایک غلط اپروچ ہے ۔ مردوں کے لیے خود سے جیت جانا مشکل ہوگا۔ اگر عورتیں ورکرز کی تحریک میں شامل نہ ہوں، اگر وہ اس کی مخالف ہوں تو وہ ہمیشہ اُن کے راستے میں رکاوٹ ہوں گی۔ فرض کریں مرد مزدور ایک ہڑتال منظم کریں اور مالک تسلیم کرنے پر تیار ہے مگر عورتیں مردوں کی جگہ پر کام کرنے کی پیش کش کردیں، تو ہڑتال تو برباد ہوگئی ناں۔ ہم ان عورتوں کی طرف سے نقصان کی حد جانتے ہیں جو کہ منظم نہیں ہیں ، اور جو کہ ورکرز کی تحریک میں حصہ نہیں لیتیں۔ عورتوں کو جدوجہد میں شامل ہونے سے روکنا ایسا ہی ہے جیسے ورکرز کی فوج کے آدھے حصے کو غیر منظم چھوڑاجائے۔
سیاسی طور پر سب سے زیادہ باشعور مرد مزدور سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ ورکرز کے کاز کے لیے جدوجہد میں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ چلیں تاکہ جنگجو ورکرز کی فوج کی صفوں میں تعداد بڑھ جائے اور فتح حاصل کرنے کے لیے مزدوروں کی صفوں کو مضبوط کیا جائے ۔ یہ اُس حد تک ہے جہاں وہ پیداواری محنت میں ایک رول ادا کرنا شروع کرتی ہیں جسے وہ زیادہ سے زیادہ صاف دیکھتی ہیں کہ اُن کے مفادات وہی ہیں جو کہ مزدور مردوں کے ہیں ،یہ سمجھنے کو کہ اس کی اپنی آزادی ورکنگ کلاس کی آزادی کے ساتھ قریبی طور پر جڑی ہوئی ہے ۔ وہ دیکھتی ہیں کہ ان کے پاس ورکرز کے کاز کے لیے جدوجہد کے سوا کوئی راہ نہیں۔
روسی سلطنت کے مغربی حصے میں سیاسی طو رپر سب سے باشعور ’’عورت مزدور ‘‘پہلے ہی تحریک سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ مرد مزدوروں کو اُن کی جدوجہد میں مدد کرتی ہیں اور جو کچھ مزدوروں کی تحریک کے بارے میں کہی یا لکھی ہوئی ہے اُسے توجہ سے فالو کرتی ہیں۔ وہ عوامی میٹنگوں میں حصہ لیتی ہیں ، یوم مئی مناتی ہیں اور منظم ہوتی ہیں اور خود اپنے عورتوں کے اخبار تلاش کرچکی ہیں۔ عورتوں کی تحریک سال بہ سال بڑھتی جارہی ہے۔
روس کے کچھ حصوں میں عورتیں بھی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کر رہی ہیں۔ مثال کے بطور ہم 1895میں سینٹ پیٹر سبرگ میں لافارمے تمباکو فیکٹری میں عورتوں کی ہڑتال کا تذکرہ کرسکتے ہیں۔1897میں بریسٹ ۔ لیٹو اسک اور بیلو سٹوک wrappersاور سگریٹ فیکٹریوں کی ، اور حال میں کیف میں کاٹز ؔ سگریٹ کے کاغذ کی فیکٹری کی ، ولنا ؔ میں ہوزری ورکرز کی، اور کونشن ورکس پہ ریگا اور سرپو خوف کی ہڑتالوں کاتذکرہ کر سکتے ہیں ۔ اُن کے ساتھ ساتھ ، عورتیں اور مرد عموماً کاٹن بافی اور سپننگ ملز پہ بہ یک وقت واک آوٹ کرتے ہیں۔

Check Also

انجیلا ڈے وس(خودنوشت) ۔۔۔۔ ترجمہ:سید سبطِ حسن

اتفاق سے اُنہیں دنوں میری ملاقات کئی کمیونسٹ گھرانوں سے ہوئی اور بٹینا اپٹھیکر جو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *