Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لینن کا بچپن ۔۔۔ جاوید اختر

لینن کا بچپن ۔۔۔ جاوید اختر

اینا تحریر کرتی ہے:: “یہ بات بعد میں میری سممجھ میں آئی کہ اس سے والد صاحب کو کس قدر پریشانی ہوئی اور آخرکار اس کی بیماری کا سبب بنی۔جب میں1885ء میں کرسمس کی چھٹیاں گزارنے پیٹرسبرگ سے سمبرسک اپنے گھر جارہی تھی تو سیزاران ریلوے سٹیشن پر ٹرین سے اتری،جو سمبرسک کے راستے پر آخری ریلوے سٹیشن تھا۔میری ملاقات وہاں اپنے والد صاحب سے ہوئی،جو کسی سکول کے معائنے کے بعدگھوڑے پر سوار ہوکر گھر لوٹ رہاتھا۔وہ کچھ کچھ ڈان کیوکزوٹ کی طرح لگ رہاتھا،جو اپنی تمام جنگوں میں شکست کھا کر آخری مرتبہ اپنے گھر لوٹ رہاتھا۔اس کے چہرے پر امیدورجا کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے تھے۔
مجھے یاد ہے کہ میں اس کے ان تاثرات کودیکھ کر پریشان ہوگئی،جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اباجان بہت بوڑھا ہوگیا ہے۔وہ موسمِ خزاں میں جیسا تھا،اس کی نسبت بہت ضعیف ہوگیا تھا۔یہ بات بمشکل اس کی وفات سے ایک ماہ پیشتر کی تھی۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ وہ عجیب وغریب طور پر ناامید تھا۔اس نے مجھے نہایت ہی شکستہ دل کے ساتھ بتایا کہ اب حکومت انZemstovoسکولوں (جدید تعلیمی اداروں)کی جگہ صرف کلیسا اور کلیسائی مدرسے قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر جو کام کیا تھا،اب وہ نقش برآب ہوگیا تھا” ۔(3)۔
ایلیا کی امیدوں کی شکست ساشا(الیگزینڈر) کے اس دوران تحریرکردہ خطوط سے مزید واضح ہوگئی تھی،جن میں اس نے تحریرکیاتھا کہ حکومت نے یونی ورسٹیوں پر اپنے ظلم وتشدد کا آہنی شکنجہ کس دیا ہے۔زیملیا چیسٹوفو تنظیم کے انتشار کے بعد طلبا کو اس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یونی ورسٹی سے نکالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ساشا جانتا تھا کہ اس کا والد ان سب چیزوں سے پریشان ہوجاتا ہے،جن کی اطلاعات اخبارات میں شایع ہورہی تھیں کہ کیف اور ماسکو میں کیا ہورہا ہے ،جہاں طلباء نے نئے قوانین وظوابط کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔اس لیے اس نے خط میں تحریر کیا:آپ شاید کیف اور ماسکوکی یونیورسٹیوں میں ہونے والی بے چینیوں کے بارے میں پڑھ کر پریشان ہیں۔یہاں حالات بالکل پر امن ہیں۔۔۔وقتاََفوقتاََ ساشا اسے پروفیسروں کی معطلی اور سبک دوشی کے بارے میں مطلع کرتا رہا۔پوبیدونوستیف کے خیالات خصوصاََ سرکاری پان سلاوازم کی مخالفت کے شک و شبہ میں پائے گئے۔ان میں سے روسی قانون کا تاریخ دان ایف ایم ڈمٹریف بھی شامل تھا،جو سمبرسک میں ایلیا کا دوست تھا۔ساشانے ایک اور معطل ہونے والے پروفیسر کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے تحریر کیا:!وہ درحقیقت ایک بہت ہی اچھا پروفیسر تھا!۔
اس خط وکتابت میں حالانکہ ساشا کے سیاسی نظریات واضح نہیں تھے۔پھر بھی ایلیا نے کچھ کچھ اندازہ لگا لیا تھا کہ ساشا کی ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ ہیں، جوزار شاہی کے خلاف مصروفِ عمل ہیں۔اس پریشانی کے عالم میں اس نے اپنی موت سے پیشتر آخری دن اور ہفتے گزارے تھے۔وہ دسمبر کے آخر اور تمام جنوری کی مہینے میں محکمانہ سالانہ رپورٹ کی تیاری کا سخت اور دقت طلب کام کرتا رہا۔اس کا ایک ساتھی دی نازایف تحریر کرتا ہے:” جنوری 1886ء کے آغاز میں وہ صبح سے رات تک اپنی پیچیدہ رپورٹ پر کام کرتا تھا اور 12جنوری تین بجے سہ پہر کو وہ اپنے کام سے اس قدر تھک چکا تھا کہ اس نے بادلِ نخواستہ اپنے قلم کو دور پھینک دیا۔۔۔۔!” (4)کیوں کہ وہ کچھ دنوں سے بیمارتھا۔اور اس نے اپنی صحت پرتوجہ نہیں دی تھی۔اس کے متعلق اینا تحریر کرتی ہے: “اس نے اپنی بیماری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔اباجان اپنے قدموں پر کھڑا تھا اور اپنے کام میں مصروف تھا۔دوسرے سکول انسپکٹر اس سے ملنے آتے تھے۔12جنوری کو وہ بالکل سو نہیں پایا۔میں اس کے قریب بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے مجھے کاغذات پڑھ کرسنانے کو کہا۔لیکن میں نے دیکھا کہ وہ کچھ پریشان ہورہا تھا۔اس کی زبان لڑکھڑارہی تھی۔میں نے اسے قائل کیا کہ وہ کاغذات کو پڑھنا بند کردے۔اگلے روز اس نے خاندان کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔اس نے بتایا کہ اسے بھوک نہیں ہے۔وہ دروازے پر آیا اور ہمیں دیکھا(امی جان نے بعد میں کہاتھا کہ جیسے وہ ہمیں خداحافظ کہنے آیاتھا”۔(5)۔

لینن کی ولادت
دریائے والگا کے کنارے پر واقع اس چھوٹے سے پرسکون قصبے سمبرسک میں 22اپریل 1870ء کی شان دار صبح کوپیدا ہوا۔یہ تاریخی دن اولیانوف خاندان میں بہت پرمسرت تھا۔کیوں کہ اس دن ان کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تھی اور یہ بچہ ،ولیدیمیر الیچ اولیانوف تھا،جوتاریخِ عالم میں لینن کے نام سے مشہور ہوا۔
ایلیا جب کمرے میں داخل ہوا تواس نے اپنی بیوی کو سلام کیا۔اس وقت لینن کا بڑا بھائی ساشااور اس کی بڑی بہن اینااس کے ساتھ کھڑے تھے۔اینا کی آنکھیں سیاہ اور اس کے بال گھنگریالے تھے۔وہ اس وقت چھ برس کی تھی اورساشا چار برس کا۔اس کا سر بہت بڑا تھااور چہرے کا اوپری حصہ بھاری،بڑا اور سرخ رنگت کا تھا۔اس نے بہت دیر سے چلنا شروع کیا۔بعد ازاں وہ بہت مضبوط،صحت مند اور سڈول بن گیا۔اسے بچپن میں انتہائی شریر، خطرناک اور ہنگامہ خیزکھیلوں سے دلچسپی تھی۔وہ بہت شرارتی تھا۔اس کے بہن بھائی اس کی شرارتوں سے بہت پریشان تھے۔وہ اپنی چھوٹی بہن اولگا،جو اس سے صرف ڈیڑھ سال چھوٹی تھی،کے ساتھ مل کر شورو غل کرتا تھا،جس کی وجہ سے اس کے بڑے بہن بھائی اپنا ذمیہ کام نہیں کر پاتے تھے۔آخر کار وہ تنگ آ کر اسے اپنے والد کے پڑھنے کے کمرے میں بند کر دیتے تھے۔وہ کھلونوں سے نہیں کھیلتا تھا۔بلکہ انہیں توڑ کر دیکھتا تھا کہ ان کے اندر کیا ہے۔اس کاپسندیدہ مشغلہ پرندوں کو پکڑنا تھا۔لیکن اس مشغلے کو اس نے اس وقت ترک کردیا،جب اس کا سرخ سینے والا ہدہد پنجرے کے اندر مر گیا۔اسے ریڈ انڈینز کے کھیل بھی بہت پسند تھے۔وہ تیراکی سے بہت لطف اندوز ہوتا تھااور دریائے والگا کی تیز رفتار لہروں پر تیرتا تھا۔وہ انتہائی شکستہ کشتیوں پر دریا کی سیر کرتا تھا۔اسے ایک مرتبہ ایک ملاح نے پانی میں ڈوبنے سے بچایا تھا۔وہ جنگل میں ان جگہوں پر بھی چلا جاتا تھا،جہاں دیگر بچے جانے سے خوف زدہ ہوجاتے تھے۔لیکن لینن سارا سارا دن ان جنگلوں میں گزار دیتا تھا۔

تعلیم و تربیت
لینن کے گھر کاماحول علم وادب کا گہوارہ تھا ،جوفنونِ لطیفہ اور تہذیب و ثقافت کا بہترین نمونہ پیش کرتا تھا۔ لینن نے اسی مثالی ماحول میں آنکھیں کھولیں،اس کی پرورش ہوئی، اس کا بچپن گزرا، اس کی تربیت ہوئی اور اس کاذوقِ جمال پروان چڑھا ۔”وہاں کتابوں کی الماریاں اور شیلف تھے، جن میں زولا،ڈاڈیٹ، وکٹر ہیوگو،ہائینے،شلر،گوئیٹے اور کلاسیکی روسی مصنفوں کی کتابیں تھیں۔روس اور ایشیا کے بہت سے نقشے اور دنیا کے دونوں منطقوں کے گلوب تھے۔گھر بہت کشادہ تھا۔کیوں کہ اس میں بہت بڑا خاندان رہتا تھا۔اوپر کی منزل کے ایک کمرے میں ایک چھوٹا لڑکا اور دو چھوٹی لڑکیاں اکٹھے تین لوہے کی چارپائیوں پر سوتے تھے۔وہاں ان کے کھلونے،کاغذی گڑیاں،لکڑی کے گھوڑے ، پرانے زمانے کی تصویریں اور ان کے سکول کے ڈپلومے تھے۔1883ء کے میگزین کی ایک جلد بھی تھی، جس میں “Adventures of Tom Savyer”شائع ہواتھا” ۔(6) “Lenin:Documents, Facts and Recollections” کے مطابق لینن کے بچپن کا دوست پاویل جوکوف لینن کے گھریلو ماحول کے بارے کہتا ہے :6جون 1882ء میں وہ ایلیا نکولائی ایچ کے منظم کردہ سکول میں پڑھنے جاتا تھا۔ اس سکول میں بچے مختلف فنونِ لطیفہ حتیٰ کہ گانا بھی سیکھتے تھے۔اس نے اپنے دوست لینن کے گھر میں پہلی مرتبہ پیانو دیکھا۔ماریا الیگزینڈروونانے اسے موسیقی سننا اور سمجھنا سکھایا۔اس نے لینن کے گھر میں مکمل طور پر نئی دنیا کو پایا۔اولیا نوف خاندان نہ صرف لوگوں کے احترام کے بارے میں بات کرتا تھا۔بلکہ ایسا کرنا اس کی روایت بھی تھی۔اولیانوف بچے اپنے والدین کی مثال کی پیروی کرتے تھے اور بیلنسکی، دوبرو لیبوف،گرچن اور چرنی شوفسکی کی کتابوں کا احترام کرنا سیکھتے تھے۔ چرنی شوفسکی کی کتاب”کیا کیا جائے؟”لینن کی پسندیدہ کتابوں میں سے تھی۔لینن بچپن ہی سے فنونِ لطیفہ،مطالعہ اور موسیقی میں بہت گہری دلچسپی لیتا تھااور اسے موسیقی سے گہرا شغف تھا۔وہ خود بھی گانا گاتا تھا اور پیانو بجاتا تھا۔اس کے اس ذوق کو پروان چڑھانے میں اس کی والدہ کا بہت اہم کردار تھا: “وہ بڑے ہال سے موسیقی کی آتی ہوئی آواز کو بڑے انہماک کے ساتھ اکھٹے سنتے تھے۔ موسم گرما کے دنوں میں موسیقی شان دار اور خوش کن ہوتی تھی۔ وہ صوفے کے ایک کونے میں بیٹھ کر موسیقی سنتے تھے۔”(3)۔

لینن کاچھوٹا بھائی ڈمٹری اولیا نوف لینن سے متعلق اپنی یاداشتوں میں اس کے موسیقی کے گہرے شغف کے بارے میں تحریر کرتا ہے:۔
” ولید لمیر لینن نے اس وقت پیانو بجانا سیکھا ،جب وہ ابھی تک بچہ تھا ۔امی اسے کہا کرتی تھی کہ وہ موسیقی کی بہت ہی عمدہ سماعت اور استعداد کا حامل ہے۔آٹھ سال کی عمر میں وہ پیانوپر بچوں کی دھنیں بجا سکتا تھااور اکثر کسی بوڑھے شخص کے ساتھ دو گانا گا سکتا تھا۔۔۔۔(4) دن تیزی سے گزرتے چلے گئے۔اب وولودیا آٹھ برس کا ہوگیا۔اولیانوف خاندان میں تین اور بچے تھے۔اس کی بہن اولیا ،بھائی متیا اور سب سے چھوٹی بہن ماریاوولودیا سے چھوٹے تھے۔والدین ،تین بہنوں اور تین بھائیوں پر مشتمل اولیانوف خاندان ایک مثالی خاندان تھا۔اینا اور ساشا سکول میں پڑھتے تھے۔جب کہ وولودیا گھر میں ٹیوشن پڑھ رہا تھا تاکہ گرامر سکول میں داخلے کی تیاری کرسکے۔اس دوران اس نے اپنے ٹیوٹر اور اپنی والدہ سے بھی بہت کچھ سیکھا۔آٰاینا اور ساشا سکول میں پڑھتے تھے۔جب کہ وولودیاابھی تک گھر میں گرامر سکول کے داخلے کی تیاری کے لیے اپنے ٹیوٹر سے پڑھ رہا تھا۔اس نے اپنے ٹیوٹر سے بہت کچھ سیکھااور اپنی والدہ ماریہ الیگزینڈروونا سے بھی بہت زیادہ سیکھا۔وہ ایسی لگتی تھی کہ جیسے ہر چیز کے بارے میں جانتی ہو۔وہ خطوں اور شمالی ملکوں،داناسینٹ برنارڈ کے بارے میں،(جس نے کوہِ الپس کے گم گشتہ کوہ پیماؤں کو بچایا تھا)روس کے خلاف نپولین کی جنگ اور بوروڈینو کی جنگِ عظیم کے متعلق کہانیاں سناتی تھی۔لمبی زمستانی راتوں میں،جب وہ کھانے کی میز کے اردگرد بیٹھتے تھے ،تواس کی والدہ کی مسحور کن کہانیوں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی۔ وولودیا ان شاموں کو بہت پسند کرتا تھا۔کھڑکیوں پر برف جمی ہوتی تھی۔اس کی ماں کی آواز اور اوراق کی ہلکی ہلکی پھڑپھڑاہٹ ہوتی تھی،جب وہ کہانیاں پڑھتے تھے۔”۔(5)
ایلیا اپنے مطالعے کے کمرے میں اپنا کام کرتا تھااور ماریا الگزیڈروونا دروازے کو سختی سے بند کردیتی تھی تاکہ بچوں کا شور اسے پریشان نہ کرے۔جب اس کے کمرے کادروازہ کھلتا تو بچے فوراً اس کے گلے لگ جاتے۔وہ ان سے کہتا میرے پیارے بچو ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب ایسے ہی رہنا،جیسے کہ تم اب ہو۔سمبرسک میں موسمِ گرما خشک اور گرم ہوتا تھا۔بہت سے باغات میں سیب پکے ہوئے ہوتے تھے۔اولیانوف خاندان کے گھر کے پیچھے ایک باغ تھا،جس میں بہت سے پھل دار اور سایہ دار درخت تھے۔اولیانوف خاندان میں ہر ایک صبح سویرے جاگتا تھا۔ساشا اور وولودیا کنویں سے پانی بھر کر لاتے تھے۔پھر وہ ناشتے کے لیے کھانے کی میز پر بیٹھتے تھے۔ان کی والدہ انہیں ناشتے پر یاد دلاتی تھی کہ آج ان کا فرانسیسی زبان میں بولنے کا دن ہے۔کل ان کا جرمن زبان میں بات کرنے کا دن ہوگا۔کیوں کہ ان کی والدہ چاہتی تھی کہ وہ کئی زبانیں سیکھیں۔اولیا وولودیا سے پوچھتی کہ ناشتے کے بعد وہ کیا کرے گا۔تو وہ جواب دیتا جو ساشا کرے گا۔
پانچ برس کی عمر میں لینن نے پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا۔اسے چار سال تک ایک اطالیق نے گھر پر پڑھایااور نو سال کی عمر میں وہ گرامر سکول میں داخل ہوا۔ اس سکول کا ہیڈ ماسٹر فیودر کیرنسکی تھا،جو الیگزینڈر کیرنسکی کا والد تھا۔ یہی الیگزینڈر کیرنسکی اکتوبر1917ء میں روس کی عارضی بورژواحکومت میں وزیرِ اعظم تھااور لینن اور بالشویکوں کا جانی دشمن تھا،جس کی حکومت کا تختہ الٹ کر لینن اور اس کی بالشویک پارٹی نے بالشویک انقلاب برپا کیا تھا۔ فیودر کیرنسکی نے لینن اور الیگزینڈر پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔وہ ایلیا اولیانوف کی طرح قدامت پسند آزاد خیال تھا۔وہ بھی ایلیا کا قریبی دوست تھا۔اس سکول میں اشرافیہ اور سرکاری ملازموں کے بچوں کی اکثریت تھی۔ایلیا چوں کہ شعبہِ تعلیم سے تعلق رکھتا تھا۔لہذا اس کے بچے سکول فیس سے مستثنیٰ تھے۔بصورتِ دیگر اسکول فیس تیس روبل سالانہ تھی۔ وولودیا سکول میں بہت اچھا تھا۔وہ ہر کلاس میں اول آتا تھا۔اس کے سکول کے ساتھیوں نے بعدازاں تحریر کیا کہ وہ اپنے اسباق کے دوران نہایت انہماک سے متوجہ،خاموش اور منظم حالت میں ہمہ تن گوش ہوتاتھا۔لیکن وہ تفریح اور چھٹی کے دوران سب سے شریر اور سب سے پرزور ہوتا تھا۔وہ بہت کم محنت سے ہر چیز کو یاد کرلیتا تھا اور پھر اسے بہت اعتماد اور بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتا تھا۔اس کی بڑی بہن اینالکھتی ہے:
“سکول سے گھر واپس لوٹ کر وولودیا والد کو سکول میں جو کچھ ہوتا تھا بتاتا تھاکہ کس طرح اس نے سوالوں کے جواب دیے۔جیسا کہ وہ عموماً صحیح جوابوں اور اچھے نمبرحاصل کرنے کی کہانی سناتا تھا،وولودیا ہال کی طرف دوڑتا تھا۔۔۔۔اور جلدی سے بغیر توقف کے کہتا تھا:یونانی میں پانچ،جرمن میں ۔۔پانچ۔میں اس منظر کو اب تک صاف طور پر دیکھ سکتی ہوں: میں والد کے مطالعے کے کمرے میں بیٹھی ہوں اور میں اس تبسمِ اطمینان کو محسوس کرتی ہوں،جس کا تبادلہ والد اور والدہ کرتے ،جب ان کی نظریں یونی فارم میں ملبوس موٹی سی چھوٹی شخصیت پر پڑتیں،جس کے سرخ بال سکول کی ٹوپی سے باہر لہرا رہے ہوتے تھے۔۔۔۔۔لاطینی میں پانچ۔۔۔،الجبرا میں پانچ۔۔۔ان دنوں میں والد صاحب والدہ صاحبہ سے بعض اوقات کہا کرتاکہ وولودیا کو ہر چیز بہ آسانی سمجھ میں آرہی ہے۔اس لیے وہ کبھی بھی محنت کرنے کی قابلیت حاصل نہیں کر پائے گا۔ ” (6)۔
بعدازاں وولودیا خود ہی بغیر محنت کے کامیابی حاصل کرنے کے خطرے سے آگاہ ہوگیااور اس نے دانستہ طور پر خود کو محنت کرنے پر مجبور کیا۔وہ سکول میں کمزور بچوں کی پڑھائی میں مدد کرتا تھا۔وہ اکثر کلاس میں آدھا گھنٹہ پہلے آتا تھا۔بلیک بورڈ کے ۔ساتھ کھڑے ہو کر استاد بن جاتا تھا۔وہ پڑھانے کے عمل سے بہت لطف اندوز ہوتا تھا۔اس کا چچا زاد ویرٹینی کوف تحریر کرتا ہے:”ایک مرتبہ وولودیا نے ایک سادہ اور بزدل بچے کی ایسی نقل اتاری کہ وہ رونے لگا۔وولودیا کا دل پسیج گیا اور اس نے اسے خوش کرنے کی پوری کوشش کی۔اس کی تمام خوش طبعی اور زندہ دلی کے باوجود وولودیا کا کلاس میں کوئی دوست نہیں تھا”۔(7)۔
وولودیا جیسے ہی باشعور ہوا، اس کا فطری رحجان فنونِ لطیفہ کی طرف واضح ہوتا گیا۔خصوصاً لاطینی اور روسی ادب میں اسے بہت دلچسپی تھی۔ان مضامین کو سکول کا ہیڈ ماسٹر فیودر کیرنسکی پڑھاتا تھا۔وہ ایک بہت ہی قابل استاد تھا۔وہ ہمیشہ واضح اور موجز اظہار پر زور دیتا تھا،جس میں کم از کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ خیالات کا اظہار ہو۔وولودیا جب اپنی کمپوزیشن کو بہ آوازِ بلند کلاس میں پڑھتاتو وہ کمپوزیشن میں مذکور اصول کے اطلاق کی بہترین مثال کے طور پر اس کی تعریف کرتا تھا۔لاطینی وولودیا کا پسندیدہ مضمون تھا۔اس نے لاطینی پر دستگاہ حاصل کی۔ساسیرو اس کا پسندیدہ ادیب تھا۔فیودر کیرنسکی لینن سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اس کے والد سے کہا : بے شک وولودیا بہت بڑا کلاسکی عالم بنے گا۔لیکن اس کی یہ توقع تو کبھی پوری نہیں ہوئی۔تاہم اس نے وولودیا میں مستقبل کے پبلسسٹ کا اسلوبِ تحریر تشکیل دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔وولودیا نے اس کے بارے میں اپنی بیوی سے ایک مرتبہ کہا تھا کہ لاطینی اس کے ان خطرناک مشغلوں میں سے ایک تھی،جنہیں اسے اپنے انقلابی کام کے دوران قابو میں لانا پڑا۔۔دوسر ے مشغلے موسیقی اور شطرنج تھے۔
وولودیا کے یہ رحجانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسے سماجی و سیاسی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اسے خاندان کے سب افراد کی طرح فطری طور پر طبقاتی نظام سے نفرت تھی،جسے اصلاحات نے بھی قائم رکھا تھا۔لیکن انہوں نے اس نظام سے باہر جینا سیکھ لیا تھا۔وولودیا اپنے ماحول سے مکمل ہم آہنگی میں بڑا ہوا۔اس نے سکول میں کبھی بھی کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی۔صرف اس نے ایک مرتبہ ایک استاد سے جھگڑا کیا تھا،جس نے ایک معصوم بچے کے ساتھ ناانصافی کی تھی۔اس پرایلیا نے وولودیا کو بہت ڈانٹا تھا اور اس نے آئندہ کبھی ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔وہ اپنے اس وعدے پر ہمیشہ قائم رہا۔ اگرچہ وولودیا ان دنوں کی سیاسی صورت حال سے بے خبر بالکل نہیں تھا۔وہ اس وقت گیارہ برس کا تھا،جب زار الیگزینڈر دوم کو ناردونوولتسکی نے ہلاک کردیا تھا۔سکول اور کلیساؤں میں عبادات کی گئیں۔مقررین نے اس قسم کے عمل کی مذمت کی اور زار شاہی سے وفاداری کا درس دیا۔ایلیا بہت پریشان تھا۔اس نے اپنی یونی فارم پہنی اور کیتھیڈرل میں عبادت میں شرکت کی۔جب وہ گھر واپس لوٹا تو اس نے اپنے بیوی بچوں سے زار کے قتل کے بارے میں بات کی۔اس نے اس قسم کا کام کرنے والوں کوغیر ذمہ دار مجرم قرار دیا۔اس نے محض ایک وفادار سرکاری افسر کے طور پر ایسا نہیں کہا تھا۔بلکہ اس نے اس لیے ایسا کہا تھا کہ وہ نکولس اول کے بے چین زمانے میں پلا بڑھا تھا اور الیگزینڈر دوم کا زمانہ اس کے لیے بہت امیدافزا تھا۔ وہ اسے روسی کسانوں کا نجات دہندہ تصور کرتا تھا۔یہ پہلا موقع تھا جب اس نے اپنے سیاسی خیالات کا کھل کر اظہار کیا تھا۔عموماً وہ اس قسم کی سیاسی گفتگو سے اجتناب کرتا تھاکہ کہیں اس کے بچے سیاست میں دلچسپی نہ لینا شروع کردیں۔اس کے دونوں بڑے بچے اینا اور ساشا نے اس کی گفتگو غور سے سنی اور اپنے خیالات کا اظہار بالکل نہیں کیا۔جب ان کی طرف سے ایلیا نے خاموشی دیکھی تو وہ خود بھی خاموش ہوگیا۔ اینا اور ساشا انقلابیوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔وولودیا کے ان معاملات میں کوئی بھی خیالات نہیں تھے۔لیکن پہلی مرتبہ وہ مبہم طور پر ان سیاسی کوششوں کی اہمیت سے آگاہ ہوا،جنہوں نے زار کے تخت وتاج اور روس کو ہلا کررکھ دیا تھا۔

Check Also

انجیلا ڈے وس(خودنوشت) ۔۔۔۔ ترجمہ:سید سبطِ حسن

اتفاق سے اُنہیں دنوں میری ملاقات کئی کمیونسٹ گھرانوں سے ہوئی اور بٹینا اپٹھیکر جو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *