Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » مسٹر محمد امین خان کھوسہ ۔۔۔ پیر حسام الدین راشدی/محمد نواز کھوسہ

مسٹر محمد امین خان کھوسہ ۔۔۔ پیر حسام الدین راشدی/محمد نواز کھوسہ

وہ جیکب آباد کے کھوسہ قوم کا فرد تھا ۔ علی گڑھ سے بی ۔ اے ، اور ایل ۔ ایل ۔بی کی ۔ مولانا محمد علی کی سوانحی کتاب لکھ کر واپس سندھ آکر یک دَم سیاست میں اُترا ۔ الیکشن میں سردار شیر محمد خان بجارانی مرحوم سے مقابلہ ہوا۔ اس کو شکست دی۔ سندھ ابھی الگ ہوا تھا ، لوگوں میں نئی امید نیا ولولہ تھا۔ شیر محمد خان مرحوم اسی حلقہ سے پچیس سال سے منتخب ہوتا آرہا تھا ۔ جو اس مرتبہ انہی ولولوں کے سیلاب میں بہہ گیا۔ لوگوں نے سمجھایا نیا زمانہ آیا ہے ۔ اس لیے نئے لوگوں کے انتخاب سے پرانے دور کا خاتمہ کیا جاسکے گا۔ ووٹر زیادہ تر ان پڑھ دیہاتی بلوچ تھے ۔ پرانے دو ر کے دستور اور سختیوں کے ستائے ہوئے تھے۔ اور ان میں اتنا شعور تھا کہ اگر ووٹ کی پرچی سے ہمیشہ کیلئے ان جنجال سے جان چھوٹ سکتا ہے تو درمیان کے مشکلات کچھ وقت کیلئے برداشت کیے جاسکتے ہیں۔ محمد امین خان کھوسہ کو بڑی تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب کیا ۔ آگے چل کر ان کی امیدیں پوری ہوئیں یانہیں وہ بعد کی تاریخ دیکھ کر معلوم ہوگا۔
سندھ الگ ہونے کے بعد محمد امین خان پہلا اور آخری مسلمان تھا جو کانگریس کی ٹکٹ پر اسمبلی ممبر منتخب ہوا۔ اسمبلی میں محمد امین خان ، خان بہادر اللہ بخش خان مرحوم کے گروپ کے ساتھ تھا۔ ماحول وسائل اور ذرائع کے خیال سے اس کے سیاسی پروگرام اور خیالات کا دائرہ حد سے زیادہ تھا۔ اس لیے صوبائی حالات پر زیادہ اثر پیدا نہیں کرسکا۔ کانگریس پارٹی اس کے اسلامی ترجمان ، مسلمانی شکل وشباہت اور گفتگو کے نرالے انداز کی وجہ سے اس سے مشکوک تھا۔ مرحوم اللہ بخش اس کے ووٹ سے تو مستفید ہوتا رہا ۔ مگر اس کے خیالات کی وجہ سے نہ اس کی مسلم لیگ سے بنتی تھی اور نہ مسلم لیگیوں کی اُن سے۔
طبیعت کی ایسی آزادی اور خیالات کی اتنی بلندی کے سبب کچھ عرصہ بعد محمد امین خان اپنے سارے ہم عصروں کو پیچھے چھوڑ کر ایسی مقام مُعلیٰ پر پہنچاجہاں کسی دوسرے بشر کے قدم نہیں پہنچے ۔ اور وہ خود اکیلے ہو کر اکیلا رہ گیا۔ اکیلے پن کے احساس نے طبیعت میں مزید سختی پیدا کی۔ اور جب دیکھا زمین پر رہنے والا محدود علم اور محدود شعور رکھنے والے انسان اس کے اعلیٰ پیغام کی مدد نہیں کررہے ہیں اس لیے جلالی کیفیت میں آگیا۔ اسمبلی کے ایوان میں کئی ممبروں کو ان کی ٹائی سے پکڑ کر گھونسے دے مارے۔ اوستہ محمد کے جلسہ عام میں اس کے تقریر کے دوران سٹیج پر حملہ ہوا۔ کچھ دیر تو افرا تفری رہی پولیس کی مداخلت کے بعد جب سکون ہوا تو دیکھا گیا خود محمد امین خان کے پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔
ایک عاشقانہ سُنت تھی جو اس طرح پوری تو ہوئی مگر اس کے سیاسی حالات اور انسانی کردار پر اس کے بعد بھی کوئی اثر پیدا نہیں ہوا۔ سال دو کے بعد مرحوم اللہ بخش جان سومرو شہید ہوئے ۔ اس لیے محمد امین خان کی تنہائی نے خود شدت اور زیادہ سنگینی اختیار کی۔ 1945-46کے عام اسمبلی انتخابات میں محمد امین خان کامیاب نہیں ہوسکا۔ 1947میں پاکستان قائم ہوا اور کانگریسی سورما ملک ہی چھوڑگئے ۔ نہ رہا پہلے والا یہ منڈل اور نہ رہے پہلے والے ساتھی۔
وان قدح بشکست ۔ وان ساقی نماند۔۔

Check Also

یوسف مگسی ہمہ جہت شخصیت  ۔۔۔ محمد رفیق مغیری

یوسف عزیز مگسی صاحب نہ صرف بیسویں صدی کا بڑا رہنما تھا بلکہ وہ صدیوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *