Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

غزل ۔۔۔ علی کمیل قزلباش 

لباس عمر یقیناََ بہت نیا ہوتا
جو اختیار میرے پاس خود مرا ہوتا
میری حیات میری دسترس میں ہی ہوتی
یا میری موت میرا اپنا معاملہ ہوتا
یا مجھ سے پوچھتا کوئی، کہ تم نے جینا ہے
یا مجھ کو موت کی تشکیل کا پتہ ہوتا
اے کاش مجھ سے ستاروں کی پرورش ہوتی
میرا وثوق مہ و مہر پالنا ہوتا
میں روز کرتا کسی گل کے روبرو سجدہ
میری نوا میں کوئی آبجو ملا ہوتا
حلول کرتا میں ہر شب وجود میں اس کے
تو صبح نو نیا خوشبو کا سلسلہ ہوتا
یہ سارے مسلک و آئین و دیں نہیں ہوتے
یا پھر سبھی کا فقط ایک ہی خدا ہوتا
کمیل روز یہ میرے لئے نئی ہوتی
یا زندگی کے لئے میں ہی کچھ نیا ہوتا

Check Also

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی! ۔۔۔ گل خان نصیر

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *