Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اجڑی ہوئی سیاست  ۔۔۔ وحید زہیر

اجڑی ہوئی سیاست  ۔۔۔ وحید زہیر

سیاست دانوں کو ہم برا بھلا کہہ بھی نہیں سکتے کیونکہ ہمارے اسلاف سیاست کو عبادت سمجھ کر اس سے ہمیشہ جڑے رہے ۔ لیکن موجودہ حالات میں ہم مجبور ہیں کہ سیاستدانوں اور سیاست کی گوشمالی کریں ۔ کیا اس وقت جو سیاست ہورہی ہے ۔ اس سے ہم آئندہ کی بہتری کو توقع کریں۔ کیا ملک میں 70سے زائد سیاسی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے ہم کسی ایک نظر یے سے خود کو وابستہ کر سکتے ہیں۔ جب سب الگ الگ ایک ہی میدان میں ڈھول بجا رہے ہوں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی ہو اور نہ ہی کسی ایک سُرسے مخطوظ ہوا جاسکے۔تو اسے کیا کہا جائے ۔ ظاہر ہے جب کانوں کو کوئی چیز بھلی نہ لگے تو اُسے ہم نہ موسیقی کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سرتھال۔ بے شک ہم جمہوریت جمہوریت کا نعرہ لگائیں جب جمہوری اقدار ہی باقی نہ رہیں تو ایسی جمہوریت سے کیا فائدہ ۔ جس میں سیاستدانوں کو تولا نہ جاسکے جس جمہوریت میں خواتین کو برہنہ کر کے اس کی نمائش کروا کے اسے انتقام کا نام دیا جائے۔ جس میں ترقی وتعمیر کا سارا زور ایک صوبے تک محدود رہے۔ ایک دو صوبوں میں تعلیم اور روز گار کے بے شمار مواقع ہوں اور دوسرے صوبے میں تعلیم برائے نام ہو اور روزگار کے مواقع بالکل ہی مسدودہوں ۔ ایک میں فیکڑیاں اور کارخانوں کی بھر مار ہو دوسرے میں فیکڑی یا کارخانہ نام کی کوئی چیز نہ ہو۔ ایک صوبے میں ادبی تنقید برداشت ہو دوسرے صوبے میں نہ تو ادبی تنقید کو برداشت کیا جائے اور نہ ہی ادبی ادارے اور لائبریریوں کو پنپنے دیا جائے ۔ جہاں عطا شادکی کتاب مارکیٹ سے غائب کیا جائے جہاں گوادر میں لائبریری کے لیے الاٹ کیے گئے زمین پر قبضہ کیا جائے۔ پھر بھی دعویٰ ہو آزادیِ اظہار کا۔ جہاں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جائے ۔ جہاں امن وامان کا مسئلہ ہو۔ جہاں 18ویں ترمیم پر دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم عمل کیا جائے۔ جہاں احتساب عدالت پر کوئی بر ملا اعتراض نہ کرسکے جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاروک ٹوک کارروائیاں کریں۔ جہاں ملازمتیں فروخت کرنے کا واویلہ ہو ۔ جہاں پورے صوبے کا وزیر محض اپنے علاقے تک محدود ہو یا صرف پارٹی اور پارٹی ورکروں کی وزارت کہلائے ۔ جہاں سیاست کو عبادت کی بجائے کاروبار سمجھا جائے ۔ تب خون کھولتا ہے افسو س ہوتا ہے ۔ عوام کے ساتھ اس قدر مذاق پر کہاں چپ رہا جاسکتا ہے ۔ جن قوموں کے بنیادی سماجی اقدار کمزور کہلائیں ۔ وہاں جمہوریت اپنی ساکھ کھوتی ہے۔ لوگ ہسپتالوں میں سسک سسک کر مریں گے ۔صوبوں کا تاریخی ورثہ ان کا اپنا نہیں رہتا۔ بلوچستان کااپناگیس اپنانہیں کہلائے گا۔ بس احتجاج اور دھرنوں پر قوم باقی دن گزارے گی ۔ خواتین ملازمتوں اور سیاست میں اپنے کوٹے پر عملد ر آمد کے لیے واویلہ مچاتی رہیں گی ۔ معذور بھی ملازمتوں میں اپنے حصے کے لیے شورو شرابا کریں گے ۔ عدم تحفظ کا احساس تمام شعبوں میں محسوس ہوتا رہے گا۔ اور سیاست برائے نام ہے اور برائے نام رہے گی اسلاف کی سیاست کی تاریخ کی موجودگی کے باوجود ان کے نام پر کاروانوں میں شامل سیاست دانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی کہ وہ جن کے نام لیوا ہیں ان کے اصول اور سچائی پر وہ کس قدرکار بند ہیں ۔ انہیں عوامی پذیرائی کس قدر حاصل ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دوہزار اور چار ہزار ووٹوں سے کامیاب ہونے والا امیدوار لاکھوں افراد کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ جعلی ڈگریوں پر بھی امیدوار چُنے جارہے ہیں۔ سرکاری زبان انگریزی ہونے کے باوجود ان وزراء کے لیے دودو ڈرافٹ تیار ہوتے ہیں انگریزی میں دوسرا آسانی سے سمجھانے کے لیے اردو میں بنتے ہیں۔ اور اس دوران یار لوگ چکما دے کر کئی انگریزی کے ڈرافٹ آسانی سے دستخط کروا لیتے ہیں اور بعد میں جب کوئیسکینڈل بنتا ہے تو کہتے ہیں اچھا یہ سب کچھ میرے ہوتے ہوئے ہورہا تھا ۔ اور مجھے خبر تک نہ ہوئی ۔ کیا جمہوریت ایسے نمائندوں کی محتاج رہ گئی ہے ۔ نہ جانے جمہوریت کے ساتھ کیسا مذاق ہورہا ہے ۔ نہ جانے کس قسم کی سیاست ہورہی ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ آمرانہ رویوں نے جمہوریت اور سیاست کا بڑا نقصان کیا ہے ۔ مگر جو سیاستدان جمہوریت کے نام پر سیاست کر رہے ہیں وہ کتنا درست ہے۔ اب کمزور وزارت داخلہ وخارجہ کو ہی دیکھ لیں ہمسایہ ممالک سے ہماری نہیں بن پار ہی ۔بین الاقوامی سطح پر بھی کوئی پیغام اچھا نہیں جارہاسی پیک بلوچستان میں بن رہا ہے اور سب سے زیادہ اعتراضات اور منصوبوں کی ناانصافی پر بلوچستان ہی کے پارلمنٹرین انگلی اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ افغان مہاجرین درد سربنے ہوئے ہیں ۔ ہر برائی کی جڑ کا پتہ ہے ۔ مگر کون مائی کا لال اصول وقواعد کی بنیاد پر سیاست کا بگل بجائے۔ جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر سیاست ہو رہی ہے۔ نہ تو کسی ایک نظریے ، اور نظام پر اتفاق ہو رہا ہے ۔ اسمبلیوں میں بے شک مباحث ہوں۔ سیمیناروں میں بلند بانگ دعوے ہوں، جلسوں میں خود ہی برائیوں کی نشاندہی کریں۔ لیکن جب بلی کے میں گھنٹی باندھنے کی باری آئے تو ہر ایک پتلی گلی سے نکل جائے ۔ بڑے سے بڑے واقعہ پر تعزیتی جلسہ اور مذمتی بیانوں کے سوا کچھ اور کیاکیا جائے ۔سچ شاید ہاضمے پر بھاری گزرے۔ لہذا جمہوریت اور سیاست کو اس کے اصل روح کے ساتھ اگلی سیڑھیوں پر چڑھایا جائے تاکہ منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ عوام اور صوبوں کی پریشانیاں جب تک ختم نہ ہونگی۔ جمہوریت اور سیاست پر اسی طرح بے اعتباری رہے گی۔ اسلاف کے روح گھائل رہیں گے۔ یہ بات درست ہے کہ آمرانہ انداز حکمرانی سے جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے مگر جمہوری اداروں میں خود آمرانہ ذہنیت سے کیا مراد لیا جائے ۔ایک تو وارثت کی سیاست سے جس قدر جلد ہوسکے ہمیں جان چھڑانی ہے ۔ دوسری سیاسی پارٹیوں کو جب اختیار نصیب ہو تو وہ اپنے تمام اختیارات انتقامی سیاست کی نظر نہ کریں۔سوئم جیلاپن کی سیاست کو ترک کیا جائے چہارم ، انصاف اور میرٹ کو اولیت دی جائے۔

Check Also

محکوم لیڈر عبدالصمد خان اچکزئی ۔۔۔ محمد عمران لہڑی

دنیا میں شروع دن سے ایک جنگ جاری ہے جسے حق اور سچ کی جنگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *