Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » کشور ناہید

کشور ناہید

بھولے ہوئے زخموں کو آئینہ دکھاتا ہے
اے کوچہ رسوائی کیوں مجھ کو بلاتا ہے
جب آنکھ ذرا جھپکے ، باتوں میں لگا لینا
یہ شوقِ تماشا بھی کیا حشر اٹھاتا ہے
کیوں آنکھ پہنتی ہے ملبوسِ عزاداری
کیوں خوابِ خزاں خورہ وحشت کو بڑھاتا ہے
معلوم نہیں کچھ بھی ، معلوم سبھی کچھ ہے
طاؤسِ بیابانی کیا مجھ سے چھپاتا ہے
لہجہ نہیں اب تجھ سا، رشتہ نہیں اب تجھ سے
یک طرف محبت تھی ،کیوں یاد دلاتا ہے
وہ شاخ نہیں باقی پھولوں سے جو بھرتی تھی
اس آہوئے خستہ کو صحراہی بلاتا ہے
وہ آئے ٹھہر جائے ، ایساتو کوئی دن ہو
بس خوابِ ندامت ہے ، آتا کبھی جاتا ہے

Check Also

فہمیدہ ریاض کی کہی ہوئی آخری نظم 

(بشکریہ نجمہ منظور اور انیس ہارون صاحبہ) میں جس کمرے میں رہتی ہوں اِس کمرے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *