Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » سماجی تبدیلی کا فارمولا؟

سماجی تبدیلی کا فارمولا؟

انسانی تاریخ، اپنی حالت بہتر بناتے رہنے کی تدابیر کی تاریخ رہی ہے۔ فرسودگی کے زمانوں سے لے کر آج کی ترقی یافتہ دنیا تک یہی سلسلہ رہا ہے ۔ اور یہ سلسلہ بے انت ہے، بے کراں ، لازوال اور ابدی ہے ۔انسان اپنی نسل کے لیے بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہی رہے گا۔
ظاہر ہے کہ تبدیلی اور بہتری کی رفتار شروع شروع میں بہت سست رفتاررہی۔ اس لیے بھی کہ پیداوار کے آلات ابتدائی اورفرسودہ صورت میں تھے۔ اوراس وجہ سے بھی کہ انسان کو سماج کا شعور ہی نہ تھا۔ ابتدائی انسان جو کچھ دیکھ اور سمجھ سکتا تھا، اُسی کے بہتر بنانے کو پورے معاشرے کا بہتر بنانا گردانتا تھا۔ چنانچہ کسی نے کلچر کے بہتر بنانے کو سماج کا بہتر بنانا سمجھا، کسی نے خواتین کی حالت میں اصلاح کرنے کو ، اور زیادہ تر نے تو اخلاقیات کو۔ سماج کو مجموعی نہیں بلکہ ٹکڑوں میں بہتر بنانے والے اِن سارے فلاسفروں کو ’’یوٹوپیائی‘‘ فلاسفر کہتے ہیں۔
انیسویں صدی میں جاکر فلاسفرز (کارل مارکس اور اینگلز )اس قابل ہوئے کہ اِن تمام یوٹوپیائی فلاسفروں کی دریافتوں کو اکٹھا کردیں اور سماج کے مجموعی مطالعے پہ لگ جائیں۔ چنانچہ جومجموعہ یوٹو پیائی مفکروں کی دریافتوں کو اکٹھا کرنے ، ان کی نوک پلک سنوارنے اور انہیں سائنسی صورت دینے سے وجود میں آیا ، اُسے مارکسزم کہتے ہیں۔ اس مارکسزم میں سپارٹیکس سے لے کر انیسویں صدی تک کے یوٹوپیائی فلاسفروں کی تعلیمات سموئے ہوئے ہیں۔
مارکسزم نے کچھ عجب دریافتیں کیں۔ ایک یہ کہ کپٹلزم میں محنت کا استحصال ہوتا ہے اور چنانچہ سرمائے کا ارتکاز ہوتا ہے۔ یہ بھی کہ کپٹلزم سماجی ترقی کا حتمی نہیں بلکہ ایک عبوری پڑاؤ ہے اور یہ بلند تر مراحل میں داخل ہو کر اپنا نام ، حلیہ اور کرتوت بدل ڈالے گا۔ مگر ایسا آٹومیٹک نہ ہوگا،اس کے لیے عوام الناس کی شعوری اور انقلابی مداخلت حتمی ضرورت ہے ۔ مارکس اور اینگلز نے یہ بھی دریافت کیا کہ استحصال کے بغیر ، ایک ’’خود حکمراں‘‘سماج کی طرف جو تبدیلی ہوگی ، وہ انقلابی تبدیلی ہوگی،ارتقائی نہیں۔ اور یہ کہ مزدور طبقہ اس انقلاب کی راہنمائی کرے گا۔
مارکسزم نے اپنی دریافتوں پر اکتفا کرنے کے بجائے اُن کی ہمیشہ آ بیاری کرتے رہنے کا اصول بھی دریافت کیا۔ اس نے خود کو جامد، ساکن ڈوگما بنائے رکھنے کو مسترد کیا۔ مارکسزم زندہ ہی اُس وقت تک رہے گا جب تک کہ نئے تجربات اور مظاہر سے اس کی مسلسل وابستگی رہے گی۔ مارکسزم جدید ترین تضادات ، اُن کے شیڈز اور پیچیدگیوں کے ساتھ رشتہ استوار رکھتا ہے ۔
مارکسزم تسلسل کے ساتھ تھیوری اور پریکٹس کے بیچ باہم عمل کرتے ہوئے ، باہم اثر ڈالتے ہوئے زندہ رہتا اور بڑھوتری کرتا ہے ۔ مزدور طبقے نامی پیداواری قوت کپٹلزم سے اپنی آزادی کے حصول کے لیے مارکسزم کا ہتھیار استعمال کرتا ہے ۔ اور ایسا وہ اپنے اپنے خصوصی حالات کے مطابق کرتا ہے ۔
چنانچہ مارکسزم عقیدہ نہیں ہے ۔ یہ رواج نہیں ہے، آئین بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ یہ بذاتِ خود’’حقیقت ‘‘ بھی نہیں ہے ۔ یہ تو حقیقت تلاش کرنے کا سب سے سائنسی طریقہ ہے ۔
مارکسزم کی روشنی میں،آج دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دھڑا دھڑمنافع پرست کپٹلسٹ ترقی نے زندگانی کے لیے دو خطرات پیدا کیے ہیں: ماحولیاتی بحران، اور ، ایٹمی جنگ کا خطرہ۔
آئیے پہلے ماحولیاتی بحران کا جائزہ لیں۔
ہم اگر زندگی اور زندگانی کو لائٹ نہ لیں تو حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ماحولیاتی بحران ایٹمی جنگ جتنا بڑا خطرہ ہے ۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ انسان اور نیچر کے بیچ ہمیشہ سے ایک توازن موجود رہا ہے ۔ مگر اندھادھند انڈسٹریلائزیشن کے سبب اس توازن میں ایک بنیادی عدم توازن پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ عدم توازن پیدا کیا منافع نے ، منافع کی لالچ نے ، کپٹلزم نے ۔’’منافع‘‘ بہت ناترس ، نا مختمم ، اور لامحدود جذبہ ہوتا ہے۔ یہ بھیڑیوں لگڑ بھگڑوں کی ایسی دوڑ ہے جس میں ’’جیتنا‘‘ نہیں ، بلکہ ’’جیتتے رہنا‘‘ ہی مقصد ہوتا ہے۔ اس دوڑ کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدمقابل خواہ جاندار ہوں یا کاربن سے بنی دیگر’’اشیا ‘‘ بس اُسی کی تجوریاں بھرنے کے روبوٹ بن جائیں۔ کپٹلزم نے منافع کی خاطر اپنے اندر موجود موروثی تباہ کن سرمایہ دارانہ پیداواری پراسیس کو تیزی سے اور اندھا دھند انداز میں بڑھایا ۔بالخصوص اس نے فاسل فیول انڈسٹری (پٹرول ، سوئی گیس، کوئلہ) میں سرمایہ کاری کی لامحدود توسیع کی ۔لہذا،ماحولی آلودگی اپنی خطرناک سطح کی بلندی تک جاپہنچی۔ نتیجہ یہ کہ منافع کی نہ بجھنے والی پیاس نے،ایک طرف توزمین کے محدود وسائل کو ختم کرنے کی حد تک کم کردیا،اور دوئم ،ماحولیاتی تباہی کو برداشت کرنے کی زمین کی سکت سے کئی گنا بڑا بوجھ ڈال دیا۔
ہم انسان تونیچر (فطرت)سے الگ نہیں ، اِس کا حصہ ہیں ۔اور ہم نیچر کے ساتھ لیبر پراسیس کے ذریعے انٹرایکٹ کرتے ہیں۔لالچی کپٹلزم نیچر اور انسانی معاشرہ کے درمیان موجود باہمی انحصار میں ایک بڑی دراڑ پیدا کرتا ہے۔ یوں انسانوں کے اندر اپنے لیبر اور نیچر سے بیگانگی پیدا کرتا ہے ۔
سرمایہ دارا نہ پیدا وار کی انارکی، استحصال اور عدم مساوات ماحولیات کے اس بحران کو تیز کرتا رہتا ہے ۔ حتی کہ وہ اِس بحران سے نمٹنے کی ہر کوشش کی جڑیں کاٹتا ہے ۔
یہ بحران کیا ہے؟ ۔ یہ بحران ہے سطح سمندر کی بلندی، گلوبل وارمنگ ، قحط، صحراؤں کے رقبے میں مسلسل وسعت ، موسموں کی انتہا پسندی ، سمندر کی تیزابیت ، اور وسیع پیمانے پر درختوں، پودوں اورجانداروں کی انواع یعنی Speciesکی معدومیت۔
ماحولیاتی بحران سے عالمی مالیاتی بحران پیدا ہوتے ہیں، وسیع معاشی مائیگریشن ہوتی ہے، غربت ، بھوک، بیماری ہوتی ہے اور ٹکنالوجیکل انقلاب کے ذریعے مزدوروں کی بڑھتی ہوئی معاشی مہاجرت کی ہوتی ہے۔
چونکہ کپٹلزم اپنے بنیادی ستون یعنی منافع کے بغیر رہ نہیں سکتا ، اس لیے کہ وہ اِن بحرانوں کو حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
ماحولیاتی تباہی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ساری انسانیت طبقہ ،معاشی نظام اور ملک وعلاقہ کی تمیز کیے بغیر ایک دیر پا توانائی پروڈکشن کی طرف تیز رفتار ی سے جائے ۔ سماج کا ریڈیکل تنظیم نو ہی حل ہے۔ اور تنظیمِ نو کامطلب پوری انسانیت کے قدرتی وسائل کا مشترکہ استعمال ہے ، دولت کی از سرِ نو تقسیم ہے ۔ورکنگ کلاس اور عوام الناس کی منظم قوت کے ذریعے مداخلت ہے۔گلوبل ورکنگ کلاس کا اتحاد ہے۔ اور قطع نظر اس کے کہ یہ عبور کتنی جلدوقوع پذیر ہوگا، ماحولیاتی بحران اور اس کے نتائج بد تر ہوتے جائیں گے اور نسلوں تک انسانیت کو کھرچتے رہیں گے ۔

دنیا میں حسن، خوشبو، مناظر، لطف، مسرت او رنعمت کے اجتماع یعنی زندگی کو دوسرا خطرہ ایٹمی جنگ سے ہے۔ اور یہ خطرہ سب سے بڑے ایٹمی ملک امریکہ اور اس کے کلب سے ہے ۔ذرا غور کریں پیسہ ضائع کرنے والے جنگی اخراجات اُس ملک کے بجٹ کا نصف بناتے ہیں۔
حالانکہ سوویت یونین تیس برس قبل فوت ہوچکا۔ ہمار اخیال تھا کہ اُس کی فوتگی کے بعد امریکہ کے لیے دنیا بھرمیں موجود800فوجی اڈوں پر خرچہ کرتے رہنے کا سب سے بڑا جواز ختم ہوجائے گا ۔ مگر نہیں،عالمی ایٹمی اسلحہ دوڑ تو اسی طرح سرپٹ جاری ہے ۔ چنانچہ جو لوگ سمجھتے تھے کہ کولڈوار کے بعد ایٹمی تباہی کا خطرہ کم ہوگا، غلط ثابت ہوئے۔ آج یہ خطرہ کولڈوار کے زمانے سے کئی گنازیادہ بڑھ چکا ہے۔
اس خطرے کا کم کرنا انسانیت کا دوسرا بڑا چیلنج ہے ۔ بالخصوص امریکی ’’سماج ‘‘کوغیر فوجی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سمجھ لینا ہوگا ملٹری مصنوعات پر خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر انسانیت کی روحانی،اخلاقی اور طبعی موت میں حصہ دار ہوگا۔ یہی ایک ڈالر تو ہمیں ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کی طرف خرچ کرنا تھا، انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر صرف کرنا تھا، ہیلتھ ، ایجوکیشن اور ہاؤسنگ پر لگانا تھا۔
منافع پر مبنی سرمایہ داری نظام کا سیاسی غضب یہ ہے کہ یہ جمہوریت کے بجائے آمریت اور فاشزم کی طرف جاتا ہے ۔ ارتکازِ دولت غیر جمہوری عمل ہے۔دیکھیے ،امریکہ دنیا کا سب سے بڑا کپٹلسٹ ملک ہے اور وہی دنیا کا سب سے بڑا فاشسٹ ، رائٹسٹ اور مطلق العنان ملک ہے ۔ کمال دیکھیے کہ چار چیزیں جب ملتی ہیں تو ٹرمپ بن جاتا ہے: ارتکازِ دولت، حکومت پر فاسل انڈسٹری کی بالادستی ،ملٹری کار پوریشنوں کی حاکمیت اور دائیں بازو کی سماجی تحریکوں کا اثرور سوخ۔ یہ چار چیزیں جمہوریت کو اس طرح کھاجاتی ہیں جس طرح دیمک لکڑی کو کھاجاتی ہے۔
یاد رکھیے جمہوریت خوف کی فضا میں نہیں پلتی، معاشی تحفظ سے محروم فضا میں نہیں بڑھتی ، نسل پرستی میں نہیں جیتی، عورت سے نفرت کے ماحولمیں نہیں پھلتی ، معاشی نیشنل ازم میں جڑیں نہیں پکڑتی ۔ جمہوریت کو سپر پاوری کی جنونی فضا میں ٹی بی ہوجاتا ہے، بیرونی حکومتوں کو زور ،اور، زر سے تبدیل کرنے کا خواب جمہوریت کی موت ہوتی ہے۔ سفارت کاری کے بجائے فوجی طاقت کی د ھمکی جمہوریت کے بنیادی خواص کے خلاف ہے ۔ ۔۔ آج کا امریکہ اِن سب جمہوریت دشمنیوں کا مجموعہ ہے ۔
حل یہ ہے کہ اُس سب کا الٹ کیا جائے جو آج سُپرپاور امریکہ دنیامیں مروج کرنا چاہتا ہے۔وہ بولتا ہے گولہ بارود، آپ کہیے ووٹ اور رضا ۔ وہ بولتا ہے تشدد آپ کہیے قائل کرنا۔وہ کہتا ہے فاشزم آپ کہیے جمہوریت۔وہ کہتا ہے من مانی آپ کہیے احتجاج، ہڑتال ۔ وہ کہتا ہے فرمان وآرڈی ننس آپ کہیے اسمبلی اور اکثریت ۔ وہ کہتا ہے فوجی اڈوں کی مضبوطی آپ کہیے جمہوری اداروں کی مضبوطی ۔وہ کہتا ہے نسل پرستی ،پدرسری آپ کہیے نسلی اور جنڈر مساوات ۔ وہ کہتا ہے ممالک کے درمیان جنگ آپ کہیے دولت کی وسیع تقسیمِ نوکے لیے جدوجہد۔
مگر وہ آپ کو ایسا کرنے نہیں دیتا ۔وہ اِسے اپنے دین (منافع ) کا کفر گردانتا ہے۔وہ آپ کا سر کچل کے رکھ دے گا۔تو پھر آپ کیا کریں گے؟
ہمارا خیال ہے کہ یہ طریقہ ہر معاشرے کو خود ڈھونڈنا ہوگا۔اب بیسویں نہیں، اکیسویں صدی ہے ۔بیسویں صدی میں سوشلسٹ انقلابات ہوئے تھے اور غیر معمولی مشکل صورتحال میں سوشلزم کی تعمیر کی کوششیں ہوئی تھیں۔ وہاں زبردست حاصلات ہوئی تھیں،غلطیاں ، کوتاہیاں بھی بڑی بڑی ہوئی تھیں، اور بالآخر شکستیں بھی۔ یہ سب اکیسویں صدی کے انسان کے لیے تجربات ہیں، سبق ہیں۔بیسویں صدی میں سامراج کی گرفت اس قدر مضبوط نہ تھی جتنا اب ہے ۔ وہاں سامراج کو وہ سائنس اور ٹکنالوجی دستیاب نہ تھی جو آج کے سامراج کو ہے ۔ اور اُس وقت ایک سوویت یونین موجود تھا جو اب نہیں ہے۔
ان سارے اسباق کو سامنے رکھ کر اپنا راستہ بنا ئیے۔ مزدور طبقے کی طرف سے سیاسی اقتدار کے حصول کا کوئی ٹیسٹ پیپر اور گٹ تھرو گائیڈ موجود نہیں ہے۔مبنی بہ انصاف سماج کی طرف عبور کے لیے کوئی مینوئل موجود نہیں ہے۔اسی طرح اُس مستقبل کے نظام کے خاص فیچرز کے لیے کوئی ماڈل موجود نہیں ہے۔ پہلا قدم کب اٹھایا جائے ، آئندہ کی رفتار کیا ہو، سماج کو ساتھ کس طرح ملایا جائے ، اِن سب کے لیے کلیے اور فارمولے موجود نہیں ہیں۔ اپنی اپنی تاریخ ، روایات اور اپنے عوام کی حالت پر مبنی اپنی راہ تلاش کرنی ہوگی۔
بہت ہنرکاری سے ’’آج ‘‘ کے کپٹلزم کی بیماری کے علاج کے نسخے کا استعمال ’’آج ‘‘ کے حالات کے مطابق کرنا ہوگا۔

Check Also

سماجی تبدیلی کا اہم آلہ

ہم بیرونی طور پر سامراجی قرضوں ،اور دفاعی تجارتی ظالمانہ معاہدوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *