Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ آسناتھ کنولؔ 

غزل  ۔۔۔ آسناتھ کنولؔ 

واقعہ تھا تو حادثہ بھی تھا
دل کہیں پر کبھی جھکا بھی تھا

مدتوں بعد یاد آیا ہے
اُس سے نسبت تھی سلسلہ بھی تھا

آس کی رہ گزار پر چُپ چاپ
آرزو کا کوئی دیا بھی تھا

ایک حسرت رہی فنا کے ساتھ
ایک ماہوم سا گلہ بھی تھا

تو نے گھبرا کے ساتھ چھوڑ دیا
میں ترا درد آشنا بھی تھا

وقت کٹتا نہیں بہانوں سے
تو حقیقت کا آئنہ بھی تھا

آسؔ کچھ دیر اُس کو سوچتے ہیں
وہی منزل تھی راستہ بھی تھا

Check Also

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی! ۔۔۔ گل خان نصیر

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *