Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ اسامہ امیر 

غزل ۔۔۔ اسامہ امیر 

اک تجسس لئے جب گوشہ نشیں ملتے تھے
تو گماں کاٹ کے دونوں کے یقیں ملتے تھے

ایک عادت تھی جو ہم دونوں میں مشترکہ تھی
اور وہ یہ کہ محبت سے نہیں ملتے تھے

ہم کو ماحول نے چھوڑا نہیں جانے کا کہیں
شام ہوتی تھی تو دریا کے قریں ملتے تھے

کتنا حیران پریشان ہے وہ چہرہ جسے
کسی گوشے میں بھی جاتا تھا ہمیں ملتے تھے

ایک وحشت کہ گْل و گِل میں اتر جاتی تھی
مشتعل ہونے سے پہلے جو کہیں ملتے تھے

ہائے کیا لوگ تھے اک جیسے مکانوں والے
ہائے کیا دور تھا آپس میں مکیں ملتے تھے

ہم مہاجر تھا جبھی دھوپ سے نفرت تھی ہمیں
جہاں دیوار کا سایا ہو وہیں ملتے تھے

Check Also

انسان کی موت کے بعد ۔۔۔ نور محمد شیخ

انسان کی موت کے بعد:۔ اُس کی ، ۔ ساری ذمّے داریاں ختم نہ زندگانی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *