Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » خمیازہ ۔۔۔ کرشن چندر

خمیازہ ۔۔۔ کرشن چندر

’’آپ مجھے پہچان گئے۔جی ہاں میں ہی اکرام علی شاہ بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ہوں۔کلب کے باہر شربتی رنگ کی جو ٹویوٹا گاڑی کھڑی ہے،وہ مجھے پچھلے سال جاپان کی ایک فوٹو گرافک نمائش میں اول آنے پر انعام میں ملی تھی اور یہ پولو رائیڈ کیمرہ اور آئی کن زیوس کیمرہ دونوں مجھے نیویارک میں نمائش میں دوسرے نمبر پر آنے پر ملے تھے۔جی ہاں،آپ نے مجھے جس فارن لڑکی کے ساتھ میرین ڈرائیور پر اکثر گھومتے دیکھا ہے،بمبئی میں،وہ ماریسا تھی،میری ماڈل۔میں نے سمندر کی کنارے اس کی بہت سی تصویریں لی ہیں،مجھے عورت اور سمندر میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے،دونوں کی شخصیت پر اسرار ہے،دونوں بلا وجہ طوفانی ہو جاتے ہیں،کبھی بلاوجہ شانت،ابھی سمندر کی لہریں پیار کرنے والی عورت کی طرح ساحل کو اپنی انگلیوں سے گد گداتی ہیں،چند لمحوں بعد یہی کمزور لہر مہیب اچھال بن کر ساحل کو کاٹنے لگتی ہے،نہ سمندر سمجھ میں آتا ہے نہ عورت،شاید میں اسی لئے ان دونوں میں بے حد کشش محسوس کرتا ہوں۔آپ نے ابھی عورت کے مجہول اور بے وقوف ہونے کی وجوہات کہیں تو اس سلسلے میں ایک قصہ سناتا ہوں،قصہ کیا ہے،واقعہ ہے،ذرا وہسکی اور لے لوں،جام خالی ہے۔بیرہ! ادھر گلاس میں ایک ڈبل ڈمپل مارو۔‘‘
ہم سب پہلگام کلب کی بار کے اونچے اونچے سٹولوں پر بیٹھے ہوئے عورتوں کی معصومیت،انجان پن اور حماقتوں کے قصے بیان کر رہے تھے،کیونکہ ہم میں کوئی عورت نہیں تھی اور تین تین پیگ اندر جا چکے تھے۔اکرام علی کا البتہ یہ پانچواں ہو گا۔اس کا چہرہ انار کی طرح سرخ تھا،اس نے پولو نیک کا گلابی رنگ کا موٹا سوئیٹر پہن رکھا تھا اور گہری بزکارڈ مخمل کی بیل باٹ،دونوں گھنی بھویں ماتھے کے بیچ آ کر مل گئی تھیں،اس کی آنکھوں میں ایک تیز عیار چمک تھی۔جب ہنستا تھا تو اس کے چہرے پر ایک کامیاب اور کھڑے ہوئے لفنگے کی مطمئن بے فکری چھا جاتی،مگر ایسی بے فکری جس میں ایک رنگ ذہانت کا بھی تھا اور وہ ذہانت اس کی آنکھوں میں تھی۔اکرام علی نے وہسکی کے دو گھونٹ لئے،گلاس اٹھا کر اسے دو تین بار مختلف زاویوں سے ابر کی سنگ مر مر سطح پر دائرے بنائے،غالباً وہ سوچ رہا تھا،کہاں سے شروع کرے،پھر جیسے اس کی سمجھ میں پورا واقعہ آگیا۔
’’یہ چار دن پہلے کا واقعہ ہے اور اب اسے سنانے میں کوئی اندیشہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ لڑکی یہاں سے جا چکی ہے ۔آج سے چار دن پہلے میں نے اس لڑکی کو غلام بٹ کے جنرل سٹور میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا تھا،کندھے سے لٹکے ہوئے جھولے میں لنچ باکس تھی اور وہ غلام بٹ کے پھلوں کے ڈبے، Tinned Foodsمکھن کا ڈبہ،سامن مچھلی کا ڈبہ اور دوسری بہت سی چیزیں خرید رہی تھی۔میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا،کیونکہ میں نے پہلی نظر میں اسے پہچان لیا تھا،جیسے آپ نے پہلی نگاہ میں مجھے پہچان لیا،یہ سجاتا تھی۔سجاتا کو آپ نہیں جاتے؟۔
حیرت ہے،سجاتا کا شمار بمبئی کی حسین ترین لڑکیوں میں ہوتا تھا،ایک زمانے میں اس کا بڑا غلبہ تھا کچھ عرصے تک اس نے فلموں میں بھی کام کیا،مگر چلی نہیں،فلم میں چلنے کے لئے مشکل کے علاوہ تھوڑی سی عقل بھی چاہیے،خوب صورت عورت کو زیادہ عقل کی ضرورت نہیں،لیکن پھر بھی تھوڑی سی تو چاہیے،یعنی آٹے میں نمک کے برابر۔میں نہیں کہہ سکتا ہوں فلموں میں کیوں نہیں چلی،کیونکہ میرا تعلق کسی فلم سے نہیں ہے،اس کے بعد سنا ہے،وہ لندن جا کر ماڈلنگ کرنے لگی،مگر وہاں بھی زیادہ نہیں چلی،کیونکہ ہندوستانی لڑکی تھی اور یورپین لوگ زیادہ تر یورپین لڑکیوں کے خد و خال ہی پسند کرتے ہیں،پھر وہ واپس ہندوستان آگئی اور کرمان اینڈ سنن بک سیلز اینڈ پبلشر کے ہاں کتابیں بیچنے لگے،مگر وہاں بھی اس کا دل نہیں لگا،کیونکہ خوب صورت عورت خود ایک کتاب ہوتی ہے،کئی باب میں تقسیم کے بعد اس نے توبہ کر لی اور اپنے لئے ایک شوہر ڈھونڈنے لگی۔یہ سب باتیں میں اس لئے جانتا ہوں کہ میں ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتا ہوں اور سجاتا آرام ایوی نیو میں رہتی ہے،جو ایڈورڈ ایوی نیو سے ملحق ہے،ایڈورڈ ایونیو کے نکڑ پر جی وائین کا جنرل سٹور ہے،یہاں پر کبھی کبھار میری اور اس کی ملاقات ہو جاتی ہے،گو گفتگو کی کبھی نوبت نہیں آئی،اس جنرل سٹور میں وہ تصویر کشی کے کاغذ خریدنے آتی تھی اور میں اپنی فوٹو گرافی کا سامان۔کئی بار ہم کاؤنٹر پر ساتھ ساتھ کھڑے دیکھے گئے،ایک دو بار میری اور اس کی کہنی کے درمیان ایک دو انچ کا فاصلہ رہ گیا،مگر اس سے بات چیت کی نوبت نہیں آئی کیونکہ سجاتا اپنے جسن پر اپنے سنہری بالوں پر اپنے کٹیلے سرخ لبوں پر اپنی بھوری بھوری آنکھوں پر بے حد مغرور نظر آتی ہے،شاید وہ چاہتی تھی کہ میں پہل کروں اور میں چاہتا تھا کہ وہ پہل کرے اور میں نے دیکھ لیا ہے جس معاشقے میں مرد پہل کرتا ہے،اسے اس کا ضرورت سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے،پھر کچھ یہ بات بھی ہے کہ میں اپنی ٹویوٹا پر بے جد نازاں تھا،اور سوچتا تھا کہ جس مرد کے پاس ایسی خوبصورت گاڑی ہو گی اس کا دروازہ کھول کر لڑکی کو خود بخود بیٹھ جانا چاہئے۔چنانچہ یہ دلچسپ کشمکش دیر تک چلتی رہی۔میں اسے اکثر مختلف مردوں کے ساتھ دیکھنے لگا،وہ لوگ بھی گاڑی والے تھے اور خوش پوش اور کھاتے پیتے چہرے والے،جب وہ بار بار جلدی جلدی اپنے بوائے فرینڈز بدلنے لگی تو مجھے اس کے اخلاق پر شبہ ہونے لگا،حالانکہ جلدی جلدی بوائے فرینڈز بدلنا آج کل ہر شریف لڑکی کا شیوہ بن گیا ہے،کیونکہ یہی فیشن ہے۔جو لڑکی اس فیشن کو اختیار کرتی ہے وہ ہائی سوسائٹی کی نظروں سے گر جاتی ہے۔مگر بار بار اور نئے نئے چہروں کے بیچ میں ایک چہرہ بار بار دیکھتا تھا،وہ درمیانے قد کا مضبوط بدن کا ٹھوڑی پر مخروطی داڑھی لئے ہوئے ایک نوجوان تھا،ہرے رنگ کی فیاٹ میں آتا تھا اور دھیرے دھیرے مجھے اس سے نفرت ہوتی جاتی،مگر یہ جان کر تسلی ہوئی تھی کہ سجاتا دوسرے مردوں کے ساتھ بھی جاتی ہے،اور کسی دن دوسرے مردوں میں میرا نمبر بھی آ سکتا ہے۔زندگی اور عشق امید پر قائم ہیں،اسی لئے تو میں آج چار دن پہلے سجاتا کو پہلگام کے بازار میں غلام بٹ کی دکان پر دیکھ کر چونک اٹھا۔وہ اکیلی تھی،جگہ بھی نئی تھی اور مارسیا مجھے غچا دے کر لندن چلی گئی اور میں اکیلا تھا اور پہاڑوں پر سرگوشیاں کرتے ہوئے اشجار سب عورتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ ٹورازم کے محکمے کواس طرف دھیان دینا چاہئیے،کال گرل کا نام تو بہت بدنام ہو چکا ہے اس کی جگہ اگر ٹورسٹ ہوسٹس کا نام رکھ دیا جائے تو اپنا کام بھی بن جائے اور حکومت پر بد اخلاقی کا الزام بھی نہ آئے،کیوں کیسی رہی یہ تجویز؟۔خیر صاحب میں دکان کے اندر چلا گیا اور بڑی بے اخلاقی بے خوفی بلکہ گہری اپنائیت سے اسے کہا ہیلو۔وہ میری طرف مڑی،آنکھوں میں حیرت لئے ہوئے،پھر مجھے پہچان لیا اور جب پہچان لیا تو اس کا چہرہ ماتھے سے ٹھوڑی تک ایک روشن مسکراہٹ سے چمک چمک گیا،دراصل اجنبی پہاڑوں پر اگر کوئی اپنا پہچان والا مل جائے تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔
’’ہیلو‘‘ وہ بولی
’’آپ ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتے ہیں نا؟‘‘
’’ہاں‘‘
میں نے سر ہلایا
’’اور آپ آرام ایوی نیو میں۔گویا ہم دونوں ہمسائے ہیں‘‘
وہ خوشی سے ہنسی۔میں نے پوچھا
’’آپ اکیلی آئی ہیں؟‘‘
’’بالکل…شہری زندگی کی گہما گہمی سے بہت دب گئی تھی۔‘‘ وہ بولی
’’سوچا پہلگام جا کر کچھ دن اکیلے رہوں گی،قدرتی مناظر کی مصوری کروں گی۔‘‘
’’میں بھی اکیلا ہوں‘‘
میں نے اسے بتایا
’’پہلگام کی فوٹو ڈاکومنڑی تیار کرنے کے لئے آگیا،مگر اس ڈاکو منٹری کے لئے آپ کی مدد درکار ہو گی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘میں نے کہا
’’خالی قدرتی مناظر کی تصاویر لینا میری ڈاکومنٹری کو گھس پٹی بنا دے گا،ان خوبصورت مناظر میں جان ڈالنے کے لئے ایک خوبصورت لڑکی بھی چاہئے،تم ان مناظر میں معنی پیدا کر دو گی۔‘‘
’’آپ تعریف کرنا جانتے ہیں‘‘
وہ پہلے تو شرمائی پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔’’عجیب بات ہے‘‘ میں نے اسے کہا
’’اتنے دنوں سے ہم دونوں اک دوسرے کے ہمسائے ہیں مگر ملاقات آج ہوئی۔میں بھی آپ کو مادام ڈاینس کی دکان پر فوٹو گرافری کا سامان خریدتے دیکھتی تھی اکثر مگر نہ جانے بات چیت کیوں نہیں ہوئی‘‘۔
’’قصور دراصل میرا ہے،اتنی حسین و جمیل لڑکی سے مرعوب ہو جانا قدرتی امر ہے‘‘
’’مگر میں تو معمولی لڑکی ہوں اور مغرور بھی نہیں ہوں‘‘
’’خیر جو وقت وہاں ممبئی میں ضائع کیا اس کی تلافی ہو سکتی ہے‘‘۔
میں نے گہری نظروں سے اسے تاکتے ہوئے کہا۔
’’آپ نے اپنا نام تو بتایا ہی نہیں‘‘وہ بولی۔
’’مجھے اکرام کہتے ہیں،اور آپ کا نام تو میں جانتا ہوں سجاتا،آپ کہاں ٹھہری ہیں؟‘‘
’’منور ہوٹل کے قریب کاٹج بی چالیس اس کا نمبر ہے اور آپ؟‘‘
’’میں روز ویو ہوٹل میں ٹھہرا ہوں،کمرہ نمبر اٹھارہ‘‘
’’اچھا میں چلتی ہوں‘‘
اس نے کاؤنٹر سے مڑ کر ایک قدم دکان کے باہر کی جانب بڑھایا۔میرا ہاتھ بے اختیار اس کی کلائی پر گیا
’’ایسی بھی کیا جلدی ہے،چلئے روز ویو ہوٹل میں آپ کو بہت بڑھیا کافی پلاؤں
،اتنی اچھی کافی پہلگام میں اور کہیں نہیں ملتی۔‘‘
’’وہ تھوڑی دیر تو مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی،پھر اس نے جیسے کوئی فیصلہ کر لیا ہو،مسکرا بولی
’’اچھا چلیے۔‘‘
میں نے سوچا یہ پہلا قدم ہے لاونج میں بیٹھیں گے،نرگسی پھولوں کے گلدان کی اوٹ میں اس کی آنکھوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھتا رہوں گا اور اس کے پیارے چہرے کی دلچسپ ادائیں ۔باتیں ہوں گی،کتابوں کی،مصوری کی،ماڈلنگ کی،جدید فیشن کی،پھر میں اسے اپنے تازہ ترین فوٹو البم دکھانے کے لئے اپنے کمرے میں جانے کی دعوت دوں گا،یونہی زینہ بہ زینہ عشق کا جذبہ بلند ہوتا ہے۔
وہ بولی
’’اکرام کہنے میں جبڑا دکھنے لگا ہے،اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں اکی کہا کروں؟‘‘
’’اکی‘‘
میں دل ہی دل میں خوشی سے اچھل پڑا،ایسا نام میری کسی بھی گرل فرینڈ کو آج تک کیوں نہیں سوجھا۔
’’تمہارے منہ سے اکی بہت اچھا لگتا ہے،مگر خدا کے لیے کبھی مجھے اکا نہ کہنا۔‘‘
وہ زور سے ہنسی،دیر تک ہنستی رہی،میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا،اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہنے دیا،میں اس کی انگلیوں سے کھیلنے لگا وہ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گلدان کے نرگسی پھولوں کو سجانے لگی۔
میں نے پوچھا
’’سجاتا تمہیں عقل رکھنے والی کتابوں سے نفرت کیوں ہے؟‘‘
اس نے کہا
’’میں اکثر دیکھتی ہوں کہ تمام کتابوں پرحتی کہ فلسفے کی کتابوں پر بھی کسی خوبصورت عورت کی تصویر ہوتی ہے،اب اگر کسی کتاب کو عورت کے سہارے کے بغیر بیچا نہیں جا سکتا تو یہ عقل کی بہت بڑی توہین ہے۔‘‘
’’عقل کی توہین نہیں ہے،عورت کی توصیف ہے،اس کتاب کو کھول کر ورق ورق پڑھنا چاہیے۔‘‘ میں نے پوچھا
’’فلموں میں تمہیں کیسی فلمیں پسند ہیں؟‘‘۔
وہ بولی
’’ایسی فلمیں جن میں مرد بے وفا ہوتے ہیں اور عورتیں ان کے لئے رو رو کر جان دے دیتی ہیں،یعنی بالکل روایتی فلمیں‘‘
’’اور ماڈلنگ کیوں چھوڑ دی؟‘‘
’’وہ لوگ اسٹوڈیوں کو بیڈ روم میں بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں دونوں جگہوں کو الگ الگ سمجھتی ہوں۔‘‘
کافی جلدی ختم ہو گئی میں نے اس سے کہا
’’تمہارے لئے کافی اور منگاؤں؟‘‘
’’نہیں اب میں جاؤں گی‘‘
وہ گھڑی دیکھ کر بولی۔میں نے کہا
’’اوپر چلو۔میرا تازہ فوٹو البم دیکھو۔میرے کمرے میں۔یہ تو مجھے کہنا ہی تھا،اس بات کو تو کہا ہی جاتا ہے،ایک نہ ایک وقت۔اور جواب سننے کے لئے دل دھڑکتا ہے۔وہ رکی سنجیدہ ہوئی،مسکرائی،پھر میری طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی۔میں نے اداس ہو کر کہا
’’شاید تمہارے پاس وقت نہیں ہے۔ ‘‘
’’میرے پاس وقت ہی وقت ہے‘‘
وہ لاپرواہی کے انداز میں ہاتھ جھلا کر بولی۔
’’مگر کمرے میں کیوں چلیں،کیا ہم لوگ پہاڑوں پر کمروں میں بند ہونے آئے ہیں؟‘‘
’’پھر تمہارا کیا ارادہ ہے؟‘‘
اس نے پوچھا
’’تمہارے پاس گاڑی ہے۔‘‘
’’ہاں‘‘
کچھ امید بندھنے لگی،میں نے جلدی سے کہا
’’اپنی ٹویوٹا ساتھ لایا ہوں‘‘
’’تو پہلگام سے دور کہیں چلتے ہیں‘‘
وہ بولی
’’میرے ذہن میں ایک جگہ ہے،چندن واڑی کے راستے پر۔بائیں جانب ایک وادی کے دامن میں پہاڑی جھرنا ہے دیودار کے پیڑوں کا ایک خوبصورت کنج ہے،سامنے پھولوں کی جھاڑیوں سے بھرا ہوا ایک میدان ہے وہاں چلیں گے،وہاں دن بھر رہیں گے،شام کو لوٹ آئیں گے،تم اپنا کیمرہ لے چلو،میں اپنا مصوری کا سامان لے چلتی ہوں،یعنی اگر ہم ایک دوسرے سے اکتا گئے ہیں تو۔۔‘‘
وہ عجیب طریقے سے ہنسی۔میرے ذہن میں وہ وادی گھوم گئی اور دونوں بچوں کی طرح پھولوں کے قطعوں پر لوٹتے ہوئے،ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دوڑتے ناچتے ہوئے،پھولوں میں گھر کر ایک دوسرے سے لپٹ کر پیار کرتی ہوئی نگاہوں میں گرم گرم سانسوں میں ننھی ننھی سرگوشیاں جو محبت کے چشمے پر بلوریں حباب کی طرح ناچتی رہتی ہیں،وہ سب کچھ۔میں نے اپنی گاڑی نکالی اور پن چکی کے پل سے ہو کر چندن واڑی کی طرف بڑھ گیا،ہوا تیز تھی،سجاتا کے بال گہرے گلابی ہو چکے تھے،اس نے اپنے اڑتے ہوئے بالوں پر ایک کشمیری رومال باندھ لیا تھا جس سے وہ بے حد پر اسرار معلوم ہونے لگی تھی،میں جلد سے جلد اس کنج میں پہنچ جاتا چاہتا تھا،مبادا کہیں سجاتا اپنا ارادہ تبدیل نہ کر دے۔آدھے گھنٹے سے بھی کم عرصے میں وہ وادی سامنے آ گئی،یہاں سڑک اوجھل ہو گئی،میں نے انجن کٹ کر دیا،اور پٹ کھول دیا،سجاتا اپنا سامان لے کر باہر نکلی اور میں اپنا سامان لے کر۔ہم دونوں جھرنے کی طرف بڑھ گئے۔بڑی خوبصورت جگہ تھی،جیسا کہ سجاتا نے بیان کیا تھا ۔صاف شفاف پانی گنگناتا ہوا،اور جنگلی پھولوں کے قطعے قطار اندر قطار۔ ڈھلانوں پر دیوار کے پیڑ اور بادل سفید بطخوں کی طرح آسمان پر تیرتے ہوئے،یکا یک ایک آدمی جھرنے کے قریب سے اٹھا،میں نے اسے دیکھا جہاں سے وہ اٹھا تھا،اس کے قریب ایک ایزال بھی اپنے لکڑی کے چوکھٹے کو لئے کھڑا تھا،میں نے اس آدمی کو پہچان لیا تھا،یہ وہی آدمی تھا جو اپنی ہری فیاٹ میں سجاتا سے ملنے سجاتا کے گھر آتا تھا۔وہ آدمی مسکراتے ہوئے سجاتا کی طرف بڑھا۔
’’بڑی دیر کر دی‘‘
اس کے منہ سے نکلا۔سجاتا اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑی لجاجت سے بولی
’’کیا کرتی ڈارلنگ کوئی گاڑی ہی نہیں ملی،بڑی مشکل سے ان کو‘‘ میری طرف اشارہ کر کے تیارکر کے یہاں تک آئی ہوں،یہ ہیں مسٹر اکرام… اور مسٹر اکرام یہ ہیں میرے شوہر نور شاہ‘‘۔
نور شاہ نے زبردستی میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے سے مصافحہ کیا اور بولا
’’آپ لنچ تک تو ٹھہریں گے نا؟‘‘
میں نے اس کی آواز سنی اور پھر چند لمحوں کے لئے ساری وادی میری نگاہوں میں گھوم گئی۔’’شکریہ‘‘
ایک پھنسی ہوئی آواز میرے گلے سے نکلی۔پھر میں وادی میں سے مڑا اور اپنی ٹویوٹا میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔چلتے چلتے دیر تک سجاتا کافاتحانہ قہقہہ میرے کانوں میں گونجتا رہا۔‘‘
اکرام نے اتنا کہہ کر قصہ ختم اور گلاس ختم کر دیا،پھر بار میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر بولا۔تو صاحب یہ ہے کل کی داستان،آئیے عورت کی بے وقوفی اور حماقت کو ٹوسٹ کرتے ہوئے ایک جام پئیں،بیرہ ایک ڈبل ڈمپل اور مارو۔

Check Also

واہگ ۔۔۔ میکسم گورکی / عبداللہ شوہاز

پیپے آ دہ سال اِنت ، بلئے انگت گشئے چو چیچّی ئے پیما سہر سہر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *