Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو
جینا بہت اہم جیے جاؤ
حصولِ منزل تک جیے جاؤ
یہ نہ سوچو:
میری زندگانی کب تلک!؟
بس جیے جاؤ

ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ
بجھتی ہوئی نظر کے ساتھ
کم زور جسم وجان کے ساتھ
جتنا لکھ سکو، لکھتے رہو
جتنا پڑھ سکو ، پڑھتے رہو
بس جیے جاؤ

غیر مُہذِّب اور وحشی لوگوں کے
منفی رویوں پہ اَفسُردہ نہ ہو
راستے کی مشکلوں سے نہ گھبراؤ
زندگانی کی تنگ گلیوں سے
اپنی جدا راہ نکال کر
آگے بڑھتے رہو
اپنا کام کیے جاؤ
بس جیے جاؤ

قبر یا شمشان گھاٹ
سب ہی کی آخری منزل
اے دل، تم بھی
آخری پَل آنے تک
حُسنِ سُلوک کے ساتھ
خوش اَسلُوبی کے ساتھ
خود کو زندہ رکھو
ہنستے مسکراتے رہو۔

Check Also

ایک آواز ہے ۔۔۔ گلناز کوثر

کیا کہوں۔۔۔ایک آواز ہے بھیگے پتوں پہ بارش کی بوندیں بجاتی۔۔۔ بہت کھنکھناتی ہوئی۔۔۔ ایک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *