Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » گلوکاراحمد ظاہر ۔۔۔ طاھر حسنی سونکلہ یونیورسٹی تھائی لینڈ 

گلوکاراحمد ظاہر ۔۔۔ طاھر حسنی سونکلہ یونیورسٹی تھائی لینڈ 

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایک خاص روٹین کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے طے کردہ مقاصد اور عزائم کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک جامد دنیا میں رہتے ہیں ۔ جہاں نباتات ‘ چرند پرند سے لے کر ہر ذی روح ایک ماضی ‘ حال اور مستقبل رکھتی ہے ۔ اور ہر ذی روح سے ہمارا تعلق براہ راست نہ بھی بنتا ہو تو بھی ہم اسے یکسر نظر انداز نہیں کرسکتے کیونکہ ہم افسانے پڑھتے ہیں ‘ ناول پڑھتے ہیں ‘ فلمیں دیکھتے ہیں۔ یوں تو وہ بھی دوسروں کی کہانیاں ہی ہوتی ہیں مگر اس معاشرے میں ہمیں ایسے کئی زندہ کردار ملتے ہیں جنہیں ہم پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا پڑھنا نہیں چاہتے ۔ بقول شاعر
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
مگر درحقیقت یہ کردار اصل جیتی جاگتی زندگی کا عکس ہیں۔ جو ہمیں زندگی کے مزاج اور نشیب و فراز کے متعلق بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔ مگر اس شغل کے لیے ہمیں زندگی سے تھوڑی سی فرصت چاہیے ‘ تھوڑی بے قائدگی چاہیے اور بصیرت و شعور تو چاہیے ہی۔ یہ تمام لوازمات موجود ہوں تو یقیناً آپ اس طرزمطالعہ سے ضرور لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور کئی ایک کرداروں سے آشنائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کردار سے میری آشنائی سفر کے دوران ہوئی۔ لیجیے آپ بھی سنیئے۔۔
احمد ظاہر سے میرا پہلا تعارف ایک سال پہلے کراچی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے ہوا ۔ ایک خاموش ڈرائیور جس کی عمر کوئی پچاس سے زیادہ رہی ہوگی ۔ جونہی ھمارا سفر شروع ھوا اس نے میوزک لگا دیا ۔ کوئی فارسی موسیقی کا گیت چل رہا تھا اور ہماری ٹیکسی ڈیفینس سے صدر کی طرف رواں دواں تھی لیکن جیسے جیسے ھمارا سفر طے ہوتا گیا وہ میوزک میرے دل پر اثر کرتا گیا اور میری منزل آگئی اور اترنے لگا پیسے ادا کیے جو اس شخص نے دیکھے بغیر جیب میں ڈال دیئے ۔ میں اپنا سامان لیکر نکل ہی رھا تھا کہ اچانک پلٹا اور ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا یہ گلوکار کون ہے ؟ کچھ لمحے اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ میں نے پھر سوال دہرایا تو اس نے کہا بیٹا کیا آپ واقعی سننا چاہتے ہو ۔ میں نے کہا جی ضرور۔ تو ڈرائیور نے کہا صرف نام نہیں بتا سکتا پوری کہانی سننا پڑے گی وہ بھی میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی تو وہ حضرت گویا ھوئے ۔ بیٹا یہ احمد ظاہر ھے ۔ ستر “70” کی دھائی میں افغانستان میں اس کی بڑی دھوم تھی صرف افغانستان میں نہیں بلکہ ماسکو اور تہران کی لڑکیاں بھی اس کی دیوانی تھیں۔ ان دنوں میں کابل یونیورسٹی میں میڈیکل کا طالب علم تھا ۔
میرے والد صاحب ریڈیو کابل میں پروگرام آفیسر تھے اور میرے چچا 1976 میں انگلینڈ سے پی ایچ ڈی کرکے لوٹے تھے۔ ہمارے گھر میں انگور کی سات اقسام لگتی تھیں۔
یونیورسٹی کے سبھی لڑکے لڑکیاں احمد ظاہر کے فین تھے۔ ان دنوں افغانستان میں کوئی ثقافتی سرگرمی احمد ظاہر کے میوزک کے بغیر پوری نہیں ہوتی تھی اور ہم یونیورسٹی میں ہر دن پروگرام بناتے کہ کسی دن ہم احمد ظاہر کو اپنے ڈیپارٹمنٹ میں مدعو کریں اس کے لیے ہم نے اپنے صدر شعبہ سے خصوصی اجازت بھی لے رکھی تھی۔ عجیب جنون کے دن تھے ابھی یہ نشہ اترا نہیں تھا۔ پھر ایک دن جون کی ایک دوپہر کو جب میں ڈیپارٹمنٹ سے نکل رھا تھا کہ میری ایک ساتھی طالبہ بھاگتے ہوئے میرے پاس آئی اور کہنے لگی آزاد تمھیں پتا ہے احمد ظاہر کی کار حادثے میں موت ہو گئی ۔ یہ سن کر مجھ پہ سکتہ طاری ہوگیا ۔ اتنا یاد ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جو میں نے سامنے درخت پر دے ماری۔۔۔ لیکن میں نہیں مانتا کہ اس کی حادثے میں موت ہوئی ہے بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے ۔ ۔ جس دن اس کا جنازہ تھا عوام کا ایک ہجوم تھا کابل کی سڑکوں پر۔بچے بوڑھے نوجوان سب رو رہے تھے ۔ بہرحال ہم ابھی اسی صدمے سے باہر نہیں نکلے تھے کہ جنگ شروع ہوگئی اور سب تباہ ہوگیا میری فیملی کے کچھ لوگ روس چلے گئے کچھ مار دیئے گئے اور کچھ میری طرح دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے۔ ( اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں خود کو کوس رہا تھا کہ میں نے ایک بوڑھے کو رلا دیا ) ۔ تھوڑی خاموشی کے بعد اس نے کہا بیٹا ہم ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے جنگ نے ہمیں تباہ کر دیا۔ اب یہاں صدر (کراچی ) میں لوگ ہمیں قندھاری کہتے ہیں۔ ہم قندھاری نہیں ہیں ۔ میں کابل کا ہوں ۔ کابل ہی میرا شہر تھا اور کابل ہی میرا عشق ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میری کہانی کم ازکم ایک بند ے کو ضرور بتانا۔
لیکن ان دنوں خود مجھے ہجرت درپیش تھی اور پھر کوئٹہ سے تھائی لینڈ کے سفر میں یہ کہانی کہیں راستے میں کھو گئی۔ مگر کردار یاد رہے اب کوئی سال بھر ہونے کو آیا ہے میں اس گلوکار کو مسلسل سنے جا رہا ہوں ۔ اگرچہ فارسی اور پشتو گیتوں کی شاعری تو سمجھ نہیں آتی مگر موسیقی سننے سمجھنے کے لئے بھلا لفظ سمجھنا کہاں ضروری ہیں؟ ایک عجیب سرور ہے اس گلوکار کی آواز میں’ یعنی آپ خوش ہیں تو آپ کی خوشی میں اضافہ کریں گے اس کے گیت وگرنہ غم کی صورت میں اداسی کو تقویت پہنچے گی مگر قرار ضرور آئے گا ۔ علی الصبح یونیورسٹی کے لیے نکلتے وقت ‘ شیو بناتے وقت نہاتے وقت یا دوپہر میں یا کسی اور پہر میں احمد ظاہر کے میوزک کا بیک گراؤنڈ سماعتوں میں رس گھولتا ہے ۔ اور پھر یہاں ہر وقت کی برستی بارش کی آواز میں مل کر یہ موسیقی کچھ عجب ہی رنگ بکھیرتی ہے۔
میرے برابر والے کمرے میں ایک ملائشین خاتون رہتی ہیں ۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھا ‘ خاتون آپ میرے میوزک کی وجہ سے ڈسٹرب تو نہیں ہوتی ۔ کہنے لگیں بالکل نہیں بلکہ میں تو لطف لیتی ہوں ۔ جواب سننے کے بعد یہ یقین اور پختہ ہوگیا کہ موسیقی ایک عالمگیر جذبہ ہے جسے محسوس کرنے کے لیے کسی خاص زبان سے آشنائی ہرگز ضروری نہیں ۔ بس آپ کی سماعتیں سننے کے قابل ہونی چا ہییں۔

Check Also

انجیلا ڈے وس(خودنوشت) ۔۔۔۔ ترجمہ:سید سبطِ حسن

اتفاق سے اُنہیں دنوں میری ملاقات کئی کمیونسٹ گھرانوں سے ہوئی اور بٹینا اپٹھیکر جو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *