Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اے اللہ، خیر کی بارشیں برسا!۔۔۔ عابد میر

اے اللہ، خیر کی بارشیں برسا!۔۔۔ عابد میر

یہ بلوچی فوک کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں ایک عام بلوچ خیر کی دعا مانگتا ہے، امن کی تمنا کا اظہار کرتا ہے۔۔۔امن، جو خوش حالی لاتا ہے، وصل کا باعث بنتا ہے، امن جو انسانی سماج کی حتمی منزل ہے۔ بلوچ فوک لور میں شامل یہ مکمل دعائیہ کلمات کچھ یوں ہیں:
’’ اے اللہ! خیر کی بارشیں برسا / میٹھے پانی کے تالاب بھر دے / دُور دراز جانے والے پردیسیوں کو واپس لا / مویشی رکھنے والے بڑے بڑے مال داروں کو / ہار سنگھار کی ہوئی عورتوں کو واپس لا / یہ دنیا چند روزہ ہے / محبوب کے ساتھ وصال نصیب ہو / اورہم وصال کے موقع پر دل کی باتوں کا تبادلہ کریں ۔‘‘
پر، ’درد کی انجمن‘بنا ہوا بلوچوں کا دیس ایک طویل عرصے سے امن کی بارش کو ترس رہا ہے۔ ذرا خیر کی بوندیں نہیں برستیں، کہ جنگ کا‘ بدی کا قاتل سورج پھر نصف النہار پہ آ جاتا ہے۔ خیر کا خواب ابھی تعبیر کے ساحل پہ لنگر انداز نہیں ہوتا کہ جنگ کا طوفان اس دیس کے بحر بیکراں میں تلاطم برپا کر دیتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے خیر و شر کی یہ کشمش اس دیس کامستقل مقدر بنی ہوئی ہے۔
خیر و شر کی جنگ تو خیر کئی نیا تصور نہیں، نا انسانی سماج کے لیے یہ کوئی نیا عذاب ہے۔ اس جنگ کے اصل المیے کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جب سماج کے صاحب الرائے افراد اپنی شعوری سطح کے مطابق برسرعام خیر کو خیر، اور شر کو شر نہ کہیں سکیں،محض اس سبب سے کہ ایسا کوئی بھی اظہار انھیں ’غدار، ملک دشمن، وطن دشمن، ایجنٹ‘ وغیرہ کی فہرست میں لا کر ابدی نیند سلانے یا زندہ رہتے ہوئے مرگِ مستقل کا باعث بن سکتا ہے۔ جب سماج کے باشعور اور حساس ترین احباب قلم کو مصلحت کی نذر کرنے کا مشورہ کرنے لگیں، جب محض آزادانہ رائے کا اظہار ہی آپ کی جان کی قیمت ٹھہرے تو اُس سماج کے قبرستان بننے میں بھلا کیا کسر باقی رہ جاتی ہے۔ جان کی امان کے عوض تحریر کو ترک کرنے کا مشورہ جالبؔ ایسے باغی کو بھی ملا تھا، اور اس سر پھرے نے اس مشورے کو اس تحقیر کے ساتھ یوں ’برسرعام ‘کر دیا کہ،
ہم سے کہتے ہیں کچھ یار ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو
جالبؔ نے ایسے ہر مشورے کو نوکِ پا اور سماج کے ہر درد کوسدا نوکِ قلم تلے رکھا، کہ اسی سے جاں کا قرض ادا ہوتا تھا، اسی سے قلم کی سرفرازی ہوتی تھی۔ قلم تھامنے والے یہ جانتے ہیں کہ جس روز آپ اسے اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، گویا اسی روز اپنا سر ہتھیلی پہ رکھ دیتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اہلِ قلم ہو کر اہلِ درد کا ساتھ نہ دیں۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی اہلِ شعور عوام کی نسبت کسی طاقت ور طبقے کے ساتھ کھڑا ہو۔۔۔ کہ اہلِ قلم، انسانوں کو کسی نام و نسبت سے نہیں، محض ایک ہی تعارف سے جانتے ہیں؛
ایک ظلم کرتا ہے، ایک ظلم سہتا ہے
آپ کا تعلق ہے کون سے گھرانے سے
البتہ، مجھے اجازت ہو تو ظلم سہنے کو میں ’ظلم سے لڑنے‘ سے بدل دوں،(ایک ظلم کرتا ہے، ایک اس سے لڑتا ہے) کہ جو لکھنے والا مظلوم انسانوں کو ظلم کے خلاف لڑنے کا درس نہ دے، وہ گویا قلم کے ساتھ، تحریر کے ساتھ زناکاری کا مرتکب ہوتا ہے۔ سو، حالات کیسے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، معاملات کیسے ہی جان لیوا کیوں نہ ہوں، حق کہے بنا بات نہیں بنتی۔
اور حق یہ ہے کہ بلوچستان میں جب بھی کسی عام آدمی کی لاش گرتی ہے ، ساحر ؔ کی آوازکی بازگشت یہاں کے پہاڑوں میں تادیر گونجتی رہتی ہے؛’خون اپنا ہو کہ پرایا ہو، نسلِ آدم کا خون ہے آخر۔‘ اہلِ سیاست خواہ اس حقیقت کو نہ جانیں پر اہلِ دل مانتے ہیں کہ ’ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں، کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے۔‘ امن کے لیے ترسی ہوئی زمین پہ جب بھی عام آدمی کا خون گرتا ہے(خواہ وہ کسی بھی نسل کا ہو) ،اس کی کوکھ کے بانجھ پن میں اضافہ کرتا جاتا ہے۔ اور جب دھرتی کی کوکھ بانجھ ہوتی ہے تو لکھنے والوں کے ذہن بانجھ ہوجاتے ہیں۔
ہمارے پورے خطے میں اس وقت شر کو خیر پہ عارضی سہی، برتری حاصل ہے۔ جنگ، امن پہ حاوی ہے۔ بدی، نیکی کو مات دیے ہوئے ہے۔ ادنیٰ، اعلیٰ کی جگہ لیے ہوئے ہے۔ اس لیے ایسے میں دلیل کی، منطق کی، شعور کی، حق کی بات کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ اہلِ الرائے اصحاب ایسے میں خود کو بے بس، لاچار و کم زور محسو س کرتے ہیں۔ سو، وہ محض اس دعا پہ ہی قناعت کرتے ہیں کہ، ’اے اللہ، خیر کی بارشیں برسا!‘

Check Also

مزاحمت یا انحراف ۔۔۔ پروفیسر(ر)کرامت علی

دانشوروں،شاعروں اور ادیبوں کے نام کھلا خط تخلیق بنی نوع انسان سے موجودہ دور تک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *