Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نظم بہتی آنکھوں کا خواب  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی 

نظم بہتی آنکھوں کا خواب  ۔۔۔ سلمیٰ جیلانی 

میں خواب دیکھتی ہوں
یہ ست رنگی صبح کا خواب نہیں
کچھ ستے ہوئے سے چہرے ہیں
کھائیوں سے ابھرتی
دکھ کی گہری پرچھائیاں ہیں
بہت سی آنکھیں
چھم چھم نیر بہاتی ہیں
بارش برستی رہتی ہے
کوئی دیکھتا نہیں
گائے کو سر پر بٹھائے وہ
مدقوق انسانوں کی بلی دیتے ہیں
ماں میرے چہرے پر
گائے کا مکھوٹا چڑھا دیتی ہے
شائد میں بچ جاؤں
ریپ ہونے سے
مگر میرے بھائی کے ادھ کٹے
گلے سے بہتے لہو نے
میرا راز کھول دیا ہے
بھاگتے ہوئے بند گلی میں جا نکلی
جج کی کرسی پر
انسانی کھال کے جوتے پہنے
پتھر کے قلم سے کوئی
انصاف لکھتا ہے
مگر کسی کو نظر نہیں آتا
ہجوم میرے تعاقب میں ہے
اندھے راستہ میں
نیم کے درخت پر سوئی
امن کی فاختہ
پیشاب کی بو سے گھبرا کر
اڑ گئی ہے
درخت کی چھال سے
بدن رگڑتے ہجوم نے
بیت الخلا سمجھ کر
اپنے بلیڈر ہلکے کیے
مجھے ریشمی رومال کی
گانٹھ میں بندھا
تھوڑا سا وقت مل گیا ہے
مگر
انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
میں نے گھبرا کر
آنکھیں کھولنی چاہیں پر
یہ خواب نہیں تھا

Check Also

The Axiom of connectivity

نوشین قمبرانی زندگی ہے روح مزیخ اور زمیں ہم ۔روح ہیں اپنے اپنے اُوربِٹ کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *