Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » انصاف ۔۔۔ پروفیسر اورنگزیب

انصاف ۔۔۔ پروفیسر اورنگزیب

حکمرانی کا دار ومدار زیادہ تر انصاف پر ہے۔ انصاف پر کھڑی حکومت عوام کی ہمدردیوں کی وجہ سے مستحکم ہوتی ہے ۔ جب کہ ظلم وستم اور نا انصافی کرنے والی حکومت اپنی پشت پر عوام کی ہمدردیاں نہ ہونے کی وجہ سے کمزور حالت میں ہوتی ہے۔
انصاف کا تعلق بنیادی طور پر عدلیہ ، مقننہ اور نتظامیہ کی تشکیل اور ان کے آپس کے تعلقات اور فرائض واختیارات پر ہوتا ہے ۔ مثلاً کیا مقنّنہ ملک کے سارے طبقات کو مد نظر رکھ کر اور سب کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر قانون سازی کرتی ہے یا صرف اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے مفاد کے لیے قانون بناتی ہے ؟۔ قوم اور عوام کے نمائندے قانون سازی کرتے ہیں یاکہ ایک ہی شخص بیٹھا فرمان جاری کر رہا ہے ۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ججوں کے چناؤ اور معزولی کا طریقہ ، عدلیہ کی آزادی کو زیادہ کرتا ہے یاکم۔ان کی تنخواہیں اور مراعات معقول ہیں؟۔ عرصہ ملازمت معقول ہے ؟ وغیرہ ۔ اسی طرح یہ بھی جائز لینا ہوتا ہے کہ انتظامی مشینری جمہوری قسم کی ہے یا کہ آمرانہ یا محدود جمہوریت کی حامل ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انصاف کا تعلق محض دستوری ڈھانچے یا اختیارات وفرائض کے قیام ہی سے نہیں ہوتا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان میں احتساب وانصاف کے قیام کے لیے تقریباً وہی قوانین ، ادارے اور ان کے وہی اختیارات وفرائض موجودہیں جو امریکہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں ہیں لیکن یہاں پر انصاف امریکہ اور برطانیہ کے مقابلے میں دسواں حصہ بھی نہیں ہے۔ثابت ہوا کہ دستوری تحفظات کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے جو انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے اور وہ ہے سازگار ماحول ۔ اور وہ ماحول بنتا ہے سائنسی ، روشن خیال، غیر فرقہ وارانہ ، جمہوری اور معاشی طور پر ترقی یافتہ کلچر سے ۔ جس طرح پودے کے اُگنے کے لیے مناسب پانی ، مٹی، روشنی اور ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انصاف کے قیام وبقا کے لیے بھی قانونی وآئینی تحفظات کے علاوہ ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جس کا پاکستان اور اس جیسے بیشتر ترقی پذیر ممالک میں فقدان ہے ۔
ایک اور پہلو میں اس کی وضاحت کروں گا کہ کس طرح انصاف صرف عدلیہ وغیرہ ہی پر منحصر نہیں ہے۔ مثلاً قانون یہ کہتا ہے کہ ہر شہری اپنی مرضی سے کوئی بھی پیشہ ، روزگار یا کاروبار اختیار کرسکتا ہے ۔ لیکن اگر معاشرے میں بے روزگاری اتنی عام ہوکہ عوام کو نوکریاں ملتی ہی نہ ہوں اورجو محدود تعداد میں ہوں یا اہم قسم کی ہوں وہ رشوت یا سفارش سے اشرافیہ کی اولادوں کے قبضے میں آجائیں تو اس صورت میں عدالت کوئی مدد نہیں کرتی ۔ ہر شخص پرائمری سے پی۔ ایچ ۔ڈی تک کی تعلیم حاصل کرسکتا ہے ۔ لیکن غریب کا بچہ سکول دور ہونے کی وجہ سے یا پیسے کم ہونے کی وجہ سے سکول تک نہیں پہنچ سکتا یا میٹرک تک نہیں کرسکتا تو اس بے انصافی کا علاج عدالتوں کے پاس نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کسی معاشرے کے پندرہ بیس فیصد لوگ شہری حقوق سے مستفید ہورہے ہوں اور باقی اَسّی پچاسی فیصد جہالت کے باعث فائدہ نہ اُٹھاسکیں۔ اس کا علاج پورے معاشرے کے پاس ہے ۔ پورے معاشرے کی پیداواری صلاحیت بڑھا کر اسے معاشی طور پر مستحکم کیا جائے اور ترقی یافتہ ممالک کے استحصال سے بچایا جائے۔
آئین میںEQUALITY BEFORE LAWدے کر کوئی ریاست یہ سمجھ لے کہ اس نے اپنا فرض اداکردیا ہے، درست نہیں جب تک عملاً وہ معاشرہ اس کا اظہار نہ کرے، جب تک حقیقتاً اس معاشرہ کے امراء اس کے غرباء سے درد مندی کا ثبوت نہ دیں تو قانون کی رو سے مساوات اور ایک صف میں محمود اوایاز کا کھڑا ہونا بے کار اور روکھی پھیکی باتیں ہیں۔
یہ درست ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر ہمدردی اور درد مندی پیدا کرلے تو اس کے قلب وروح میں وسعت ، کشادگی اور شگفتگی آجاتی ہے جس کا لطف صرف وہی شخص لے سکتا ہے جو ان صفات کا حامل ہو۔ لیکن ہمارے ایشیائی و افریقی معاشروں میں تو ایسے لوگ بمشکل ایک فیصد ہوں گے۔چنانچہ انفرادی کوششوں کی بجائے اجتماعی کوششیں ہی کار گرثابت ہوں گی۔ نا انصافی ، تعصب ، امتیاز اور ظلم کا خاتمہ مل جل کرہی کرنا ہوگا۔ کسی بھی idealisticطریقے یا سوچ سے ، معاشرے کو درست کرنا یا اس کی خرابیاں دورکرنا سعی لاحاصل ہوگا۔ مثلاً جب تک افراد معاشرہ یا معاشرہ کے مختلف گروہوں کے درمیان پائی جانے والی مخاصمت کے اصل اسباب دور نہ کیے جائیں ، نعرہ بازی ( مثلاً یہ کہنا ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، یاتمام انسان اولاد آدم ہیں، وغیرہ ) سے بھائی چارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا ۔ پوری دنیا یا پورے ملک میں تو دور کی بات ہے ایک گھر میں بھی برادرانہ ماحول پیدا نہیں ہوسکتا جب تک کہ افراد خانہ سے یکساں سلوک نہ کیا جائے ۔ محض مولویانہ وعظ یاپا دریانہ نصیحت سے خراب صورت حال درست نہیں ہوسکتی ۔ مریض کا علاج پرانے روایتی طریقوں سے کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ پرانے طریقے ہی ہیں جنہوں نے مرض کو یہاں تک پہنچا دیا ہے ۔
استحصال اور نا انصافی کی ایک اور شکل
ترقی پذیر سرمایہ دار ممالک میں اس قسم کا سیاسی کلچر موجود ہے کہ طبقہ امراء کا بوجھ غرباء برداشت کرتے ہیں ۔ مثلاً کئی دفعہ حکومت اپنی سہولت کے لیے ، اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کردیتی ہے ۔ اور وہ بھی بالواسطہ ٹیکس ۔ لیکن ایسا کرنے سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے خریدار کم ہوجاتے ہیں( عوام کی قوتِ خرید کم ہوجانے کی وجہ سے اشیاء غریبوں اور درمیانہ درجے کے لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجاتی ہیں)۔ کاروباری سرگرمیاں محدود ہوجاتی ہیں۔ روزگار کے مواقع کم ہوجاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ہی صنعت کا ر اور تاجر اپنا منافع بڑھا دیتے ہیں ۔ حکومت اگر ٹیکسوں میں پانچ فیصد اضافہ کرتی ہے تو سرمایہ دار دس فیصد اور تاجر اور دکاندار بیس فیصد اضافہ کردیتے ہیں۔ اس کا سارا اثر صارف پر پڑتا ہے جو کہ غریب اکثریتی طبقہ ہے ۔ جب کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے سرمایہ دار اور تاجر مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ ہی حکومت کے قابو میں آتا ہے ۔ جس سے لازماً ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ عوام کو اس قسم کے استحصال سے بچانے کا طریقہ یہ ہے کہ:
۔1۔ٹیکس لگانے کی بجائے ان لوگوں کو پکڑا جائے جو بلکل ٹیکس نہیں دیتے ۔
۔2۔جولوگ اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس نہیں دے رہے ان کا احتساب کیا جائے۔
۔3۔تاجروں اور سرمایہ داروں پربراہ راست ٹیکس لگائے جائیں۔
۔4۔ٹیکس وصول کرنے والے اداروں اور عملے پر کڑی گرفت کی جائے۔تاکہ عوام کو یقین ہوجائے کہ اُن کے خون پسینے کا کمایا ہوا ایک ایک پیسہ مفاد عامہ ہی کے لیے استعمال ہورہا ہے ۔
حکومت کی شاہ خرچیاں اور ناجائز صوابدیدی فنڈ بھی ختم ہونے چاہییں۔
غیر ملکی امداد یا قرضوں کا صحیح صحیح استعمال ہونا چاہیے کیونکہ ان قرضوں کا بوجھ پورے عوام پر پڑتا ہے جب کہ اس کے ناجائز استعمال سے صرف بالائی طبقہ مستفید ہوتا ہے ۔
سرکاری اخراجات پر طبقہ امراء کے لوگ بیرون ملک علاج کے لیے جاتے ہیں حالانکہ وہ خود اخراجات آسانی کے ساتھ برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اکثر امراض کا علاج اندرون ملک ہوسکتا ہے ۔ حکومت کے خرچ پر بیرونی دوروں پر بڑے بڑے بڑے وفد بھیجنے سے پرہیز کیا جائے۔ ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ پارٹی کے لوگوں نوازنے کے لیے یا صحافیوں کو اپنا ہمدرد بنانے کے لیے غیر ضروری طورپر بڑا وفد تیار کر لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح اہم لوگوں کو نوازنے کے لیے بہت بڑی کابینہ تشکیل دے دی جاتی ہے ۔ یہ عوام کے ساتھ نا انصافی کی مثالیں ہیں۔
انصاف ۔ عالمی حوالے سے
دنیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جبتک کہ سرمایہ دار اور ترقی یافتہ ممالک بے انصافی سے باز نہیں آتے ۔ کثیر القومی کارپوریشنیں ، عالمی بنک اور آئی ایم ایف ، جو سرمایہ دار ممالک کے ایجنٹ ہی ہیں، نے غریب ممالک کو صنعتی ارتقا کی راہ پر چڑھانے کی بجائے محتاجی کے راستے پر چلنے پر مجبور کردیا ہے ۔ ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک نہیں چاہتے کہ غریب ممالک محتاجی کی دلدل سے نکلیں ۔ کیونکہ اُن کا مفاد اسی میں ہے ۔ لیکن بنی نوع انسان کا مفاد اس میں نہیں ہے ۔ عالمی ادارے ترقی یافتہ ممالک کے ہی آلہ کار اور انہی کے تنخواہ دار ہیں۔ چنانچہ اُن اداروں کی پالیسیاں اور پروگرام بھی اپنے ممالک کے مفاد میں تشکیل پاتے ہیں۔ مثلاً اسی مقصد کے پیش نظر پاکستان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی اپنائے ۔ سرمایہ دار ممالک ساری دنیا کو آزاد منڈی بنانا چاہتے ہیں، جہاں محصولات کی پابندیاں نہ ہوں جہاں سرمایہ کی حرکت آزادانہ ہو اور یہ ممالک غریب ممالک کی معیشتوں کو لتاڑتے رہیں۔
ایک ترقی یافتہ سماج میں عدم ارتکاز ، ڈی کنٹرول اور ڈی ریگولیشن کی پالیسی درست ہے بلکہ اس سماج میں یہ خود بخود پیدا ہوجاتی ہے ، جو اس ملک کی بیشتر آبادی کے لیے مناسب ہوتی ہے(اگر چہ بالآخر دنیا کو SOCIALIZATIONکی پالیسی ہی اپنانا پڑے گی) لیکن غریب ممالک کے لیے جہاں اکثریت پسماندہ اور غریب لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے وہاں بنیادی ذرائع پیدا وار کو قومیانے اور ریاستی کنٹرول میں لینے سے ہی عوام کو فوائد پہنچائے جاسکتے ہیں۔ وہاں کی حکومت ، جیسی بھی اچھی یا بُری ہے ، عوام کے سر سے ہاتھ اُٹھالے اور ان کو بے رحم معاشرتی قوتوں کے سامنے کھلا چھوڑدے تو یہ صریحاً عوام دشمنی اور سامراج نوازی ہوگی ۔ سامراج کو اس بات کی واہ نہیں ہے کہ دنیا والوں پر کیا بیت رہی ہے اور نہ ہی ان کو اس بات کا اندازہ ہے کہ خود اُن کی نسلیں اس بے لگام ہوتے معاشی نظام کے ہاتھوں کیا نقصان اُٹھائیں گی۔
اس بے انصافی اور نا ہمواری کا ایک مظہر تو وہ ہے جو 11ستمبر2001میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹرکی بربادی کی شکل میں نمودار ہوا۔ دوسرا کوئی اجتماعی تصادم بھی ہوسکتا ہے جیسے کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں ۔ اور دنیا کسی تیسری عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہوگی۔ تیسری عالمی جنگ کا دوسرا نام قیامت ہوگا۔ اس جنگ کے بعد یہ کراہ ارض انسانوں کو ترسے گا۔
غریب عوام کی بھلائی کے لیے ایک فلاحی ریاست کا قیام ضروری ہے ۔ ایک ایسی ریاست جہاں اعلیٰ معیارِ زندگی موجود ہو، ،وہاں ریاستی سرپرستی کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی ۔ ایک تناور درخت کو آندھیاں چھو کریا، جھنجھوڑ کر گزرجاتی ہیں، وہ محفوظ رہتا ہے ۔ موسم کی تلخی یاسختی اور جانوروں کی دست بُرد سے بھی خطرہ نہیں ہوتا لیکن ناتواں اور نوزائیدہ پودوں کو تو پرنددوں کے حملے بھی کافی ہوتے ہیں ۔یہی حال طاقتور اور کمزور ممالک کا ہے ۔ کھلی منڈی کے نظام میں ایک زرعی سماج، ایک ترقی یافتہ الیکٹرانک کلچر کا کیسے مقابلہ کرسکتا ہے ۔ سارس نے اگر لومٹری کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر اُسے ایک جار کی ضرورت ہے پلیٹ کی نہیں۔ سامراج ایک لومٹری ہے جو کھلی پلیٹ میں کھانا رکھ کر سارس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا چاہتی ہے ۔ GATTکا معاہدہ بھی سرمایہ داروں کے حق میں ہے ۔ اس شیطانی چکر سے نکلنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے پاس کوئی راہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے خود سرمایہ تخلیق کریں۔ جس طرح جاپان اور چین نے کیا اور بھارت بھی اُسی ڈگری پر چل رہا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک میں قدرتی وسائل کا فرق نہیں ہے کہ یہ غریب ہیں اور وہ امیر۔ جاپان قدرتی وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے کمتر ہے لیکن تخلیق شدہ وسائل سے وہ پاکستان سے دس گنا سے بھی زیادہ کا مالک ہے ۔ چنانچہ غریب ممالک کو چاہیے کہ وہ صنعت اور سائنس کو رواج دے کر وسائل میں اضافہ کریں۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لیے سرمایہ کاری کریں۔ یوں معاشرے کو نہ صرف بنیادی ضروریات زندگی بلکہ آسائشات بھی میسّر آئیں گی۔تب وہ معاشرہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہوسکے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پبلک سیکٹرہی کو استعمال کرنا پڑے گا،ترقی پذیر ممالک آپس میں مل جل کر ایسا بند وبست کرسکتے ہیں کہ ایک ملک سرمایہ فراہم کرے ، دوسرا مہارت اور تیسرا افرادی قوت ۔ یہ راستہ معاشرے کو سیکولرازم اور جمہوریت کی طرف بھی لے جائے گا، تب معاشرہ ترقی کی وہ سطح حاصل کرلے گا کہ جب معاشرے کا ایک حصہ دوسرے حصے کا احتساب کرسکے گا، کوئی ادارہ بے لگام نہیں ہوگا۔ ادارے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کریں گے۔ ایسی سوسائٹی اپنے سے کمتر معاشروں کا استحصال تو کرسکتی ہے خود استحصال کا شکار نہیں ہوگی۔ اور اندرونی طور پر بہت حد تک انصاف دستیاب ہوگا۔ وہ معاشرہ جو ترقی کے کمتر درجے پر ہوتا ہے وہ اعلیٰ تر کے استحصال سے نہیں بچ سکتا ۔ اعلیٰ درجے پر پہنچ جانے والے معاشروں کو تمام نوع انسانی کا خیال کرنا چاہیے۔ اور ایک ہم گیر اور مکمل تصادم سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ غریبوں کو ساتھ لے کر چلیں ، کرہ ارض کی بھلائی اسی میں ہے ۔
امریکہ اور یورپی ممالک سرمایہ سے لبریز ہیں۔ وہ فالتو سرمایہ کو بیرون ملک منڈیوں میں کھپانے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔ وہ ایک تو یہ کہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔اور دوسرا یہ کہ وہ دوسرے ممالک کو قرض فراہم کرتے ہیں۔ ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے لالچ اور تحریص سے کام لیتے ہیں۔ اور اگر ترغیب سے کام نہ چلے تو تشدد پر اتر آتے ہیں۔ اپنے قرض کے جال میں پھنسا کر وہ دہائیوں تک مقروض ملک کو اپنے دباؤ میں رکھتے ہیں ۔ وہ پراکسی جنگوں کے ذریعے اپنا اسلحہ بھی فروخت کرتے ہیں۔
ترقی پزیر ممالک امریکی دانش کے سامنے بونے ہیں۔ امریکہ جب چاہے ایسے حالات پیدا کرسکتا ہے کہ اس کے بعد اس علاقے میں اس کی موجودگی ہوجاتی ہے جیسے افغانستان میں موجودگی اور افغانستان پر قبضہ ۔ مڈل ایسٹ پر بزریعہ اسرائیل ، بالواسطہ قبضہ۔ کویت پر عراق کے ذریعے حملہ کروا کے عربوں پر مسلط ہوگیا اور اپنی مستقل فوج عربوں کے تحفظ کا بہانہ بنا کر عربوں کے خرچ پر، عربوں کے سرپر بٹھادی ۔ کئی سال بعد عراق پر وسیع پیمانے پر ہلاکت خیزی کرنے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر قبضہ لیا۔ یہ معاشی فوائد حاصل کرنے کی خاطر کی گئی نا انصافیاں ہیں۔ اگر دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو ایسی نا انصافیوں سے باز آنا ہوگا۔
ترقی یافتہ ممالک کے استحصال سے بچنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے دیں۔ کیونکہ بیرونی سرمایہ کاری کے یہ نقصانات ہیں (1) ایسا کرنے سے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی بجائے دوسروں کی محتاجی اختیار کر لی جاتی ہے (2) سیاسی خود مختاری خطرے میں پڑجاتی ہے (3)غیر ملکی سرمایہ صرف اشیائے صرف پیدا کرتا ہے ، کوئی بنیادی صنعت کاری نہیں ہوتی ،اور یہ کہ باہر کا سرمایہ کارپیسہ اپنے ملک میں لے جاتا ہے اگر یہی کام کوئی قومی سرمایہ کار کرے تو ملک کا پیسہ ملک میں ہی رہے گا۔ بیرونی صنعت کاری سے قومی صنعت کاری نہیں پنپ سکتی ۔ بلکہ مقامی صنعت تباہ ہوجاتی ہے ۔
جس طرح ایک قوم کو دوسری قوم کے استحصال سے پرہیز کرنا چاہیے اسی طرح ایک ہی ملک میں بسنے والی قومیتوں میں، بڑی قومیت کو چاہیے کہ چھوٹی قومیتوں یا صوبوں کا استحصال نہ کرے ۔ مادی فوائد میں ان کو بھی شریک کرے تاکہ اُن میں بے چینی پیدا نہ ہو۔

Check Also

محکوم لیڈر عبدالصمد خان اچکزئی ۔۔۔ محمد عمران لہڑی

دنیا میں شروع دن سے ایک جنگ جاری ہے جسے حق اور سچ کی جنگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *