Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » کتبوں کے درمیان ۔۔۔۔ حمیرااشفاق 

کتبوں کے درمیان ۔۔۔۔ حمیرااشفاق 

ویران راستہ میرے قدموں سے لپٹ گیا تھا،اور میں بے اختیار اس انجانے راستے پر گامزن تھی۔یہ اجنبی مگر شناسا شہرجس کے باسیوں کو میں جانتی تھی مگر پھر بھی ناواقف تھی۔میرے ہم زاد نے مجھے سمجھانے کے انداز میں کہا:۔
“دیکھو ! میں نے اس شہر کے بارے میں عجیب عجیب باتیں سن رکھی ہیں ،تم اس طرف مت جاؤ۔”
میرے قدم مجھے اس طرف زبر دستی لیے جا رہے ہیں،اس شہر میں جانا یا نہ جانا میرے بس میں نہیں رہا۔
اگلے ہی لمحے ایک جھٹکے سے میرے قدم رک گئے،میں نیپاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ،چلو! نہیں جا تے ،لو ! رک گئے،اب بس۔۔۔
ہم زاد نے طنزیہ مسکراتے ہو ئے کہا ،”تم اس وقت شہر کے درمیان میں ہو۔”
میں اس شہر کے چوراہے پر کھڑی حیران نظروں سے ارد گرد دیکھ رہی تھی۔
گزرتے لوگ عجیب ہئیت کے تھے،جن کے چہرے مٹیالے اور آنکھیں دھندلی سی تھیں۔یہ بے چہرہ عورتیں تھیں۔سفید لباس زیبِ تن کیے ایک ہی چال میں چلتی عجیب عورتیں۔۔
ہم زاد کی طرف مڑ کر دیکھا تو وہ کب کا غائب ہو چکا تھا۔
یہ عجیب شہر تھا جہاں زندگی ماتم اور موت رقص کرتی تھی۔یہ واقعی موت کا شہر تھا ،سامنے گورکن اپنے اوزار سجائے کسی نئے مدفن کی تیاری کے حکم کا منتظر بیٹھا تھا۔سامنے کپڑے کی دکان میں صرف سفید رنگ کے کپڑے موجود تھے۔
خوف نے میرے اندر سناٹے کا بیج بو دیا تھا جس کا بوجھ اٹھائے،میں اس شہر کی ویران گلیوں میں پھر رہی تھی۔عجیب شہر تھا جس میں گلیوں میں گلیاں اور گھروں سے گھر جڑے ہو ئے تھے۔دروازے مقفل اور زندگی موت پر نو حہ کناں تھی۔گھروں پر نام کی تختیوں پر عورتوں کے نام درج تھے۔یہ بات مجھے حیرت میں ڈال رہی تھی کیو نکہ عموماََ گھر مرد کے نام سے جا نا جاتا ہے۔عورت تو بے شناخت پیدا ہو تی ہے یہاں تک کہ وہ خود کو دوبارہ بھی جنم دے تو بھی مرد کا نام اس کی پیشانی پر چسپاں ہو نا چاہیے۔
پہلے دروازے پر رابعہ کا نام کندہ تھا۔ہمزاد کہیں سے پھر آن ٹپکا تھا۔یہ کون سی رابعہ ہیں ؟میں نے کہا :یہ شہزادی رابعہ ہے۔جس نے بلخ اور خضدار کے گورنر امیر کعب کے گھر جنم لیا تھا۔ارے یہ وہی تو نہیں جسے”زنِ انقلاب”کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے۔ہمزاد نے ماضی کا ایک در وا کرتے ہو ئے کہا۔
’’کیسی زنِ انقلاب۔۔۔ وہ بھی تو جبر کی بھینٹ چڑھ گئی‘‘۔
کیا مطلب؟
’’بس اس کے لا فانی عشق کو کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔مجاز تو ایک بہانہ تھا‘‘۔ہم زاد نے بکتاش کا نام ابھی لیا ہی تھا کہ میں نے بلا ارادہ اس کی بات کو کاٹتے ہو ئے کہا’’عشق تو ایک انعام ہے ،وہ رابعہ کو ایک غلام بکتاش کے توسط سے مل گیا۔مگر یہ بات رابعہ کا بھائی حارث کیسے سمجھ سکتا تھااوراس نے اس کی ہاتھ کی رگیں کاٹ کر گرم حمام میں بند کر دیا۔اس نے اپنے لا فانی عشق کا اظہار اپنے خون سے حمام کے در و دیوار پر درج کر دیا۔وہ نو شعر عشق کا بہترین اظہار پائے۔کیا رومی کیا جامی سب نے رابعہ کے کلام سے اکتسابِ فیض کیا مگر وہ کہاں جانتی تھی کہ وہ اشعار نہیں اپنا کتبہ لکھ رہی ہے‘‘۔ہمزاد نے گہری سنجیدگی سے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا “یہ مکانوں پر لگی تختیاں نہیں ،کتبے ہیں ،عورتوں کے کتبے۔۔۔۔۔
دوسرا کتبہ،تیسرا اور پھر چوتھا کتبہ۔ اسی طرح کے کئی مکان اور ان کے باہر لگے کتبے ،مگر میری نظر ایک اور مانوس نام پر ٹھہر گئی۔یہ نام میری ہمجولی ثمینہ کا تھا۔جس کا نام ایک مرتبہ میں نے میٹرک کی سند پر دیکھا اور دوسری بار انٹر کی سند کے اوپر اور اب تیسری مرتبہ یہ نام کتبے پر آویزاں تھا۔مجھے اپنے آپ اور اپنے لوگوں سے الگ ہو ئے کئی برس بیت گئے تھے۔بچپن کے ابتدائی سات سال مٹی کے گھرو ندے بناتے گاؤں کی سہیلیوں کے ساتھ گزرے تھے۔پھر ایک رات ایک انجانے خوف نے میرے باپ کو اپنے حلقے میں لے لیا اور وہ مجھے میری ماں کی وفات کے بعد لے کر دور دیسوں میں جا بسے تھے۔ابا کا واحد رابطہ ثمینہ کے ابو کے ساتھ تھا۔وہ جب بھی شہر آتے ثمینہ بھی ان کے ساتھ ہو تی۔اس کے ابو نے سب سے مخالفت مول لے کر اسے سکول اور پھر کالج بھیجا تھا۔ایک خط میں ،ثمینہ نے مجھے اپنی تصویروں کے ساتھ اپنی سندوں کی کاپی بھی بھیجی تھی۔اس کے ابا کے انتقال کے بعد وہ اپنی بوڑھی ماں کی کفالت کے لیے نو کری کرنا چاہتی تھی۔
آج اخبار میں چھپنے والی خبر نے مجھے اس کتبوں کے شہر میں لا کھڑا کیا تھا۔مقتولہ ثمینہ کی تصویر پہچاننی مشکل تھی مگر علاقے کا نام اور خبر کی تفصیل نے مجھے تمام واقعے کی جزئیات سے آگاہ کر دیا۔وہ ثمینہ جس نے چادر اور چار دیواری کی بھیک مانگنے سے انکا ر کیا تھا۔ مردوں کی خواہشات کو دھتکارنے کی پاداش میں ثمینہ آج ایک کتبہ بن گئی تھی۔
ارے یہ ایک اور کتبہ”امام خاتون” کا تھا۔یہ نام میرے بچپن سے گہرا جڑا ہو اتھا۔ایک رات گھپ اندھیرے میں نازو نائی اور اس کا باپ ہاتھ میں لالٹین تھامے ہمارا دروازہ زور زور سے پیٹ رہے تھے۔باہر اندھیرے میں لالٹین کی رو شنی نے کمرے کی دیواروں پر ان کے سائے دیوار جتنے لمبے کر دیے تھے۔میں اپنی رضائی میں سے سر نکالے ان لرزتے سایوں کو دیکھ رہی تھی۔اتنے میں دور سے زور زور سے رونے کی آوازیں بلند سے بلند تر ہو تی گئی تھیں۔ گاؤں کی ایک عورت دونوں ہاتھوں سے سر پیٹتی امی کی طرف بڑھی،ظلم ہو گیا ،امام خاتون کو اس کے چچا نے قتل کر ڈالا ”۔
اس وقت قتل کا لفظ پہلی مرتبہ میری سماعتوں سے ٹکرایا تھا۔سب اپنے آپ سے بے خبر ٹولیوں کی شکل میں لالٹین ہاتھوں میں لٹکائے ندی کنارے چل رہے تھے۔پَو پھوٹنے کو تھی کہ دور سے بلند ہو تی چیخ و پکار بہت سارے جنگلی بھیڑیوں کی شکل میں ہمارے قریب آتی جا رہی تھی۔”امام خاتون”کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی اور گھنگھریالے بالوں کا نقاب اس کے چہرے کو ڈھانپے ہو ئے تھا۔میں اور امام خاتون کی بیٹی دونوں کچے صحن کے ایک کو نے میں بیٹھے ٹھیکریوں کے کنارے رگڑ رگڑ کر گول کرتے رہے۔
میں نے اپنی کم عمر دوست سے پو چھا ،تمہاری امی کو کیا ہو اہے؟اس نے بتایا وہ ہمارے لیے عید کے کپڑے لینے شہر گئی تھی۔پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔
ہمزاد نے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تو میں بھی بھاری قدموں سے اس کے پیچھے چل پڑی۔ہر گلی پر ایک کتبہ آویزاں تھا۔اب میں جلد سے جلد اس شہرِ مدفون سے نکلنا چاہتی تھی۔ایک بے درو دیوار کا صحن امام خاتون کے صحن سے متصل دکھائی دیتا تھا۔کمرہ تو بند تھا لیکن لوہے کی سلا خوں سے بنی الماری سے اندر کا منظر دیکھا جا سکتا تھا۔ایک گلدان میں رکھے سوکھے پھول رہنے والے کے ذوق کا پتہ دیتے تھے۔تصویر کے چو کھٹے میں سجی دو چوٹیوں والی لڑکی کا گول چہرہ کچھ شنا سا سا لگا۔مگر اتنے ماہ و سال بیتنے کے بعد چہروں اور واقعات میں مطابقت قائم کر نا میرے بس میں نہ تھا۔ہمزاد نے پھر سے آگے بڑھنے کا ٹہو کا دیا مگر دل پیچھے اور قدم آگے کی طرف جا رہے تھے۔
گڑتے جارہے تھے۔ ریت نما زمیں ،میرے پاؤں
ایک گول ٹھیکری میرے پاؤں سے ٹکرائی تو ،ماضی پر پڑی وقت کی دھند چھٹنے لگی۔اب یہ کمرہ بھی مجھے کچھ شنا سا سا لگا۔ مگر کچے کمرے تو سارے ہی ایک جیسے ہو تے ہیں۔کمرے کے سامنے کی دیوار کے ساتھ لگا مٹی کا چولہا ابھی تک ٹوٹا نہیں تھا ،مگر ویران تھا۔ایک محراب نما جگہ جس کے اندر دیے کی کالک کی لکیر،بیتی زندگی کاپتہ دے رہی تھی۔محراب کے عین نیچے دو ننھے ہاتھوں کے نشان دیکھ کر ایک خیال بجلی کی طرح کوندا،جس کی رو شنی میں کھڑی امام خاتون کی بیٹی زینو اور میں چکنی مٹی کے گارے سے نشان لگا رہے تھے۔ اس نے سالہا سال کی لپائی میں بھی ان نشانوں کو مدھم نہ پڑنے دیا تھا۔
ماتھے کی شکنیں گہری ہو تے دیکھ کر ہمزاد ابھی سوال کرنا ہی چاہتا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ اس ننھے ہا تھ پر رکھ دیا۔آنسو کب موتی بن کرریت میں گم ہو گئے کچھ پتہ ہی نہ چلا۔
یہ کس کا ہاتھ ہے؟
ہاتھ نہیں کتبہ ہے جسے میں پہچانتی ہو ں۔
ثمینہ نے ایک خط میں بتا یا تھا کہ زینو سے ایک وڈیرے کے بیٹے نے زبردستی نکاح کر لیا۔وہ نکاح نہیں کتبہ تھا جس پر اس نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھے کا نشان لگایا تھا۔
پھر کیا ہوا؟
وڈیرے کی بیٹی پر وٹے سٹے کی پاداش میں سوکن آئی توزینو کو مجرم جان کرکم ازکم جو سزا تجویز کی گئی وہ موت تھی۔
زینو کا باپ تو زندہ تھا؟
عورت کا ‘خون بہا ‘بھی آپسی فیصلوں میں طے ہو جاتا ہے ۔کبھی زمین کے بدلے اور کبھی ایک اور معصوم عورت کو ونی قرار دے کر۔
مجھے اس جگہ سے نکلنا چاہیے ۔میرے ہر قدم پر دکھ؛گندم کے خوشوں کی طرح سر اٹھائے جھانک رہے تھے،لہلہا رہے تھے۔شاید اس فصل کا بیج ہی ‘دکھ’تھا،جس نے آگے دکھوں کے خوشے بھر دیے تھے۔ہمزاد ایک بار پھر مجھ سے جدا ہو گیا تھا۔میں اس شناسا مگر اجنبی شہر کی گلیوں میں بھٹک رہی تھی۔مٹی نے میرے قدم خود میں گاڑ لیے تھے۔جیسے چکنے گارے میں سے زور لگا کر اپنا پاؤں باہر نکالنا پڑتا ہے۔میں بالکل اسی زور سے خشک گلیوں میں دکھوں سے لتھڑے پیروں کو اٹھا اٹھا کر رکھ رہی تھی۔خاموشی؛شور بن کر میرے حواس کو مضطرب کر رہی تھی۔مجھے یہاں سے بھاگ جا نا چاہیے، میرے قدم میرے وجود کا بوجھ اٹھانے سے انکاری تھی مگر میں یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔گلی کا آخری موڑ مڑتے ہو ئے میرے پیر کسی چھوٹی سی مٹی کی ڈھیری سے ٹکرائے۔اس ڈھیری پر ایک ننھا سا کتبہ چسپاں تھا،گڑیا گھر میں رکھے سامان کی طرح سجا سجایا اور مکمل۔مگر کتبہ ایک طرف سے اکھڑ کر جھول رہا تھا۔ہمزاد ،مجھے گھٹنوں کے بل جھکے دیکھ کر سامنے آن کھڑا تھا۔یہ کتبہ بے نام کیوں ہے ؟
میں نے خود کلامی کے انداز میں کہا ۔’’نام تو لکھا ہے بس تمہیں دکھائی نہیں رہا‘‘۔اس مٹی کی ننھی ڈھیری پر ”بیٹی”لکھا ہے۔
کیا مطلب؟ہمزاد نے چو نکتے ہو ئے کہا۔
جب مشینیں کوکھ کے اندھیروں میں بھی لڑکی کو ڈھونڈ لیتی ہیں تو ان کا مقدر یہ ننھی ڈھیریاں بن جا تی ہیں۔
اس طرح کے بے نام کتبوں کی قطار دیکھ کر میں اورہمزاد یہاں سے بھاگ جا نا چاہتے تھے۔ہم اکھڑی سانسوں کے ساتھ کتبوں کے شہر کی فصیل پر نصب دروازے کی طرف دوڑے مگر دروازہ کب کا مقفل ہو چکا تھا۔

Check Also

پیرانی ۔۔۔۔ جمال ابڑو/گوہر ملک

براہوی ٹک ئے تہا یک کسانیں کاروانے چہ وتی کوہستانی علاقہا گوزگا اَت ۔ دو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *