Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » وحید نور

وحید نور

محوِسفر جنون کے ہیں ہم قدم سے ہم
اس طرح سْرخرو ہیں وفا کے عَلَم سے ہم

ہوتا ہے جانثاروں میں اپنا شمار بھی
پہنچے ہیں اس مقام پہ اپنے ہی دم سے ہم

تو لاکھ تفرقوں میں ہمیں بانٹ سْن مگر
انسانیت شعار ہیں اپنے دھرم سے ہم

آؤ کہ اب شروع کریں جنگ آخری
ہتھیار تم اٹھاؤ، زبان و قلم سے ہم

اب اس کی ایک راہ ہے راہِ انقلاب
تنگ آچْکے زمانے کے جو ر و ستم سے ہم

ہو جائیں جس سے اپنے دل و جان مطمئن
مانگیں گے کچھ نہ کچھ تو خدا یا صنم سے ہم

آتی نہیں ہے ہاتھ یونہی منزلِ مراد
بچ کر چلے زمانے کے نقشِ قدم سے ہم

Check Also

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی! ۔۔۔ گل خان نصیر

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *