Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » محبت! آگہی سے سپردگی تک ۔۔۔ ستارہ سید

محبت! آگہی سے سپردگی تک ۔۔۔ ستارہ سید

انسان کی زندگی میں بہت کم ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو سب کچھ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ان میں سے جو سب سے بڑا حادثہ ہے وہ محبت ہے۔ مجازی محبت۔
یہ محبت انسان کی زندگی میں سب کچھ بدل دیتی ہے۔ عادتیں ، اخلاق ، یہاں تک کے معمولات بھی بدل جاتے ہیں۔ کچھ وقت کے لئے ہر چیز میں ایک بے ترتیبی سی در آتی ہے۔ انسان بولنے کا عادی نہیں رہتا۔ خوش مزاج نہیں رہتا۔ اور حیرت اس وقت ہوتی ہے جب باقی سب تو محسوس کر رہے ہوتے ہیں لیکن انسان خود ان سب سے بے خبر ہوتا ہے۔ تب آس پاس بسنے والے لوگ اسے احساس دلاتے ہیں۔
اس احساس کے بعد ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ایسی جنگ جس میں حملہ صرف دلائل سے کیا جا رہا ہوتا ہے۔ بے سر و پیر دلائل۔ اور آخر کار شکست تسلیم کرنا ہی پڑتی ہے۔ ماننا ہی پڑتا ہے کے محبت ہو گئی۔۔۔
اور جب یہ تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ تو جیت اور ہار دونوں کا ہی احساس انسان کے اندر زندہ رہتا ہے۔ وہ خود کو شکست خوردہ بھی سمجھتا ہے اور سکندر بھی۔
اور تب سپردگی کا مرحلہ آ جاتا ہے۔ خود کو اسی محبت کے سپرد کرنا جس کو تسلیم کرنے میں بھی پہلے مشکل ہو رہی تھی۔ اس سارے راستے کا یہ حصہ سب سے زیادہ پر کیف ہوتا ہے۔ سپرد کر دینے کے بعد ایک عجیب سی بے خودی اور مستی مل جاتی ہے۔ ایسی مستی جو کسی نشے میں بھی نہیں مل سکتی۔ انسان ہوش میں رہتا بھی ہے اور نہیں بھی۔ کھلی آنکھوں سے سوتا ہے۔ بلکہ نیند کہاں آتی ہے۔ انسان اسی کیفیت میں رہتا ہے۔ اور اِس کیفیت میں سب کچھ اچھا لگتا ہے۔۔۔
معاملہ اگر یہیں محبت تک رہے تو ٹھیک رہتا ہے۔ لیکن انسان غیر ارادی طور پر اس ایک شخص کی خواہش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور خواہشات دیوانگی تک لے جاتی ہیں۔ اور دیوانگی … کسی بھی شخص کی اپنی ذات اور اس سے جْڑے لوگوں کے لئے بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔ وہ بھی تب جب انسان کو یہ معلوم ہو جائے کے وہ شخص سے مل نہیں سکتا۔
ہاں! مگر محبت میں فائدے یا نقصان نہیں ہوتے۔ محبت میں ، کیونکہ ، سودے نہیں ہوتے۔ محبت کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ لا حاصل ہی رہے گی۔ اِس کا ادھوراپن ہی اس کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔ لیکن پھر بھی… کبھی کبھی یونہی… دل میں ایک ٹھیس سی اٹھتی ہے۔ ایک خلش ستاتی ہے۔ لا حاصل کی خلش۔ اور دراصل یہ ہی محبت کرنے والوں کا کْل سرمایہ ہوتی ہے۔
اس لئے دیوانگی میں تو احساسِ محرومی ہوتا ہے۔ لیکن محبت میں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
رہی حقیقی محبت، تو اس پہ لکھی گئی کتنی بھی سطریں اسے مکمل بیان نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ ہم لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔

Check Also

۔1991 کا ہمارا ایک اداریہ

شریعت بل یا ملاّ شاہی جنرل ضیاء کے سینٹ نے نفاذ شریعت کا بل تالیوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *