Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » ستیم شیوم سندرم ۔۔۔ قندیل بدر 

ستیم شیوم سندرم ۔۔۔ قندیل بدر 

میں رات کی طرح تاریک اور گھمبیر ہوں
میں نے ہزاروں سال رات کی تاریکی کو
گھونٹ گھونٹ پیا ہے
اب اندر باہر ایک سی ہوں
چاہوں تو تاریکی کے سمندر
لمحوں میں اپنے اندر اتار لوں
یا باہر انڈیل دوں
میں تاریکی سے مزید تاریکی کو جنم دینے والی تھی
کہ اچانک آسمان پر سکرپٹ بدل گیا
حق نے گہری سانس بھری
اور ایک پھونک نے نور کو جنم دے دیا
میں نے اپنی آنکھ کی کالک بھری پتلی سے اس کی پاکی ناپ لی
وہ صبح سا سفید شفاف نرم ملائم اور سندر ہے
اس کی اجلاہٹ سے دل کی کال کوٹھڑی پر برف پڑنے لگی ہے
سیاہی پھیکی پڑنے لگی ہے
پو پھٹنے لگی ہے
اس کی دودھیا پوریں تن کی کالی مٹی پر آیتیں لکھنے لگی ہیں
جسم کے گنبد میں اذانیں گونجنے لگی ہیں
پرندے میرے اندر پر پھڑپھڑانے لگے ہیں
مصری کا ذائقہ میری زبان نے چکھ لیا ہے
میری شب گزیدہ نظریں سورج کی تیز شعاعیں تو جھیل نہیں سکیں گی
لیکن اب دل کو اطمینان سا ہے
میں اپنی آخری سانسیں صبح کی اجلی کرنوں میں لوں گی

Check Also

غزل ۔۔۔۔ افتخار عارف

قصہِ اہلِ جنوں کوئی نہیں لکھے گا جیسے ہم لکھتے ہیں، یوں کوئی نہیں لکھے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *