Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » ھمبوئیں سلام » آسناتھ کنول، آمنہ ابڑو، اسلم خواجہ،وحید زہیر، منیر رئیسانی،عطاء اللہ بزنجو،قندیل بدر

آسناتھ کنول، آمنہ ابڑو، اسلم خواجہ،وحید زہیر، منیر رئیسانی،عطاء اللہ بزنجو،قندیل بدر

جناب شاہ محمد مری صاحب،۔
آداب
امید ہے مزاج بخیر ہونگے۔’’سنگت‘‘ اپنی تمام تر ادبی رعنائی اور چاشنی کے ساتھ موصول ہوچکا ۔ بعض اوقات رسید دینے میں تاخیر اس لیے ہوجاتی ہے کہ دیگر گھریلو مصروفیات گھیرا ڈالے رکھتی ہیں۔
کچھ لکھنا پڑھنا، خط کا جواب دینا بھی گھریلو کاموں کی طرح ہے ۔ جیسے جیسے وقت ملتا ہے سارے کام ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بس دیر سویر کی معذرت ۔پچھلے دنوں چونکہ مری جانے کا اتفاق رہا اس لیے بھی وقت ہاتھ سے نکلا رہا۔ کبھی جناب آغا گل سے ملاقات ہوتو میرا سلام عرض کیجئے گا۔ مجھ سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ خیر اب ماہتاک ’’سنگت‘‘ کی بدولت رابطہ رہے گا۔
سلامت رہیے۔
آسناتھ کنول
لاہور
***

ایڈیٹر صاحب
سنگت اگست کا شمارا پڑھا۔۔۔
میں ہر دفعہ سنگت کچھ عجیب سے اپنے طریقے سے پڑھتی ہوں۔
پہلے ایڈیٹوریل اور اس کے فوراً بعد شاعری، اور پھر آرام و سکون کے ساتھ باقی رسالہ۔
لیکن اس مرتبہ کچھ الگ طرح سے پڑھا سنگت کو۔ ‘‘سیغ’’ (عدت) کے احساس میں ڈوبی ‘‘خودکلامی’’ اس مرتبہ میں نے سب سے پہلے پڑھا اور سچ مانئے کہ اس کے بعد پھر میں کافی دیر تک بقیہ ‘‘سنگت’’ نہ پڑھ سکی، جب یہ پڑھا تھا ’’وفا کی عدت کے لئے کوئی مقرر وقت نہیں ہوتا‘‘۔
اس ماہ کا ایڈیٹوریل بھی وقت کی ضرورت کے مطابق ایک شاندار تحریر ہے۔ ‘‘ماہناک سنگت’’ میرے لئے ایک شاہ لطیف والے ایسے قصر کے مترادف ہے جس میں سینکڑوں دروازے اور کھڑکیاں ہیں۔ جہاں عقل و شعور ہے آپ بیتیاں جگ بیتیاں ہیں، قومی اور بین لاقوامی شاہکاروں کے تراجم ہیں۔ کتابوں کے رویوز ہیں، حالات حاضرہ کے مسائل پر بات چیت ہے، شاعری ہے کہانی ہے۔۔سب کچھ ہے۔ اس بار ڈاکٹر مری اور ڈاکٹر فہمیدہ حسین صاحبہ کے بھٹائی پر لکھے مقالے اپنی نوعیت کے انوکھے مسودے ہیں کہ جن کی توسط سے کچھ اچھوتے زاویوں سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کو دیکھا جا سکتا ہے۔
رسالے میں موجود دیگر احباب کی تحریریں بھی بہت قیمتی ہیں۔
شاعری میری کمزوری ہے اور اس لئے شاعری کو تخلیق کر سکنے والے شاعر بھی مجھے بہت پیارے ہیں۔اور ‘‘سنگت’’ کا شکریہ کہ اس کے توسط سے میرے پیاروں میں اضافا ہوا۔
اس ماہ کے ‘‘سنگت’’ کو پڑھ کر اور ہمارے پیارے اور محترم ڈاکٹر امیرالدین صاحب کو یاد کر کے جہاں دکھ کا سما چھایا وہاں ایک تحریر کو پڑھ کر بے انتہا مزا آیا وہ ہے ڈاکٹر نجیبہ عارف صاحبہ کے قلم سے نکلا ‘‘سائیں کمال خان شیرانی’’ کا رویو۔۔۔ بہت خوبصورت لکھتی ہیں ڈاکٹر نجیبہ ۔
میں سنگت ٹیم کی شکرگزار ہوں کہ ہر ماہ مجھے سنگت وقت پر مل جاتا ہے۔
آمنہ ابڑو ۔کراچی
***

محترم عابدہ صاحب
سنگت کا شمارہ ہر ماہ موصول ہوتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا مستقل شائع ہونا ہے۔ بلوچستان میں اس وقت لکھے جانے والے افسانوں اور شاعری کے اردو ترجمے شائع کیے جانے سے بلوچستان سے باہر کے قارئین مستفید ہوں گے۔ بلوچستان میں سنگت کے علاوہ دیگر گروپوں کی بھی ادبی اور دانش ورانہ سرگرمیوں کی رپورٹس شائع کرنا بھی ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔
اسلم خواجہ، کراچی
***

محترم ایڈیٹر
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان سے نکلنے والے جرائدمیں سنگت واحد فکری رسالہ ہے جو نہ صرف باقاعدگی سے چھپتا ہے بلکہ پڑھنے والوں تک ڈاک،نیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بروقت پہنچتا بھی ہے۔ چونکہ بلوچستان کی سطح پر نہ پہلے اس کا مقابلہ تھا اور نہ اب ہے، اس لیے اپنے مواد اور فکری لحاظ سے یکتا ہے۔ ایک باقاعدہ قاری و لکھاری کی خواہش ضرور ہوتی کہ سنگت کے لکھنے والوں کی فہرست میں اضافہ ہو۔ نئے نئے موضوعات پر مباحث ہوں۔ حسبِ حال سیاسی،ادبی رحجانات پر لکھے گئے مضامین اور تخلیقات کے تراجم شامل ہوں۔
حسبِ روایت ماہ اگست 2018 کا شمار ہ اپنے پُر فکر، پُر اثرو با معنی اداریے اور شندرہ کے ساتھ قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ خود بیداری کے لیے چونڈیاں بھی لیتا ہے۔ پروفیسر سید امیرالدین کا گوشہ نہایت جاندار ہے۔سنگت کا اپنے اسلاف کی شخصیت،جدوجہد کو یاد کرنا ،ان کی تعمیر ی فکر کا جائزہ لینا، اس سوچ کا آئینہ دار ہے،جس کی داغ بیل سنگت کے سرپرست اعلیٰ ماما عبداللہ جان جمالدینی ا ور ان کے رفقا نے رکھی ہے۔
ملکی سطح پر اگر کسی تبدیلی کا چرچاہے تو اس میں ہمارے بزرگوں کی قربانی اور جدوجہد بھی شامل ہے۔ترقی پسندوں میں انہوں نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ موجودہ سنگت کے سنگتوں سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اس شمع کو بجھنے نہیں دیں گے۔ یہ شمارہ اس تعلق اور محبت کا بھر پور اظہار ہے۔
شمارے میں شامل دیگر مضامین اور حصہ نظم میں شامل مواد بھی خوب اور توانا ہے۔ البتہ افسانوی ادب کے شامل نہ ہونے کی شکایت ہوسکتی ہے۔شاہ لطیف اور سائیں کمال خان شیرانی پر لکھے گئے مضامین عمدہ ہیں ۔
بہرحال ماہ اگست کا شمارہ مواد کے اعتبار سے خوب اور لائقِ تعریف و تذکرہ ہے۔
وحید زہیر، کوئٹہ
***

جناب عامد میر صاحب
سنگت کا اگست 2018ء کا شمارہ اپنی مخصوص خُو بُو لیے ہوئے طلوع ہوا۔ ہر طرح کی ناانصافی، ظلم،عدم برداشت، محکوم طبقات اور ان کے بارے میں لکھنے اور عملی جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں تحریریں لیے ہوئے۔اس مرتبہ کا اداریہ چار عنوان لیے ہوئے تھا۔مستونگ بم دھماکے کے حوالے سے ایک مختصر مگر بھرپور اداریے نے ’نہیں کہنا‘ کی گردان کرتے ہوئے اتنا کچھ کہہ دیا کہ خیال آیا کہ کیسے بدبخت ہیں وہ کہ جن پر ایسی تحریر بھی اثر نہیں کرتی۔ اسی طرح’الیکشن 2018ء،سماجی تبدیلیوں کے لوازمات‘ اور’عدت‘(سیغ) بھرپور تحریریں ہیں۔کیا شاندار فقرہ ہے کہ ’وفا کی عدت تاحیات ہوتی ہے۔‘ سماجی تبدیلی کے لوازمات میں ایک سائنسی تجزیہ کیا گیا ہے؛ ہر طرح سے جامع۔ البتہ کچھ نکات ایسے ہیں کہ جن پر اختلاف کے حوالے سے الگ تحریر چاہیے۔
یہ شمارہ مجموعی طور پر پروفیسر امیرالدین کی یادیں لیے ہوئے تھا۔ ڈاکٹر عطااللہ بزنجو، جیئند جمالدینی، پروفیسر شاہ محمد مری، سرور آغا اور عائشہ امیر کی تحاریر پڑھنے کے بعد بس اسی پچھتاوے اور احساسِ محرومی نے گرفت میں لیے رکھا کہ میں ایسے عالم، متحرک، پُرزندگی انسان سے کیوں محروم رہا۔
شاہ لطیف پر ڈاکٹر جعفراحمد اور ڈاکٹر مری کے مضا مین نے آشکار کیا کہ علم، احساس اور شاعری اصل میں کیا ہے۔ کتابوں پر تبصرے میں نجیبہ عارف نے سائیں کمال خان کے حوالے سے خوبصورت، برجستہ مضمون لکھا ہے۔ چے گویرا پہ ڈاکٹر مری کی کتاب پر عابدہ رحمان نے ہمیشہ کی طرح خوب صورت لیکن’افسانہ طبیعت‘تبصرہ لکھا ہے۔ عابدہ کتاب کا تبصرہ بہت گہرائی میں جا کر کرتی ہیں لیکن ان کی تحریر کی خوب صورتی کبھی کبھی نفسِ مضمون سے دور کر دیتی ہے۔
اس مرتبہ شاعری بہت اعلیٰ درجے کی شائع ہوئی(میری غزل کو چھوڑ کر)۔
اورسب سے پہلے کہنے والی بات آخر میں یاد آئی۔ وہ یہ کہ تمثیل حفصہ کے بنائے ہوئے سرورق نے ہمیں اپنی کم فہمی کو مزید شدت سے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔میں اب تک آتش فشاں دراڑوں، پہاڑوں اور ہیولوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی کوشش میں ہوں۔
ڈاکٹر منیر رئیسانی، کوئٹہ
***

ایڈیٹر سنگت
سنگت کا اگست کا شمارہ اوور آل اچھا تھا۔
اداریے میں مستونگ دھماکہ اور حالیہ الیکشن پہ جس طرح سماجی تبدیلی کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا ،وہ زبردست ہے لیکن اس الیکشن کی شفافیت اور موجودہ حکمرانوں کی کریڈیبلٹی پہ مزید کھل کر بولنا چاہیے۔
اس کے علاوہ شاہ لطیف کے حوالے سے جو مضامین تھے ،وہ بہت زیادہ معلوماتی اور مفید ثابت ہوئے۔ ان سے شاہ لطیف کو ایک نئے انداز سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹرامیرالدین کا گوشہ بھی اچھا رہا۔ سنگت کو اپنے اکابرین کو اسی طرح یاد کرتے رہنا چاہیے۔
لیکن مجھے اس شمارے میں جو چیز سب سے زیادہ اچھی لگی وہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے شائع ہونے والا اشتہار تھا۔ اشتہار تو اور بھی شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن اس طرح کے انفارمیٹو اشتہار کم ہی شائع ہوتے ہیں۔ اس میں بچوں کی صحت کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت کو جس طرح واضح کیا گیا تھا، میں سمجھتا ہوں اسے تمام والدین خصوصاً ماؤں کو لازماً پڑھنا چاہیے۔ اور ایسے اشتہار سنگت میں زیادہ سے زیادہ شائع ہونے چاہئیں۔
ایک شکایت بھی ہے مجھے کہ ہر مہینے کی معروف شخصیات کی تاریخ وفات اور تاریخ پیدائش کی اشاعت کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ بہت اچھا اور معلوماتی ہے لیکن اس ماہ کی فہرست میں 26 اگست (اکبر خان بگٹی کی شہادت) کا دن تو شامل تھا، لیکن 28 اگست (ارشاد مستوئی کی شہادت) کا دن شامل نہیں تھا۔ ایسے فکری ساتھیوں کو ہمیں نہیں بھولنا چاہیے۔
اس کے علاوہ میری تجویز ہے کہ سنگت ایٹوریل بورڈ کی میٹنگ ہر ماہ، یا کم از کم ہر دو ماہ بعد ہونی چاہیے، اور اس کے اہم فیصلوں کی رپورٹ شائع ہو تاکہ قارئین کو بھی اس سے آگاہی ہو۔
ڈاکٹر عطاء اللہ بزنجو
***

محترم بھائی عابد میر

مجھے خوشی ہے کہ پچھلے تین سال سے میں ’سنگت‘ کا باقاعدہ حصہ ہوں،’سنگت ‘ میں چھپنے کے ساتھ ساتھ اس کی مسلسل قرأت بھی میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔بہ ظاہر اس نازک اندام رسالے میں علمی پیاس بجھانے کا کافی سامان ہر بار موجود ہوتا ہے۔ویسے تو ہر لکھنے والا نظریاتی ہوتا ہے ،بنا نظریے کے قلم اٹھانا ایک بے مصرف عمل ہے۔ البتہ نظریے کا محل وقوع اور اس کی وسعت سب کے یہاں یکساں نہیں ہوتی۔اسی طرح ملکی سطح پر چھپنے والے تمام رسائل و جرائد کسی نہ کسی نظریے کی دین ہیں۔لیکن سنگت جیسا ’نظریاتی فریم ورک ‘اس کا وسیع و عریض محل وقوع اور اس کی پاس داری ہر ہر شمارے کی حد تک ،کسی دوسرے رسالے /جریدے کے بس کی بات نہیں ۔میں ہر بار سنگت کی فہرست دیکھ کر چونک جاتی ہوں اور پڑھنے کے بعد مزید حیرت مجھے گھیر لیتی ہے۔ ہر ماہ اس درجے کی طباعت ،مرحلہ وار ایک بڑا اقدام ہے ۔بلوچستان کی سیاسیات،سماجیات، ادبیات بہ شمول یہاں کے تاریخی،تہذیبی اور علمی ورثے کے ،اور ہر شمارے میں ان کی یک جائی یقیناًایک ناممکن امر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی دانش پارے برابر کی مقدار میں ہر سنگت کا حصہ بنتے ہیں۔ نیز خواتین کی نصف اور بسا اوقات نصف سے بھی زائد نمائندگی ،ہر سنگت میں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے ۔یہ تمام عوامل میرے نزدیک قابل ستائش بھی ہیں اور قابل رشک بھی ،ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے ڈاکٹر شاہ محمد مری جیسے کسی دیوانے کی ضرورت ہے اور ایسی دیوانگی ،کمال ہوشیاری کے اس عہد میں تقریباً مفقودہو چکی ہے۔
سنگت ،اگست 2018کا شمارہ مجھے بر وقت ملا اور خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک سے ملا۔وہ گھرتشریف لائے ہمیشہ کی طرح ایک خوشگوار ملاقات رہی۔میرے نزدیک وہ ’زندگی‘ کے استاد ہیں ۔جینے کا قرینہ ان سے بہتر کوئی نہیں سکھا سکتا۔چناں چہ ہمیشہ کی طرح زندگی کرنے کے سنہرے گُر سکھا کر چلے گئے اور میں تادیر ان کی خوبصورت باتوں سے روشنی کشید کرتی رہی۔’سنگت‘ بھی میرے نزدیک زندگی کرنے کا قرینہ سکھاتا ہے۔اگست کا شمارہ کھول کر ابتدائی صفحات پڑھ لیجیے ،خوبصورت رنگوں کی ایک گھٹڑی کھل جائے گی۔ مستونگ دھماکے جیسے سنگین اور دل دہلا دینے والے واقعے پر ایسا’ اظہاریہ‘ یہیں رقم ہو سکتا تھا۔سنگت کی آئیڈیالوجی اس خطے کے انسانوں کے لیے آکسیجن کے مترادف ہے۔جہاں زندگی کا تصور محال ہو ،وہاں زندگی کی ،یقین کی ،امید کی اور مستقبل کے خوابوں کی باتیں، وہ بھی اس کمال حوصلے اور سر بلندی کے ساتھ کرنا ،ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ بلوچستان کے دانش ور، دنیا کے عظیم دانش ورورں کی فہرست میں گنے جانے کا استحقاق رکھتے ہیں ۔جس خطہء ارضی پر ایک دن زندگی کرنا آسان نہ ہو، وہاں اسی عزم و ہمت اور حوصلے سے جیا جا سکتا ہے ۔جو ڈاکٹر مری کا عزم ہے اور جو سنگت کا بنیادی وظیفہ ہے۔ڈاکٹر صاحب اس مٹی سے بلند ہونے والی ہر آواز کو زوردار، توانااور قوت بخش دیکھنا چاہتے ہیں ۔منمناتی،ماتمی اور سوگوار آوازیں اس مٹی کی ،یہاں صدیوں سے دی جانے والی قربانیوں کی اور یہاں کے اہل دانش کے نظریات کی توہین جیسی ہیں۔چوں کہ یہ اس مٹی کی ناموس کا سوال ہے، لہذایہ مُردنی کسی طور امکان نہیں رکھتی۔سو اس پر عزم حوصلے کو ریلے کی صورت بہتے رہنا ہوگاتاکہ یہاں کے انسانوں کی تقدیر بدلی جا سکے۔
اگست شمارہ ،پروفیسر امیر الدین کے گوشہِ خاص پر مشتمل ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سنگت ہمارے عظیم اساتذہ اور دانش وروں کو کسی طور نظر انداز نہیں کر تا۔اس کے علاوہ کمال خان شیرانی سے متعلق دو اہم مضامین شامل ہیں جن میں سے میں نے فی الوقت ڈاکٹر نجیبہ عارف کے مضمون کا مطالعہ کیا ہے جوانتہائی محبت سے لکھا گیا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر تین جب کہ مست توکلی پر ایک شاندار مضمون بھی شمارے کا خاص رخ ہے۔عالمی دانش سے انجیلا ڈیوس،کروپسکایا کے تراجم اور چی گویرا (ڈاکٹر مری کی کتاب کا تعارف )بھی شمارے کا حصہ بنے ہیں۔جن میں سے کچھ تاحال نہیں پڑھ سکی لیکن جو پڑھ چکی ہوں وہ دل و دماغ میں گھر کر گئے ہیں۔میرا شعبہ شاعری ہے لہذاجو سیکشن میں سب سے پہلے پڑھتی ہوں وہ شاعری کا سیکشن ہے۔ اس شمارے میں بھی شاعری کا اعلی انتخاب موجود ہے ۔تمثیل حفصہ کی ’’ٹکڑیاں ‘‘ خاصے کی چیز ہیں جو کور کا حصہ بنی ہے ۔بیک کور پر انجیل کی خوبصورت نظم لگائی گئی ہے، بہنوں کی تخلیقات یوں بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں، اس پر سنگت کی عزت افزائی نے خوشی دگنی کر دی ہے۔رضوان فاخر کی غزل اور نظم دونوں بے حد پسند آئیں اللہ پاک اس کے فن کو مزید نکھار بخشے ۔کشور آپا سے اسامہ امیر شیخ تک سبھی کا انتخاب دل کش ہے ۔ اورہمارا تفخر نوشین قمبرانی ۔۔۔جس کے ان اشعار سے بہتر اختتام ہو نہیں سکتا جو میری مٹی کی مکمل کتھا سنا رہے ہیں ؂
قہر پیتا ہے، مہر جنتا ہے
ان گدانوں کا سلسلہ مری جاں

میری مقتول وادیاں، مرا خوں
میرے شہدا مری بقا، مری جاں
قندیل بدر، کوئٹہ

Check Also

عبدالوحید عاقب

شاہ محمد مری صاحب السلام و علیکم!۔ مرچی منی موضوع اِیں ’’غم ئے انڑس‘‘۔ غم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *