Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » گوہر ملک  ۔۔۔ شان گل

گوہر ملک  ۔۔۔ شان گل

نہ وقت رکتاہے اور نہ اُس کی رفتار تھم جاتی ہے ۔قرنہا قرن سے گردشِ ایام کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے اور اسی گردش ایام کے سبب سماج اپنے اندر تبدیلیوں کو قبول کرتا ہے ۔ انہی معاشرتی تبدیلیوں کے اثرات سماج کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں ، عورت کو بھی ۔
شعر وسخن مہناز رند سے شروع ہوتا ہے اور پھر یہ سلسلہ سیمک ، اور گراناز سے ہوتا ہوا بیسویں صدی تک آجاتا ہے جہاں علم وشعوراور آگہی کی کرنیں پھوٹیں ۔ انگریز ٹکنالوجی کے ساتھ جنگِ آزادی ، اور بالآخر انگریز سے نجات ۔۔اس کے علاوہ بلوچستان کے کچھ شہروں اور قصبوں میں تعلیمی درسگا ہیں کھلنے لگیں ۔ ساتھ ہی 1917ء کے روس کے عظیم بالشویک انقلاب نے دنیا کو ایک نئے سماجی شعور اور سوچ سے آشنا کر دیا۔ چونکہ یہ انقلاب یا تبدیلی بلوچ سرزمین سے بالکل قریب وقوع پذیر ہوئی تھی۔ لہذا اُس کے اثرات ہمارے معاشرے پر پڑنا لازمی اور قدرتی امرتھے ۔ جس کی بناء پر بلوچستان میں بہت جلداِس تبدیلی کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کئے جانے لگے ۔ اور یوں یہاں پڑھے لکھے لوگ سامراج مخالف اور قوم پرستانہ سیاسی تحریک قائم کرنے لگے۔ اور جناب گل خان نصیر اِ س تحریک کا حصہ تھا۔
میرگل خان نصیراپنے علمی وسیاسی بلند مقام کی بدولت ہمیشہ ہماری عزت ومحبت کا مرکز رہا۔ جب سے ہوش سنبھالا،ہم اس کی توقیرہی کرتے رہے ۔۔ ۔ اُس وقت بھی، جب کریہہ حالات نے اُسے جنگی شاعر بننے پر مجبور کر دیا تھا۔اور تب بھی، جب اُسے طالع آزماؤں کے گرے ہوئے طعن وتشنیع سے پٹتے پٹتے بلوچستان کے خالی سیاسی میدان کے دوسرے کنارے پر موجود سرکار کی بہت قربت میں دھکیل دیاگیا۔ ہم ،اس کی عزت ہی کرتے رہے کہ اس کی سا لمیت کی گواہی ’’بڑا ‘‘ بزنجو دیتا رہا۔اُس کے بڑے پن کا ثبوت اُس کی ضخیم اور کثیر الموضوع تحریریں بھی دیتی ہیں۔ چنانچہ اس عمل میں ہم ہلکے پن ‘‘ کے بجائے بزنجو کے ’’بھاری پن ‘‘ کے جونیر ساتھی رہے ، اور مصنف کی اعلیٰ تخلیقات کے قاری۔کسی بھی انسان کی کردار کشی مہم کا حصہ نہ بننے سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہوتی۔
میر گل خان نصیر نہ صرف خود اِس وطن کے لیے باعثِ رحمت ثابت ہوا بلکہ اس کی بڑی بیٹی گوہر ملک بھی باپ کے نقشِ قدم چلتی ہوئی قومی خدمت میں جتی رہی ۔
وہ پنجگور کے مقام پر 26 اگست1938ء میں پیدا ہوئی۔وہ ابھی دو سال کی تھی کہ اسے پولیو کا موذی مرض ہو گیاجس سے وہ جسمانی طور پر ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئی۔
مگر یہ معذوری نہ اس نے قبول کی اور نہ اس کے عزم و ہمت اور ولولے سے بھرے والد گل خان نصیر نے ۔ علاج تو میسر نہ تھا لیکن وہ بیٹی کو ا عتماد تو بخش سکتا تھا، اُسے تربیت سے ا یک نا ر مل ا و ر اچھا انسا ن تو بنا سکتا تھا۔ چنا نچہ میر صاحب نے بچی کی معذوری کے اِس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کا سارا بندوبست گھر ہی میں اپنے سر لے لیا۔ نوشکی کی اُس وقت کی پسماندہ ذہنی سطح کے اندر ‘اور ماقبل فیوڈل معاشرے میں رہتے ہوئے بھی میر گل خان نے اپنی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا ۔وہ جیل میں ہوتا تو خطوط کے ذریعے ، اورجب جیل سے باہر ہوتا ،یا سیاست کی پُر آشوب مشقتوں سے واپس گھرآجاتا تو وہ اپنی بچیوں کی لکھائی پڑھائی اور تربیت منظم انداز میں شروع کرتا۔
ذہین با پ کی ذہین بیٹی نے بہت جلد وہ سب کچھ سیکھ لیا جو باپ کی خواہش اور تمنا تھی۔
یوں تو گل خان نصیر کو اپنی دونوں بیٹیوں سے بے حد پیار تھا۔ مگر گوہر ملک اس کی ہم خیال اور رازداں تھی۔ یعنی وہ اپنے دل کی بات اُسی سے کہا کرتا ۔
میر گل خا ن کی چھو ٹی بیٹی محترمہ گل بانو کی سب سے بڑی قومی خدمت تویہ تھی کہ اس نے میرو خان جیسا نواسہ عطا کر کے میر گل خان نصیر کو جیلوں اور جلا وطنیوں میں خوشی اور مسرت کی ایک رمق بخش دی۔چنانچہ وہ ہر جیل خانے سے خطوط کے ذریعے بچے کی پرورش ، تعلیم اور تندرستی کے لئے لکھتا رہتا ۔(گل بانو کی شادی آغا ظاہر سے ہوئی تھی)۔
گوہر ملک نے اپنے باپ سے حاصل کردہ اُس علم کو اپنے آپ تک محدود نہیں رکھا۔بلکہ اس نے اپنے گھر میں خاندان کی تمام بچیوں کو پڑھانے کابیڑہ اٹھایا ۔ دوسری طرف اس نے اپنے باپ کی لائبریری کی کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا۔ اور یوں اپنی تشنگی علم کی تسکین اور علم وشعور میں اضافہ کرتی گئی ۔ خود میر گل خان نصیر نے اپنی بیٹی کی سیاسی ، علمی اور شعوری تربیت بالکل اُسی انداز میں اور انہی لائنوں پر کی جس طرح کہ جو اہر لال نہرو نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کی تربیت کی تھی ۔ میر گل خان جیل سے جب گوہرملک کو خط لکھا کرتا تھا تو اُن میں گھر کا حال حوال اور خیر خبر پوچھنے کے علاوہ بیرونی دنیا اور خود بلوچستان میں ہر قسم کے سیاسی حالات و واقعات سے اُسے باخبر رکھتا تھا۔ تاکہ اُس کے سیاسی شعور اور ذہنی بالیدگی میں اضافہ ہو۔
گل خان کی وفات کے بہت عرصے بعد ا س کی صاحبزادی گوہر ملک قلم کے رشتے سے ہماری بہن بن گئی ۔ یہ فیصلہ البتہ نہیں ہوسکا تھاکہ وہ بڑی تھی یا میں !!۔۔۔۔۔ اشارتاً بتاتا چلوں کہ میں نے اس کی تحریروں کا ترجمہ کیا ہے ، اس نے میری تحریروں کا نہیں ۔
ہوایوں کہ جب میں نے بلوچی زبان میں لکھے گئے اس کے افسانے پڑھے تو لگامسرت سے سرشار ہوگیا۔یک دم اصلی ، اور یجنل بلوچی زبان کے افسانے ۔ یقیناًگوہر ملک کے افسانے کافی تعداد میں ہوں گے ۔ مگر وہ سب ابھی تک ہم حاصل نہ کر پائے۔
افسانوں میں سے’ ’ بلک پرچہ تنہا انت‘‘، ’’سنٹ‘‘ اور ’’زبو‘‘ جیسی اُس کی شہرہ آفاق تخلیقات ہیں ۔ اسی طرح زندگی کے آخری دنوں میں راسکوہ ایٹمی دھماکے سے متعلق اُس کا لکھا ہوا مشہور افسانہ’’ بلوچا منا تیلانک داثہ‘‘ نے بہت شہرت پائی ۔ اُس کے اِس افسانے کو بلوچی افسانہ نگاری کے شاہکار افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ’’خدا جنت کہ بندہ ‘‘ بھی اُس کے مشہور افسانوں میں سے ایک ہے۔
بے ساختہ افسانے ، تسلسل بھرے افسانے ،اور ڈائریکٹ افسانے ۔ جملے بلوچستان کے ، کردار بلوچستان کے ۔ مقامات یہیں کے ،اور ضرب الامثال اسی وطن کی ۔ ساراسماجی سیاسی ماحول یہیں کا ۔بانک گوہر ملک کے افسانوں میں بلوچ معاشرے کے خدوخال نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ ماحول،آس پاس ، مناظر سب کچھ مقامی۔ اُس کی زبان میں بھی درامدی الفاظ بہت کم ہیں۔اُس کے افسانے بہت ہی بلوچی افسانے ہیں ۔ اوریجنل،دیسی ، مقامی ، اصلی ۔ بڑا بے ساختہ پن ہے ان میں ۔ زبان شیریں ، رواں اور مسلسل ۔ بغیر ابہام کا پلاٹ، با مقصد انجام ، افسانویت سے بھرے افسانے ہیں گوہر ملک کے ۔ اِن میں وہ بلوچی ضرب الامثال استعمال کرتی ہے، بلوچی فوک کرداروں کی طرف اشارہ کرتی ہے ، تاریخی مزاج ڈالتی ہے اور نہایت ہی اپنے پن سے سماج کا تاروپود بیان کرتی ہے ۔خوبصورت پلاٹ‘ زبان و بیان کی خوبصورتی‘ جیتے جاگتے کردار‘ خوبصورت منظر کشی ‘اور تکنیک وغیرہ پر گرفت اس کے افسانوں کوادب کے بے مثال سانچے میں ڈھال دیتی ہے ۔عورتوں کو تو ویسے بھی زبان و کلچر کا سب سے اولین محافظ کہا جاتا ہے۔
اس کو اپنے فن پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ اس کے افسانوں میں معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد ایک مستقل عنصر کے بطور موجود رہتی ہے ۔اس نے خیالی اور تصوراتی موضوعات پر نہیں لکھا ۔ اس نے اپنے معاشرے میں چاروں طرف پھیلی ہوئی معاشرتی برائیوں کو افسانوی رنگوں میں ڈھال کر عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کیا ۔
گوہر جان اپنے افسانوں میں عورتوں کی پسماندگی ، ان پر روا رکھے جانے والے مظالم، اور دوسرے بہت سارے مسائل کو بیان کرتی ہے ۔ وہ عورتوں کو اس بات پہ مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ محض صنف نہیں بلکہ انسان ہیں اور ہر جاندار کی طرح اُن کے بھی حقوق ہیں۔
گوہر ملک بلوچ سماج میں عورت کی تباہ حال زندگی کا ایک ایک گوشہ ایک ایک تہہ چھان مارتی ہے۔ علم کی ایجنٹ تھی وہ، جہالت کی قسم کھائی ہوئی دشمن تھی وہ۔ اسے ضمیر فروشی سے سخت نفرت تھی۔ وہ اپنے بابا کے وطن اور بابا کے ہم وطنوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی ۔ یہی اوصاف آپ کو اس کے افسانوں کے پور پور میں کڑھے ہوئے ملیں گے۔
الغرض گوہر ملک کی تحریر بڑی شستہ ، زبان سادہ وعام فہم ، انداز بیان بڑا دلنشین اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے افسانوں کے کرداروں کے درمیان مکالمات خالصتاً مقامی لہجہ اور اپنے معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والے روزمرہ زبان کے ڈائیلاگ ہیں ، جو ہر قاری کو آسانی سے سمجھ میں آسکتے ہیں ۔ گوکہ اس نے کسی تعلیمی درسگاہ سے علم حاصل نہ کیا تھا اور نہ ہی وہ باقاعدہ تعلیمی ماحول سے آشنا تھی۔ مگر اس کے باوجود اس نے خود اپنی شبانہ روز محنت ، ادب سے انتہا درجے کا لگا ؤ اور اپنے والد بزرگوار کی عظیم تربیت کے بدولت بلوچ ادبی دنیا میں اپناایسا مقام پیدا کیاکہ ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ آخر گل خان کی بیٹی تھی۔ لہذا باپ کا نام روشن رکھا ۔
مجھے اس کی تحریروں کا اردو ترجمہ کرنے کا فیصلہ کرنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگا ۔ اس قدر طاقتور افسانے آپ کو بلوچستان بھر کی کسی بھی زبان میں نہیں ملیں گے ۔ اور بلوچی زبان میں تو سندھ ہنداور پنجاب ، ایرانی وافغا نی بلوچستان ، خلیج اور وسط ایشیاء کے بلوچوں میں ان تحریروں کا ثانی نہیں ہے ۔
میں نے کئی سال قبل اس کے افسانے ترجمہ کئے تھے ۔ میرے یہ ترجمے بار بارر سالوں ، اور اخباروں میں چھپے ۔ اب اس کی تحریروں کے ترجموں کو کتابی شکل میں چھاپنے سے مجھے بہت اطمینان ہو رہا ہے کہ ایک اور فریضہ تکمیل پاگیا ، کہ ایک اور قر ض ادا ہوگیا ۔ (سماج کے قرض بھی آئی ایم ایف کے قرض ہوتے ہیں ، ادا کر کے بھی سارا قرض اُسی طرح چڑھا ہوا ہوتا ہے !!) ۔
گوہر ملک نے دیگر زبانوں کے افسانے اور مضامین بھی بلوچی میں ترجمہ کئے ہیں ۔یہ منتخب افسانے نہایت عوامی ہیں اوریہ انسانی زندگی کے گرد گھومتے ہیں۔ گوہر جان کے کیے ہوئے تراجم اس قدر خوبصورت اور رواں ہیں کہ اگر مصنف کا نام نہ لکھا ہوتا تو لگتا کہ وہ ہیں ہی بلوچی افسانے ۔
سچ ہے کہ خواتین ہی زبان ، ثقافت اور ادب کی محافظ ہوتی ہیں ۔ ایسے بلوچی روان افسانے تو خاتون ہی لکھ سکتی ہے۔ زبان غیر ملاوٹ شدہ، ضرب الامثال اور استعارے سو فیصد مقامی۔ اور گوہر ملک اولین بلوچ خواتین افسانہ نگاروں میں سے ایک ہے۔
اس خاتون میں خدا نے ادب شناسی کا ایک عظیم عطیہ عطا کر رکھا تھا۔ اُس نے کافی ترجمے بھی کیے جن کے لئے مضامین و افسانے اس طرح کے منتخب کیے جو واقعتاً اعلیٰ معیار کے ہوتے اور اُن میں زبردست سماجی پیغام موجود ہوتا ۔
گوہر ملک نے ادب کی دنیا میں 1955-56 ء میں ن م ۔ راشد کی کتاب ’’کافرستان ‘‘ کے مضمون ’’ظالم سردار‘‘کا بلوچی میں ترجمہ کرکے قدم رکھا۔ یہ تر جمہ اس نے رسالہ بلوچی میں شائع کرنے کے لئے مرحوم آزات جمالدینی کو کراچی بھیج دیا۔جہاں وہ شائع ہوا ۔ گوہر جان کے بقول اُس کے والد نے جب وہ ترجمہ دیکھا تو بہت خوش ہوا اور اس کی حوصلہ افزائی کی (1) ۔اس کے بعد اس نے کرشن چندراور خلیل جبران کے بہت سارے تراجم کیے۔جنہیں رسالہ بلوچی( کراچی) شائع کرتا رہا۔ رسالہ بند ہوجانے کے بعد اس نے شورش بابو کے اخبار’’نوکیں دور‘‘ کے لئے لکھنا شروع کردیا۔ جو کافی عرصہ تک چلتا رہا۔ نوکیں دور بند ہوا تو گوہر ملک کے لکھنے( یا چھپنے ) کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کا والد سیاست کے حوالے سے بار بار پابند سلاسل ہوتا اور بچوں سے دو ر‘ملک کی مختلف جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں بند رہتا۔ جس کی بناء پر گوہر جان کافی حد تک گھریلو مسائل اورذہنی انتشار کی وجہ سے ادبی دنیا سے دور ہوتی چلی گئی۔
گوہر ملک نے بلوچی ثقافت پر بڑا کام کیا ۔ وہ ضلع چاغی اور دوسرے علاقوں کی شادی بیاہ اور ثقافتی ز ند گا نی سے متعلق رسومات پر کام کرتی رہی ۔ علاقے کی ضرب الامثال اورمحاورات جمع کرتی رہی۔ ا س کے علا و ہ استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں سے بننے والی ادویات کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتی رہی۔بعد کی عمر میں اس نے بلوچی افسانہ نگاری کی طرف زیادہ توجہ دی اور بہت کم عرصے میں اِس میدان میں اپنے لئے ایک نمایاں مقام پیدا کردیا۔
چنانچہ آج ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب تک بلوچ قوم زندہ ہے اور بلوچی ادب دنیا میں باقی رہے گی ، محترمہ گوہر ملک اپنے نام ، اپنے کام اور انہی تخلیقات اور شہہ پاروں کی وجہ سے امررہے گی ۔
گوہر ملک بلوچوں کی صرف تعریف نہیں کرتی، ہم پہ تنقید بھی ڈٹ کے کرتی ہے ۔وہ چونکہ بلوچوں ہی میں سے ہے اور اپنے والد کی طرح بلوچوں کو OWNکرتی ہے اس لئے اس کی تنقید بڑی سفاک بڑی بے رحم ہوتی ہے ۔ ایسی کھری تنقید کے لئے تو جرات چاہیے ہوتی ہے ۔ اور یہ جرات تبھی آتی ہے جب آپ اپنے حصے کا فریضہ بخوبی انجام دے چکے ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ اس مفلوج خاتون نے میرٹ کی بنیاد پر یہ جرات حاصل کی تھی ۔ بلوچستان اور اس کے عوام سے گوہر ملک کی یہ بے نظیر کمٹ منٹ ہی سفارش بنی کہ میں اس کی تحریروں کا ترجمہ کروں۔
اس کے علاوہ اس نے بلوچی میں بہت اچھے مضامین بھی لکھے ۔
اس کا ایک کمال کا کام بچوں کے لیے اس کی جمع کردہ کہانیاں ہیں۔ اُس کی وفات کے بہت عرصہ بعد اُس کی بہن گل بانو نے اس کے سارے مسودات مجھے دے دیے تو میں حیران رہ گیا کہ اس کی غیر مطبوعہ تحریروں کا بڑا حصہ بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے ۔اس میٹھی بہن نے یہ کہانیاں کہیں کسی کاپی پہ لکھی ہیں، کہیں کسی صفحہ پر اور کہیں کاغذ کے ٹکڑوں پر۔ لکھنے کے لیے اُسے جو کچھ ملا استعمال کیا ۔ چنانچہ اس کی کئی تحریریں پنسل سے لکھی ہوئی تھیں۔ ہم سے جو ، اور جتنا پڑھا جاسکا اسے اپنے ماہنامہ ’’سنگت‘‘ میں چھاپتے رہے۔ کبھی اوریجنل بلوچی میں ،اور کبھی اردو ترجمہ کر کے ۔
میں خود گواہ ہوں کہ میرے اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اپنے مہربان والدین سے یہی قصے سن سن کر سوجاتے ہیں ۔ اور اچانک میرا رسالہ میرے اپنے گھر میں مقبول ہوگیا تھا۔ اور جس شمارے میں گوہر ملک کی کہانی شامل نہ ہوتی تو بچے احتجاج کرتے ’’مئے قصہ نہ لکھثئے؟‘‘۔
اُس کے وہ خطوط بھی ادبی سماجی اور سیاسی میدان میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں جو اس نے اپنے والد بزگوار کی زندگی میں اُسے لکھے تھے جب میر صاحب مختلف جیلوں میں ہوتا تھا۔یا پھر وفات کے بعد جب اس نے اپنے عظیم باپ کی روح کو مخاطب کرکے لکھے ۔ یہاں اُس کے لکھے ہوئے صرف ایک خط کا ایک حصہ نمونہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو اس نے اپنے والد کی وفات کے تین سال بعد اس کی روح کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔ وہ کہتی ہے۔( اردو ترجمہ):
’’میرے اچھے بابا‘‘
’’جنت کے پھولوں میں آپ کا مقام ہو‘‘۔
’’مجھے کہا جاتا ہے کہ میںآپ کے بارے میں کچھ کہوں ۔ مگر میں کیا کہوں؟ ۔دنیا میں میری سب سے عزیز ترین ہستی آپ ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ تو اب اِس دنیا میں نہیں۔ مگر میرا دل نہیں مانتا بلکہ خیال میں یہی آتا ہے کہ آپ تو کسی جیل کی کال کوٹھری میں ایسے مجھ سے دور بیٹھے ہیں جیسے ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔ میں نے آپ کا آخری دیدار صرف اس لئے نہیں کیا تاکہ میری یہ آس ٹوٹ نہ جائے۔ خّلی(نوشکی میں مینگلوں کا قدیم خاندانی قبرستان) میں ایک چھوٹا سا گنبد ہے اور کہتے ہیں کہ آپ اِس میں محوِ استراحت ہیں۔ اور تین سال ہورہے ہیں آپ کو مرے ہوئے۔ کیا لوگ سچ کہتے ہیں؟۔ واقعی‘ آپ حقیقتاً مر گئے ہیں؟ ۔مجھے تو یقین نہیں آتا ہے۔ آپ کیسے مر سکتے ہیں!!!۔ آپ تو امر ہیں،زندہ جاوید ہیں۔ جب تک بلوچ قوم زندہ ہے آپ زندہ رہیں گے۔ اور جب تک دنیا باقی ہے بلوچ قوم رہے گی ۔ لہٰذا جب تک بلوچ قوم ہے آپ باقی ہیں۔ شے مرید اور مست توکلی کی طرح آپ بھی عشقِ وطن میں دیوانہ تھے۔ آپ کی سمی، آپ کی حانی یہی بے آب و گیاہ بلوچستان تھا۔ آپ اپنے مسحور کن اشعار میں زندہ ہیں۔ میں آپ کی موت کو نہیں مانتی ۔ آپ کی تعریف کروں تولوگ کہیں گے بیٹی اپنے باپ کی تعریف کررہی ہے۔ اپنے منہ میاں مٹھو ہے ‘‘۔(3)
گوہر ملک کی تحریروں میں چند باتیں تو بالکل ہی ممتاز تھیں۔ پہلی خاصیت یہ تھی کہ اس کی تخلیقات میں کوئی مصنوعیت نہ تھی۔ نیچرل نیچرل۔ پھر وہ رواں نثر لکھتی تھی۔ کوئی بہت زیادہ فل سٹاپ ، کاما، کولون یا بریکٹ نہ تھے ۔ ایک کشادہ سڑک جس پہ کوئی کھڈے گڑھے ہیں نہ سپیڈ بریکر۔ سادگی اس کی ایک اور صفت تھی۔ عام فہم، عام آدمی کی سمجھ میں آجانے والی تحریر۔
گوہر ملک نے نثر کے علاوہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ مگر اس نے کبھی بھی اپنے اشعار کو اشاعت کے لیے رسالوں کو نہیں دیا۔مگر پھر ہمیں یہ شاعری مل ہی گئی۔ ہماری دوسری بہن گل بانونے ایک پورا بڑا بستہ بھر کر دیا جس میں ہمیں اس کے مزید افسانے، لو ک کہانیاں، مضامین، تراجم اور شاعری کے خزینے( کبھی ٹکڑوں میں ، کبھی اِدھر اُدھربے ترتیب) ملے۔ شکر ہے کہ صحت اور وقت کی بادشاہی نے ہم پہ مہربانی کی۔ یوں ہم نے ٹکڑے جوڑے، اندازے لگائے، اِدھر اُدھر سے پوچھ گچھ کی اور بالآخر ’’ تقریباً‘‘ سب چیزیں ری پروڈیوس کیں۔اور کتاب کے اس دوسرے ایڈیشن میں شامل کردیے۔
راسکوہ کے ایٹمی دھماکے کے حوالے سے اپنی ایک نظم میں کہتی ہے:
منی اِے واپجار،منی کوہِ راس اِنت
تہا دُوتکاہ اُوبنا ئے آس اِنت
تئی کلگانی اِے آپانہ وشیں
کئیا زہر ماں کرت باریں بگش تو؟
تئی دتگانی اِے چاپ و دمامہ
پچے بند اُو آ ءَ ، سرگران ئنت؟
ملورو پریشان و تنیگیں لنٹاں
تئی چمگانی آپانہ سارتیں
تئی کہچرانی آ زیدانہ وشیں

کئیا داتگنت آس، باریں بگش تو؟
کئیا زہر گوارینت باریں بگش تو؟

ترجمہ:
یہ ہے کوہِ راس جو ہے پہچان میری
کہ جس کے اوپر ہے دھواں ،اور آگ اندر
زہر کس نے گھولا ہے چشموں میں اس کے
تری بیٹیوں کے دف ، رقص بند
موقوف کیوں ہیں سرگرداں ہیں کیوں
پریشان اور وہ خیالوں میں ڈوبے
بتا تیرے یخ اندر
چراگاہ و سرسبز اِن وادیوں میں
لگاڈالی ہے آگ کس نے، بتا تُو
برساد ی زہر کس نے بتا تو
اسی طرح اپنے والد کی وفات پر نوحہ کناں بیٹی اپنے غم کا اظہار کچھ یوں کرتی ہے:
نشتگ و ربئے قدرتاں چاریں
دُریں گپتا ران اِت دم دما ماریں
اتکہ ٹیل فونے اچ کراچی آ
قادر ا برتہ جواں تریں چیاّ
مالکئے کاراں بوتگوں راضی
سد سپت رب ا لعزتا براضی
دُر حدیث شاعر اِے جہاں اشتہ
ڈاھے ماں کوہ و کوچگاں پرشتہ

ترجمہ:
محوحیرت کار ہائے قدرت دیکھتی ہوں
تیری شیرین گفتار دم بہ دم سوچتی ہوں
کراچی سے فون آیا ہے
عزیز ترین شئے قدرت چھین کر لے گئی
خدا کے کاموں پر میں راضی برضا
ساری صفتیں تیرے لئے اے رب
درحدیث شاعر اس جہاں کو چھوڑ گیا
اور پھیل گئی یہ خبر کو چہ بہ کوچہ ، کوہ بہ کوہ
گوہر جان کی شاعری قومی ہے ۔ بہت پختہ ، رواں اور موسیقیت بھری۔ خالی خولی نعرے بازی نہیں بلکہ جمالیات میں بھگوئی ہوئی شاعری ۔ کاش وہ ہمیں زیادہ شاعری عطا کرتی!۔
اس پر جتنے بھی اب تک کے تحقیقی تنقیدی تحریری مضامین سامنے آئے ہیں اُن میں آپ کو صرف اس کے افسانوں کے بارے میں تحریریں ملیں گی۔ اُس کی شاعری کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے ، اِس لیے شاعری پہ تبصرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ اسی طرح بچوں کی کہانیوں کے بارے میں بھی اُس پر محققین اور مبصرین خاموش ہیں۔
جب اُس کی طبیعت ناساز تھی اس دوران بھی اس کا ادبی کام جاری تھا۔اُس زمانے میں ہم نے میر گل خان نصیر کی اردو شاعری کی کتاب چھاپنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اُن سے اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کی درخواست کی جس کا اُس نے فراخدلی سے وعدہ کرلیا۔ ۔ اس نے یہ شروع بھی کیا تھا، مگر موت نے اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ یہ کام مکمل کرلیتی ۔ یوں میری یہ خواہش ادھوری رہ گئی ۔ آج تک اُس کی یہ ادھوری تحریر نہ ملی۔ اگر وہ تحریر مکمل ہوئی اور ملتی تو وہ تخلیق اس کی آخری تخلیق کے طور پر محفوظ رہتی ۔
بلوچ قوم کی یہ عظیم بیٹی28 فروری 2000ء کو اپنے بیشمار ادبی فن پاروں کو قومی ورثہ میں چھوڑتے ہوئے اِ س دار فانی سے کوچ کر گئی۔
محترمہ گوہر ملک کو میر گل خان کی زیارت گاہ کے قریب دفن کیا گیا ۔ اور میر گل خان کی قبر پر سلامی دینے کا راستہ کچھ اس طرح ہے کہ گل خان سے پہلے گوہر ملک کی قبر آتی ہے ۔ آپ کو عظمت کے کمال (گل خان )تک پہنچنے کے لئے گوہر ملک کی پائنتی سے گزر کر جانا پڑتا ہے ۔
محترمہ گوہر ملک کواس کے گھر والے اور دیگر جاننے والے احترام اور پیار سے’’ ملک جان‘‘ کے نام سے یاد کرتے آئے ہیں۔ملک جان اپنے نام، اپنے کام اور اپنی تخلیقات اور شہ پاروں کی وجہ سے امر رہے گی۔
میر عبداللہ جان جمالدینی کے بقول’’ گوہر ملک کے وفات پانے سے ہم گل خان نصیر کی زندگی اور علمی ادبی آثار پر کام کرنے والے اس اہم اور مستندسرچشمہ اور ذریعہ(source)سے محروم ہوگئے‘‘۔
ملک جان کو ایک بات کا آخر تک ملال رہا ۔ وہ یہ کہ وہ اپنے والد ملک الشعراء میر گل خان نصیر کے کلیات کو چھپوا نہ سکی۔ بلوچ اپنی بد قسمتی پر روئے گا ہی کہ ملک جان کی زندگی میں یہ کام مکمل نہ ہو سکا۔ حالانکہ اس دور میں اُس کے خونی رشتہ داروں سے لے کر دور دراز کے میر گل خان کے روحانی بیٹے بہت بڑے عہدوں پر فائز ہوتے رہے۔ بس کسی کو کیا طعنہ دیا جائے ؟۔ قومی بد قسمتی کا کیا جواز تلاش کیا جائے؟ ۔
بعد میں بہت عرصہ بعد اُس کی چھوٹی بہن گل بانونے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے 1582صفحات پر مشتمل کلیاتِ گل خان شائع کروائی۔ اداروں اور ریاست کی تباہی کی اور کیا نشانیاں ہوں گی؟۔
گل بانو کی عظمت محض یہ نہیں کہ اس نے پروف وغیرہ دیکھنے کے لیے مجھ سمیت کئی دانشوروں کی منتیں کی تھیں۔اورپبلشروں کے پھیرے کاٹ کاٹ کر کلیات کو ترتیب دلوا یا، اور پھر اُسے اپنے پیسوں سے چھپوایا ۔ اس سے بھی بڑی قومی خدمت اُس نے یہ کی کہ یہ سارا مواد اتنے برسوں تک حفاظت سے رکھا۔
کچھ اور قومی کاموں کے لیے بھی گل بانو بھاگ دوڑ اور چیخ وپکار کرتی رہی ۔اور پھر کافی عرصہ بعد ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت کی مدد سے بلوچستان یونیورسٹی میں میر گل خان چیئراور دیگر اداروں کی مالی مدد کی بدولت میر گل خان نصیر کی ساری تحریریں چھپ چکی ہیں۔
گل بانو نے صرف گل خان کے خزانے قوم کو لوٹا نہ دیے بلکہ اس نے گوہر ملک کی تحریروں کے مسودات بھی بند بکسوں سے اشاعت کی دنیا کے حوالے کر دیے ۔ اور پھر کمال یہ کیا کہ ڈاکٹر مالک حکومت کو قائل کر کے مین روڈ سے ایک پکی سڑک گل خان کے مقبرے تک کھچوائی،ہمارے اُن سارے مشاہیر کی قبروں کو پکا کروایا اور ایک چار دیواری بنوادی ۔بیمار، بوڑھی گل بانو۔
بالآخر وہ بھی طویل بیماری کے ہاتھوں جی نہ پائی اور اپنے پیارے والد اور مہربان بہن کے پاس چلی گئی۔
بلوچ قوم کی یہ عظیم بیٹی 28فروری2000 کو اِس دارفانی سے کوچ کرگئی ۔ ملک جان اپنے نام، اپنے کام اور اپنی تخلیقات اور شہ پاروں کی وجہ سے امر رہے گی۔محترمہ گوہر ملک کواس کے گھر والے اور دیگر جاننے والے احترام اور پیار سے’’ ملک جان‘‘ کے نام سے یاد کرتے آئے ہیں۔
میر عبداللہ جان جمالدینی کے بقول’’ گوہر ملک کے وفات پانے سے ہم گل خان نصیر کی زندگی اور علمی ادبی آثار پر کام کرنے والے اس اہم اور مستندسرچشمہ اور ذریعہ(source)سے محروم ہوگئے‘‘۔
ملک جان کو ایک بات کا آخر تک ملال رہا ۔ وہ یہ کہ وہ اپنے والد ملک الشعراء میر گل خان نصیر کی کلیات کو چھپوا نہ سکی۔ بلوچ اپنی بد قسمتی پر روئے گا ہی کہ ملک جان کی زندگی میں یہ کام نہ ہو سکا۔ حالانکہ اس دور میں اُن خونی رشتہ داروں سے لے کر دور دراز کے میر گل خان کے روحانی بیٹے بہت بڑے عہدوں پر فائز ہوتے رہے۔ بس کسی کو کیا طعنہ دیا جائے ؟۔ قومی بد قسمتی کا کیا جواز تلاش کیا جائے؟ ۔
بعد میں بہت عرصہ بعد اُس کی چھوٹی بہن نے اپنے پیسے خرچ کر کے 1582صفحات مشتمل کلیاتِ گل خان شائع کروائی۔ اداروں اور ریاست کی تباہی کی اور کیا نشانیاں ہوں گی؟۔
اور پھر کافی عرصہ بعد ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت میں بلوچستان یونیورسٹی میں میر گل خان چیڑ اور دیگر اداروں کی مالی مدد کی بدولت میر گل خان نصیر کی ساری تحریریں چھپ چکی ہیں۔
محترمہ گوہر ملک کو میر گل خان کی زیارت گاہ کے قریب دفن کیا گیا ۔ اور میر گل خان کی قبر پر سلامی دینے کا راستہ کچھ اس طرح ہے کہ گل خان سے پہلے گوہر ملک کی قبر آتی ہے ۔ آپ کو عظمت کے کمال (گل خان )تک پہنچنے کے لئے گوہر ملک کی پائنتی سے گزر کر جانا پڑتا ہے ۔
خوش نصیب انسان ہیں وہ جوجب بھی نوشکی جاتے ہیں تو عبداللہ جان جمالدینی کی سلامی سے بھی پہلے گل خان نصیر کی درگاہ پہ سلامی دیتے ہیں ۔اور وہ سلامی بلوچی زبان کے ملک الشعرا کو ہی نہیں ہے۔ بلکہ وہ سلامی تو بلوچی لسانیات کے ماہر اور محقق پروفیسر عاقل خان مینگل کو بھی ہے اور اُسی احاطے میں محوِ آرام بلوچی زبان کی سب سے بڑی افسانہ نگار محترمہ گوہر ملک کو بھی۔ اور پھر میری اچھی اور مہربان بہن گل بانو کو بھی ہے جس نے گل خان اور گوہر ملک ہم تک پہنچائے ۔
بلوچ بہت خوش قسمت قوم ہے ۔

حوالہ جات

۔1۔ بادینی ، یار جان ۔ انٹرویو ۔ ماہنامہ سنگت مارچ 2000۔ صفحہ 86
۔2۔بادینی ، یار جان ۔ انٹرویو ۔ ماہنامہ سنگت مارچ 2000۔ صفحہ 87
۔3۔گوہر ملک شاہ محمد ۔’’اور بلوچ نے مجھے دھکا دیا‘‘ ۔ سنگت اکیڈمی آف سائنسز ،کوئٹہ۔صفحہ 119۔
۔4۔گچکی یوسف۔ کتاب۔ بلوچ نے مجھے دھکا دیا۔ صفحہ 121

Check Also

محکوم لیڈر عبدالصمد خان اچکزئی ۔۔۔ محمد عمران لہڑی

دنیا میں شروع دن سے ایک جنگ جاری ہے جسے حق اور سچ کی جنگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *