Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » رسالہ عوامی جمہوریت ۔۔۔ شاہ محمد مری 

رسالہ عوامی جمہوریت ۔۔۔ شاہ محمد مری 

دیگر جانداروں کے مقابلے میں انسان کیوں روبہ ترقی ہے ؟۔ اُس کے ارتقا کا راز کیا ہے ؟۔ نہ صرف یہ کہ وہ معدوم نہیں ہوتا ، نہ صرف یہ کہ وہ جوں کا توں بھی نہیں بلکہ وہ تو روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ شعوری طور پر اپنی زندگی بہتر سے بہتر بنانے کی جدوجہد کرتا رہا ہے ۔ جاری وساری کاروان۔
انسانی ارتقاکی تاریخ بتاتی ہے کہ ثبات صرف اُس کے اِس کارواں کو ہے ۔ کاروان گَربدلتے جاتے ہیں،کاروان کا سالاربدلتا رہتاہے ، اس میں موجود لوگ،اُن کی صدائیں سیٹیاں، بھیڑوں کی گھنٹیاں، رنگت اور خواص تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔اِس کے پڑاؤ کی جگہیں ، چراگاہیں ، چیک پوسٹیں بدلتی رہتی ہیں۔۔۔مگر اس کے کارواں کو دوام ہے ۔۔۔’’ جبلّی نہیں بلکہ شعوری طور پر اپنی زندگی کو بہتربنانے کا کارواں‘‘۔
میں عوامی جمہوریت کے کارواں (جو خود کسی اور کارواں کا تسلسل تھا) میں 1971میں شامل ہوا ۔ اُس وقت جب یہ رسالہ ابھی محض چار سال کا بچہ تھا اور میں اپنے گاؤں اور دیگر چھوٹے چھوٹے قصبوں سے علم کا پیچھا کرتے کرتے ایف ایس سی کے مست والھٹر فرسٹ ایئر کا طالب علم بناتھا ۔
علم کی شعاعیں توچہار سُو پھیلی ہوتی ہیں۔شعاعوں کے سمو لینے کی استطاعت البتہ مختلف جگہوں میں مختلف ہوتی ہے ۔میرا گاؤں ماوند چونکہ پرائمری سکول تک تھا،اس لیے مڈل پڑھنے کے لیے کوہلو اور بارکھان جانا پڑتاتھا ۔ میٹرک کے علم کی شعاعیں سمیٹنے کی جگہ دکی کے ہائی سکول میں میسر تھی۔ اورانٹر میڈیٹ تک کے علوم کی روشنی کا پاور ہاؤس سبی کو بنادیا گیا تھا۔ چنانچہ مجھے انٹرمیڈیٹ کی سطح کے علم کے کنڈنس کردہ بنڈل نے چاکروگوۂرام کی تیس سالہ رزم گاہ سبی میں آن لیا تھا۔ جہاں علاقے کا واحدکالج موجود تھا۔
اُس زمانے کے بلوچستان کاسماجی معاشی پس منظر یہ تھا کہ میر وسلطاں کی مکمل گرفت تھی۔ شرف وشاہی موروثی ہوا کرتی تھیں۔تحکم اور اَمر کے آگے بس اطاعت ہی چلتی تھی۔۔۔ سرخم، یا ، سرقلم۔باغی کے قتل کی جگہ پہ پتھروں کی ڈھیری کو’’چیذغ ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ حصولِ علم کی تمنا غیرت کے استحقاق کو مجروح کرنا گردانی جاتی تھی۔۔ ماقبل فیوڈل اقدار دائمی ، سخت گیر اورحتمی تھیں۔ (اب بھی صورت ویسی ہی ہے)۔
اپنی آبائی وادی کے محدود آسمان پر جو طبقے حکمرانی پہ نظر آتے تھے ، وہی بارکھان میں کھیترانوں کے قبیلے میں بھی تھے ۔اور وہی دُکی نامی پشتون قصبے میں میٹرک کرتے ہوئے میں نے چکھے تھے: فیوڈلزم کے ستارے ۔متمکن ، محکم، متکبر۔ سماجی ساخت یہ تھی کہ عوام کے اوپرچھوٹے وڈیرے تھے ،جن کے اوپر تعداد میں کم مگر اختیار میں نسبتاً بڑے وڈیرے براجماں تھے، اُن کے اوپر مزیدبڑے وڈیرے۔ ۔۔سلسلہ اوپر اٹھتا جاتا تھا۔وڈیروں کی تعداد کم ہوتی جاتی تھا مگر حشم و جاہ بڑھتا جاتا تھا۔۔۔۔ حتی کہ پِرامڈ (اہرام ) کی چوٹی پہ ایک ہی دمکتا چمکتا ستارہ،جلوہ افروز تھا:سردار ۔جو سارے اختیار واقتدار کا حتمی مالک تھا۔
میں تشنگانِ متبادل میں شامل تھا۔ اظہار تونہ تھا کہ شعور نہ تھا مگر متبادل کی تلاش پہ تومعاشی سماجی حالات مجبور کرتے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ ’’تبدیلی ‘‘ کی خصوصیت کہیں انسانوں کی جبلت میں موجود ہوتی ہے ۔شعور اُس خصوصیت میں اضافہ کرتارہتا ہے۔
میرے گاؤں کا دانا ،علم کا رسیا تھا ۔ اُس دانا کے پاس تعلیم کی کوئی ڈگری نہ تھی، لیکن وہ علم کو ہر سماجی مرتبے سے بلند سمجھتا تھا ۔چنانچہ وہ آس پاس بچوں کو پکڑ پکڑ کر تعلیمی جگہوں (مسجد یا سکول ) کے حوالے کرتا، یا پھر عالموں کویہاں وہاں درسگاہیں مہیا کرتا تھا۔ میرا باپ تھا وہ۔
تاریخ کے اندر یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایک سماج کبھی کبھی مکمل طور پرجمود اور سکتے میں آجاتا ہے ۔وہاں کوئی کُوالی ٹے ٹوحرکت نہیں ہوتی ، گھپ اندھیرا مسلط ہوجاتا ہے۔بلوچستان اُسی ڈارک ایج کی حالت میں تھا۔کوئی اُشماری داخلی طبقاتی چپقلشیں امکان میں ہوتیں بھی تو اُن پر داخل کے بجائے خارج قبضہ کرجاتا ۔یوں ہمارے داخلی تضادات ہمیشہ بیرونی دشمن سے نمٹنے کی خاطر پوسٹ پونڈ ہو کر بے دَم ہوتے رہے ہیں۔اوریوں سماج کا داخلی منظر نامہ سکوت وجمود میں رہاہے ۔۔ لگتا ہے کسی بہت بڑے’’ عامل‘‘ کی دائمی سُن کردینے والی دم چُھوکا ’’معمول‘‘ سماج ہو یہ ۔ فیوڈل بنیاد پرستی اس کی حنوط شدہ ممی کو غیرت اور رواج کی پٹیاں لپیٹے رہتی ہے کہ ہاتھوں میں جنبش ممکن نہیں رہتی اور آنکھوں میں دَم روزن کی تلاش میں دَم توڑ جاتا ہے ۔
اچھے بھاگ نہیں ہوتے اُس شخص ،اُس کنبے ،اُس قوم، اوراُس سماج کے جو’’خود کفیل‘‘ ہوتا ہے ۔ اور ہم ایک خود کفیل معاشرے کے بچے تھے ۔ قدیم کمیونزم سے نکلاخود کفیل معاشرہ ۔ جس کی سرشت میں منظم درآمد کی سخت مزاحمت گُندہی ہوتی ہے۔ اور حصولِ علم کی خواہش ؟۔ یہ تو غیرت وروایت وجمود وسکوت وانجماد کے دیوتاؤں کے سامنے سپارٹیکسی سزا کا مستحق ہوتی تھی۔۔۔
ایک ایسے جامد سماج سے ہم نکلے حصولِِ علم کو ۔سبی کالج :فزکس ، کمیسٹری، باٹنی ، زوالوجی پڑھنے۔
اندازہ کیجئے کہ اُس وقت ہماری حالت کیا ہوگی ؟۔پشت ہاپشت سے دیجوری جینز لیے جب اچانک کوئی جاندار ،چمچماتی روشنی میں آجائے تو وہ تو نیم دیوانگی کی تجسیم بن جائے گا۔ کبھی اِس رنگ پہ لپکے گا ،کبھی اُس خوشبو بہ چھپکے گا، اِس انکشاف کو سمجھے گا ، اُس ادراک کو جانے گا، یہ نظریہ گودلے گا ، وہ عقیدہ چُوسے گا۔جیسے سرپہ زور سے ڈانگ لگی ہو۔
یہ صحیح ہے کہ سبی کوئی اینگلزی مانچسٹر نہ تھا، نہ ہی وہ آسٹرانومی کی کوئی مشاہدہ گاہ تھا۔ مگر یہاں کتاب تھی ۔ ایسی کتاب جو پانی کو ’’ایچ ٹُو او‘‘ بتاتی تھی۔یہاں گرے وٹی پڑھانے کو فزکس کا پروفیسر غلام حسین تھا ۔پھر ریلوے سٹیشن تھا جہاں سٹیفن سن کی بنائی ٹرین چلتی تھی۔ گلیاں ایڈیسن کی بنائی بجلی سے روشن تھیں۔ یہاں گیارہ ہزار قبل مہر گڑھ کی ایجاد، یعنی پہیہ تھا جس پر اب صرف بیل گاڑی ہی نہیں بلکہ ٹانگے ، سائیکل اورلاریاں بھی چلتی تھیں۔دو منظم لائبریریاں تھیں، لاؤ ڈسپیکر والی تین بڑی مساجد تھیں، نیپ کے جلسے ہوتے تھے جن میں غلام غوث ہزاروی عریاں لطیفوں سے مرغن سیاسی تقریریں کرتا تھا ۔ تھیٹر لگتے تھے جن میں کم سن لڑکے، لڑکیاں بن کرناچتے تھے اور نادیدوں کے دیدے نکلواتے تھے۔ جیکب آباد سے سبی ،ڈیرہ غازی خان سے سبی، لورالائی سے سبی اور کوئٹہ سے سبی کے بیچ 500میل کے رقبے میں واحد سینما گھر تھا سبی میں, جہاں مشہور تھاکہ قبائلی لوگ سٹوری کو اس قدراصلی سمجھتے تھے کہ سخت طیش میں آکر ایمانداری سے ولن کو اپنا جوتا دے مارتے ۔ ۔سردیوں میں یہاں چار صدیوں سے چلتا آیا’’ سبی میلہ ‘‘لگتا تھا جس میں بھاگ ناڑی نسل کے عظیم الجثہ بیل عقل کو دنگ کرواتے تھے۔
رنگ وبوبھری اِس طبعی دنیا میں نظریات تھے جو بغیر پَیروپر، زقندیں بھر نے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے ، جو بغیر درد دیے ، آپ کے حواس کے ایک ایک مالیکیو ل کو قبضہ کیے جاتے تھے۔۔ ۔ نیشنلزم، سیکولرزم ، کپٹلزم، سوشلزم۔ ایسی کشش ایسا تجسس اور ایسی تسلیم ،مگر اُسی شدت کا استرداد بھی!۔ایک دنیا تھی جو ذہن کو سرگرداں کیے رکھتی تھی۔(ذہن کا سرگرداں رہنا کتنا اچھا عمل ہے۔۔۔ ۔ اشرف المخلوقاتی عمل!!)۔
یہاں کالج میں مجھ سے ایک برس سینئر دوچار لڑکے عجب باتیں کرتے تھے۔ وہ عجیب چیزیں پڑھتے تھے۔ایسے نظریات رکھتے تھے جو متعدی تھے، دوسروں میں پھیلنے کی حیرت انگیز صلاحیتیں رکھنے والے نظریات ۔ بحثیں ایسی کرتے تھے جوسارے مروجات کو تہس نہس کرتی تھیں۔ قے آور ،نفرت انگیز ،مگر پُراثر باتیں۔ وقتی طور پر قابلِ نفرت باتیں مگر وہی باتیں ذہن کے کچھ حصوں پہ قبضہ کرکے انہیں اپنے نظریات نشر کروانے کا کارخانہ بناڈالتی تھیں۔باتیں یہ تھیں: زمین گول ہے،بادشاہ آسمانوں کی طرف سے مقرر نہیں ہوتا ،سورج اپنی جگہ پر ساکن کھڑاہے ،متحرک زمین اُس کے گردگھومتی ہے ۔دنیا قوانین کے مطابق چلتی ہے ، میٹر یعنی مادہ کبھی پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی فنا ہوسکتا ہے، سارے انسانوں کی برابری والا سماج ممکن ہے۔ ‘‘۔۔۔اور سب سے گمراہ کن یہ بات: ’’ہر چیز ‘‘ کا علم ممکن ہے۔
جو پہلی کتاب اِن لڑکوں نے مجھے دی وہ کم اِل سنگ کی سوانح حیات تھی۔ اُس کتاب میں اُس شخص کی تصویریں بھی تھیں۔ میں نے وہ کتاب انتہائی تلخ ذائقے کے ساتھ پڑھی ۔کوئی قبولیت تھی یانہیں، یاد نہیں۔ مگراسترداد اِس قدر کہ اگلے دن کتاب واپس کردی تو تصویروں پر کم اِل سنگ کی آنکھیں سلامت نہ تھیں۔ شدید کشمکش میں غلطاں جھنجلائے ذہن کے حکم سے وہ آنکھیں میرے ناخنوں نے کُھرچ ڈالی تھیں۔
یہیں،انہی لڑکوں کے پاس ہفت روزہ ’’عوامی جمہوریت‘‘ پہلی مرتبہ دیکھا تھا،میں نے۔
(جاری ہے)

Check Also

یوسف مگسی ہمہ جہت شخصیت  ۔۔۔ محمد رفیق مغیری

یوسف عزیز مگسی صاحب نہ صرف بیسویں صدی کا بڑا رہنما تھا بلکہ وہ صدیوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *