Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » To And Fro — Qandeel Badar

To And Fro — Qandeel Badar

سلگتا ہے
بدن کی راکھ میں اب تک کوئی ایندھن سلگتا ہے
دہکتا ہے کبھی انگار بن کر وہ دہکتا ہے
اگلتا ہے ابھی اتش فشاں لاوا اگلتا ہے
پگھلتا ہے زمیں کی کوکھ میں جاکر پگھلتا ہے
بلگتا ہے ابھی اندر کوئی بچہ بلگتا ہے
سسکتا ہے ابھی سردی کی راتوں میں وہی سپنا سسکتا ہے

بکھر جاتا ہے جب سامان تو پھرکب سمٹتا ہے
الجھ جائے کوئی دھاگہ تو پھر وہ کب سلجھتا ہے
اسے کہہ دو
بگڑجائے کوئی رشتہ تو پھر وہ کب سنورتا ہے

کبھی رخ آسماں کا بھی بدلتا ہے
یہ سورج ہے تو پھر کیوں روز مشرق سے نکلتا ہے
یہ دن اور رات کا پہیہ مسلسل کیسے چلتا ہے
نہ یہ مرتا نہ تھکتا ہے
نہ اس کو اونگھ آتی ہے
نہ اس پر رات بھاری ہے
نہ اس کو موت کا ہے ڈر

یہ میرا دل ہے یا
سینے میں بیٹھا ہے کوئی پتھر

Check Also

نثری نظم ۔۔۔ نور محمد شیخ

خود کو خوش اَسلُوبی کے ساتھ زندہ رکھو جینا بہت اہم جیے جاؤ حصولِ منزل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *