Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » محمد علی بہارا ۔۔۔ حسن عسکری، سانگڑھ

محمد علی بہارا ۔۔۔ حسن عسکری، سانگڑھ

ڈاکٹر شاہ محمد مری ادب کے حوالے سے مارکسزم کی مقبولیت میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔یہ ان کا ظرف ہے کہ وہ اپنے پرانے ساتھیوں کو نہ صرف یاد رکھتے ہیں بلکہ اُن کی سیاسی جدوجہد، ان کی قربانیوں اور کن حالات میں لوگوں نے استحصالی نظام کے خلاف محنت کش عوام کو منظم کیا اور ان کی جدوجہد کے نتیجہ میں جو ثمرات حاصل ہوئے۔ اس پر مضامین اور کتابی سلسلوں کے ذریعہ تاریخ میں ان لوگوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ نئی نسل یہ جان سکے کہ آج وہ جس تحریک کا حصہ ہیں اس تحریک اور مارکسی فکر کو کس طرح ان لوگوں نے قربانیاں دے کر زندہ رکھا۔ یقیناًڈاکٹر کا یہ عمل قابل ستائش ہے ۔
ڈاکٹر صاحب کا حکم تھا کہ میں اپنے استاد محمد علی بہارا کے بارے میں اپنی کچھ یاد داشتیں تحریر کروں ۔میں نے بے ربط سی یادوں کو تحریر کرنے کی کوشش کی ہے۔
۔1917کے سوویت انقلاب نے دنیا بھر کے محنت کشوں کی تحریکوں کو حوصلہ بخشا۔ اسی کے نتیجہ میں ہندستان میں بھی 1919-21 میں کمیونسٹ پارٹی وجود میں آئی جس نے اس نیم براعظم میں محنت کشو ں کو منظم کرنا شروع کیا۔ ہندستان چونکہ انگریزوں کی کالونی تھا انگریز حکومت نے بادشاہت کو ختم کرکے زمین پر ملکیت کا قانون رائج کیا اور ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین پر ان بے ضمیر وطن فروش ، جاگیرداروں اور نوابین کو مالک بناکر اپنے اقتدار کو دوام بخشا ۔ جس کے نتیجہ میں وہ کسان جو نسل در نسل اس زمین کا سینہ چیرتے چلے آرہے تھے انہیں غلاموں کا غلام بنا دیا اور اس طرح کمیونسٹ پارٹی انڈیا نے مزدوروں کو آل انڈیا ٹریڈ یونین فیڈریشن، عورتوں کو ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن ، کسانوں کو کسان سبھا ، دانشوروں کو انجمن ترقی پسند مصنفین میں منظم کرنا شروع کیا ۔ تو موجودہ پنجاب میں کامریڈوں نے بھی کسان سبھا بنانا شروع کیا۔ جس میں ملتان ضلع کے کچھ کسان جن میں امیرالدین سہو، میاں ربنواز اور میاں محمد نواز چاون بھی کسان تحریک سے جڑے۔ نو عمری میں ہی محمد علی بھارا بھی کسان سبھا میں شامل ہوئے ۔ محمد علی بھارا 1930 میں ویہاڑی کے ایک گاؤں پٹھو میں پیدا ہوئے۔
۔1945کی دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین نے فاشزم کو شکست دے کر دنیا بھر کی محکوم قوموں کی جدوجہد آزادی کو اور تیز کردیا چاروں طرف سیاسی گہماگہمی تھی ۔ جس کے سبب نوجوان سیاست کا حصہ بن رہے تھے ۔
۔1967 میں ایوب حکومت کے دور میں آٹا 90روپے من اور چینی 2.5روپے کلو ہوئی تو پورا ملک سراپا احتجاج تھا۔ میں نویں کلاس کا شاگرد تھا ۔سکول سے گھر کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں نیشنل عوامی پارٹی کی اپیل پر مہنگائی کے خلاف ہزاروں کسان اور مزدور مرزا اعجاز بیگ اور محمد علی بھارا کی قیادت میں رواں دواں تھے ۔ ہم سکولی بچے بھی اس کے ساتھ ہو لیے ۔ سارا شہر مہنگائی اور ایوبی آمریت کے خلاف نعرے لگاتا سرکاری گوداموں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر مرزا اعجاز بیگ نے جو نیپ کے صدر تھے ، ایک بہت جذباتی تقریر کرکے عوام سے کہا کہ ان گوداموں کو لوٹ لو۔ تو پھر کیا تھا، ہزاروں بھوکے انسان گوداموں کے تالے توڑ کر حسبِ طاقت گندم اٹھانے میں مشغول ہوگئے۔ پولیس کے چند سپاہی اس جم غفیر کے سامنے بے بس تھے اور چند گھنٹوں میں ہزاروں من گندم کے ان ذخائر کو خالی کردیا گیا۔بعد ازاں نیپ کے رہنماؤں کو جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کرانے پر گرفتار کرلیا گیا ۔ مرزا اعجاز بیگ سے ہمارے فیملی تعلقات تھے جس وجہ سے میں جیل ویہاڑی میں ان قیدیوں کو کھانے پینے کی اشیاء پہنچاتا تھا۔ اس طرح محمد علی بھارا اور دیگر نیپ کے ساتھیوں سے میرا تعلق بنا اور آج تک تقریباً 50سال سے ان کو جاری رکھے ہوئے ہوں ۔ بھارا صاحب اور خالد لطیف کمال کے بندے تھے۔ ملتان پیشی کے دوران پولیس کی گرفت سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئے لیکن لاہور ہائی کورٹ سے دوبارہ گرفتار کرلیے گئے، چند ماہ کے بعد یہ چالیس پچاس افراد جیل سے رہا ہوئے۔
بھارا صاحب غلہ منڈی میں آڑھت کی دکان کرتا تھا جہاں کاروبار کم اور سیاست زیادہ ہوتی تھی ۔ ایوب حکومت کے خلاف تحریک زوروں پر تھی۔ بھٹو ایوب حکومت سے الگ ہوکر تاشقند معاہدہ کے خلاف متحرک تھا جگہ جگہ جلسے جلوس کررہا تھا ہر جلسہ میں کہتا تھا کہ میں دوسرے جلسہ میں اس معاہدے کے بارے میں بتاؤں گا۔ لیکن تاشقند معاہدے کی بلی تھیلی سے باہر نہ نکل سکی اور اس طرح سی آئی اے ایوب حکومت کو تاشقند معاہدہ اور سٹیل ملز وغیرہ کے معاہدے کرنے کے جرم میں اقتدار سے فارغ کرانے میں کامیاب ہوگئی۔
پیپلز پارٹی بھی وجود میں آچکی تھی اور نیپ بھی چین روس جھگڑے میں تقسیم ہونے جارہی تھی اور بہت سے نیپ کی اندر کی پارٹی کے لوگ( طفیل عباس معراج محمد خان اور زین الدین وغیرہ )پیپلز پارٹی میں شامل ہوکر اس پر قبضہ کرنے کی فکر میں تھے ۔ اس سے پہلے نیپ دوحصو ں میں بٹ چکی تھی ۔
یہ 1968کا ذکر ہے جب محمد علی بھارا کی دکان میں 2لیڈر میجر اسحاق اور ڈاکٹر اعزاز نظیر صاحب تشریف لائے۔ اتفاق سے ہم چند نوجوان بھی وہاں موجود تھے۔ ان تینوں لیڈروں کے درمیان گفتگو سنتے رہے۔ میجر اور ڈاکٹر صاحب اپنی بات سنانا چاہتے تھے لیکن بھارا صاحب ان سے کہہ رہے تھے کہ آپ لاہور سی۔آر اسلم سے بات کریں۔ اس طرح یہ دونوں لیڈر چائے پی کر روانہ ہوگئے۔ بعدازاں نیپ ،اورولی بھاشانی گروپ میں تقسیم ہوگئی ۔ بھارا صاحب نیپ بھاشانی میں تھے۔ ہم سب ان کے ساتھ تھے۔ ان دنوں میں بھارا صاحب نے طبقات اور طبقاتی کشمش اور سیاسی پارٹیوں کے فرق کو سمجھایا جس کا نتیجہ تھا کہ ہم بھٹو کے عذاب سے محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ نیپ کی تقسیم بھی انٹر نیشنل کمیونسٹ تحریک کے بٹوارے کی وجہ سے ہی ہوئی تھی ۔ میجر اسحاق نے نیب ولی سے الگ ہوکر مزدور کسان نیپ بنالی اور کامریڈ افضل بنگش سے مل کر مزدور کسان پارٹی بنائی اور اس طرح پاکستان کی کمیونسٹ تحریک 4,3حصوں میں بٹ گئی اور پھر ان تینوں دھڑوں کے بطن سے بہت سے گروپس نے جنم لیا ۔ ہم بھارا صاحب کی قیادت میں کسان کمیٹیاں بنانے کیلئے مختلف دیہاتوں میں ان کے ساتھ جاتے رہے اور 1970کی ٹوبہ کسان کانفرنس میں ضلع ملتان سے ہزاروں کسانوں نے شرکت کی۔ اس طرح ان کا کاروبار بھی ٹھپ ہوگیا اور پھر وہ فل ٹائم سیاسی ورکر کے طور پر کام کرتے رہے اور مختلف جگہ پر سٹڈی سرکل کا سلسلہ بھی چلتا تھا ، جس میں ویہاڑی ، ملتان، خانیوال، کبیر والا اور لودھراں کے کارکن بیٹھتے تھے ، جن میں عصمت اللہ چیمہ ، چوہدری محمد علی، محمد رفیق ڈھلو ، ماسٹر صدیق، خالد لطیف، تایا نصر، شیخ نذیر عرف بھاپا ، انور ببو ، چوہدری مختار ، چوہدری ریاض ، رانا مقبول، قیس سلیمی، رفیق ملک، الیاس شاہ، چاون برادران ، چوہدری احمددین، تاج سوز، نذیر شمسی، چوہدری فرزند، راؤ اعجاز وغیرہ سرکل میں بیٹھتے تھے اور مجھے بعد میں پتہ چلا کہ یہ سی۔پی کے سیل ہیں جب میں اس کا ممبر بنا۔ اس کی میٹنگیں بھارا صاحب کے گاؤں میں ہوتیں۔
۔1970 کے الیکشن کے درمیان مولانا بھاشانی نے الیکشن کا بائیکاٹ اور ویسٹ پاکستان کو بھی سلام کہہ دیا۔ لیکن ویسٹ پاکستان کی نیپ نے الیکشن میں حصہ لیا اور وہ کہیں بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ الیکشن کے بعد دسمبر کے آخر میں مغربی پاکستان نیپ کے ورکرز کا اجلاس پیپلز ہاؤس (سردار شوکت علی کی آفیس) میں دوروز تک جاری رہا ۔ دودن کے بحث مباحثہ میں قسور گردیزی ایئر مارشل نور خان کی صدارت میں پارٹی بنانے کی تجویز لائے اور سردار شوکت علی پیپلز پارٹی میں جانے کی تجویز دے رہے تھے لیکن ان حضرات کی تجاویز کو ہاؤس نے رد کرکے طے کیا کہ 23مارچ کو خانیوال میں ہونے والی کسان کانفرنس کے موقع پرطے کیا جائے گا۔
۔22مارچ کو کانفرنس کے پنڈال میں رات کو کلچرل پروگرام کا جس میں پیپلز پارٹی کے غنڈوں نے حملہ کیا اور وہ رات خانیوال میں میدان جنگ بنا رہااور کسان کارکنوں نے ان غنڈوں کو مار بھگایا ۔ 23مارچ کی کسان کانفرنس میں ہزاروں کسانوں نے شرکت کی اور بعدمیں ورکرز اجلاس ہوا جس میں دسمبر 1970کے اکثر ساتھیوں نے شرکت کی اور طے پایا کہ اب ہم بورژوا سیاست نہیں بلکہ اپنی پارٹی بناکر محنت کش طبقات کو منظم کریں گے۔ چنانچہ پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے نام سے کام کرنے کے لیے1973میں تاسیسی کانفرنس کرنے کا طے ہوا۔اس طرح 1972فروری میں وائی ایم سی اے ہال لاہور میں پارٹی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کارکنوں نے شرکت کی اور 1954کے بعد کی صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنی قیادت اور اپنی سیاست کا دور شروع ہوا۔
۔23مارچ 1972کو چنی گوٹھ (بہالپور) ایک زبردست کسان کانفرنس اور دسمبر میں ویہاڑی میں کسان کانفرنس منعقد کی گئی۔ چونکہ پنجاب میں سرکاری زمینوں پر مختلف سکیموں کے تحت ملکیت کا مسئلہ تھا جس پرکسان کمیٹی بھرپور انداز میں کسانوں کو متحرک کررہی تھی ۔ بل آخر بھارا صاحب کی جدوجہد رنگ لائی اور بھٹو حکومت سے کسانوں کو حقوق ملکیت دلانے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ کسان کمیٹی کی فتح ضرور تھی لیکن جہاں پارٹی موجود تھی وہاں کسان کمیٹیاں بھی برقرار رہیں اور جہاں پارٹی نہیں تھی وہاں کسان کمیٹیاں متحرک نہ رہ سکیں۔ لیکن ان رہنماؤں کی جدوجہد جاری رہی۔ 1973میں تانڈا (حسن ابدال) لاہور ، گجرانوالا اور دیگر علاقوں میں کسان کانفرنس کے ذریعے کسانوں کو متحرک کرتے رہنے کا کام جاری رہا۔
۔1972سانگھڑ میں پارٹی آفس کے افتتاح کے موقع پر سی آر اسلم ، خواجہ رفیق اوربھارا صاحب سانگھڑ آئے اور اس کے بعد مجھے اپنے ساتھ کراچی لے گئے جہاں محترمہ کنیز فاطمہ اور شوکت حیات سے ملوایا اور ہم نے سندھ میں پارٹی بنانے کا کام شروع کیا اور اکثر بھارا صاحب سندھ آکر میری رہنمائی کرتے رہے ۔ 1981میں ایم آر ڈی بننے کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا اور بھارا صاحب اورچوہدری بشیر انڈر گراؤنڈ ہوگئے ، میں بھی 1979سے انڈر گراؤنڈ تھا اور ہم تینوں نے یہ سارا وقت کراچی ہی میں گذارا ۔بھارا صاحب انٹر نیشنل معاملات بھی دیکھتے تھے۔ سینکڑوں طلباء کو ماسکو، پراگ اور سوفیہ پڑھنے کیلئے بھی بھیجتے تھے۔
زمانے میں کیاکیا تغیرات آئے لیکن بھارا صاحب کی شفقت میں کوئی فرق نہیں آیا اور ہم نے استاد اور شاگرد کے رشتہ کو برقرار رکھا۔اور آج تک ان کی رہنمائی میں میں بھی اور وہ بھی زندہ ہیں اور ہر دوسرے دن فون پر رابطہ برقرار ہے ۔ گوکہ ان کے اکثر پرانے ساتھی آج زندہ نہیں ہیں لیکن ان کے شاگرد اقبال ملک اور فرحت عباس جیسے کارکن موجود ہیں جو ان کی رہنمائی میں سرگرم عمل ہیں۔
بھارا صاحب کی یہ خصوصیت کہ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں جس کے سبب وہ توانائی بھی حاصل کرتے ہیں اور ساتھیوں کو متحرک رہنے کا درس بھی دیتے ہیں ۔ گو کہ آج کل وہ اپنے گاؤں میں ہی مقیم ہیں لیکن بذریعہ موبائل وہ ڈاکٹرشاہ محمدمری سے لیکر حسن عسکری تک رابطے میں رہتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا سایہ اور ان کی رہنمائی برقرار رہے۔

Check Also

روایت ، ترقی اور ناسٹلجیا  ۔۔۔ ڈاکٹر منیررئیسانی

ماہنامہ سنگت کوئٹہ کے ستمبر 2018 کے شمارے میں محترم وحید زہیر صاحب اور محترم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *