Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل  ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

غزل  ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

تم سے ہو جائیں بھی تو کیسے لوگ
کہاں ملتے ہیں تیرے جیسے لوگ

ایک تیری وجہ سے یار عزیز
چل کے آتے ہیں کیسے کیسے لوگ

حبس کے شہر بے مقدر میں
سانس لیتے ہیں جانے کیسے لوگ

جیسی تیسی ہو زندگی ہی جب
جی ہی لیتے ہیں جیسے تیسے لوگ

شہر کا شہر جل رہا ہے اور
شہر میں ملتے ہیں بجھے سے لوگ

اک تعارف یہاں ہے سب کا کمیل
لوگ پیسہ ہیں اور پیسے لوگ

Check Also

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی! ۔۔۔ گل خان نصیر

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *