Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » خزاں کی ایک رات ۔۔۔ میکسم گورکی/ سعادت حسن منٹو

خزاں کی ایک رات ۔۔۔ میکسم گورکی/ سعادت حسن منٹو

موسم خزاں کی ایک رات کا ذکر ہے، میں عجیب بے اطمینانی اور بے چینی کی حالت میں تھا۔ جس قصبے میں میں ابھی ابھی وارد ہوا تھا اور جہاں میں کسی متنفس سے بھی واقف نہ تھا، میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں پایا کہ میری جیب میں ایک پائی نہ تھی اور رات بھر کا بسیرا میسر نہ تھا۔
پہلے چند روز میں میں نے اپنے لباس کا ہر وہ حصہ بیچ کھایا جس کے بغیر میں ادھر ادھر جا آ سکتا تھا۔ پھر شہر کو چھوڑ کر اس حصے میں چلا آیا جہاں دخانی جہازوں کے گھاٹ بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ حصہ جو جہاز رانی کے زمانے میں زندگی کی جدو جہد کا مرکز بنا رہتا ہے۔ لیکن جو اب خاموش اور سنسان تھا۔ کیونکہ یہ ماہ اکتوبر کے آخری دن تھے۔
گیلی گیلی ریت پر اپنے پاؤں کو گھسیٹتے ہوئے کہ شاید اس میں کسی قسم کی خوراک کا کوئی ٹکڑا دبا ہوا ہو، میں تن تنہا خالی مکانوں اور گوداموں میں گھوم رہا تھا۔ اور دل ہی دل میں یہ خیال کر رہا تھا کہ کیا اچھا ہو اگر پیٹ بھر کر کھانے کو کچھ مل جائے۔
موجودہ تہذیب و تمدن کو دیکھ کر ہمارا دل سیر ہو جاتا ہے، لیکن ہمارا جسم بھوکا ہی رہتا ہے ۔بازاروں میں جاؤ، وہاں عالی شان عمارتوں میں گِھر جاؤ گے اور ان کا نظارہ فن تعمیر، ترقی معاشرت اور ایسے ہی بلند پروازی کے دوسرے موضوعات پر تمہارے خیالات کے لئے تقویت بخش ثابت ہو گا۔ تم کو عمدہ عمدہ گرم لباسوں میں لپٹے ہوئے لوگ ملیں گے۔۔۔ بڑی نرمی سے بات کرنے والے، بڑی حکمت سے کنی کتر کے نکل جانے والے، تمہارے ننگ زمانہ وجود سے نا معلوم طریقے پر نظریں پھیر لینے والے ہاں ،ہاں۔ ایک بھوکے آدمی کا دل ہمیشہ اس شخص سے زیادہ تندرست اور توانا ہوتا ہے جسے پیٹ بھر کر کھا نے کو ملتا ہو۔ اور عسرت ہی وہ صورت حال ہے جس میں ہمیں ان لوگوں کی بہبود کا خیال آتا ہے، جس کا خیال آتا ہے، جن کا وقت فاقہ مستی میں کٹتا ہے۔
شام کا سایہ بڑھتا چلا آتا تھا۔ مینہ برس رہا تھا۔ اور شمال کی تیز و تند ہوا چل رہی تھی۔ خالی بیٹھکوں اور دوکانوں میں اس کے گزرنے سے چیخوں کی سی آواز پیدا ہوتی تھی،اور دریا کی لہریں ، جو شور مچاتی ہوئی ریتیلے ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اس کے طمانچوں سے کف آلود ہو جاتی تھیں۔ اچھل اچھل کر گرتی پڑتی، ایک کے پیچھے ایک ہو کر دھندلی دوریوں کی طرف بھاگی جاتی تھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دریا جاڑے کی شکل دیکھتے ہی بے تحاشا بھاگ رہا ہے کہ کہیں شمال کی برفانی ہوا اپنی بیڑیاں آج ہی رات اس کے پاؤں میں نہ ڈال دے۔ آسمان بوجھل اور تاریک ہو رہا تھا اور اس پر سے مینہ کے باریک باریک قطرے لگاتار گر رہے تھے۔ نیچر کا غم انگیز ماتمی گیت بید مجنوں کے دو بد شکل درختوں اور ایک اوندھی پڑی ہوئی اور ان درختوں سے بندھی ہوئی کشتی کی موجودگی سے اور بھی موثر ہو گیا تھا۔
الٹی ہوئی کشتی کا پیندا ٹوٹا ہوا تھا اور خراب و خستہ بوڑھے درخت جن کے برگ و ساز سرد ہوا لوٹ لے گئی تھی بلکہ ہر وہ چیز جو میرے ارد گرد پھیلی تھی مفلوک الحال، ابتر اور بے جان نظر آتی تھی اور اس نظارے کو دیکھ دیکھ کر آسمان کے آنسو نہ تھمتے تھے۔۔۔ ہر چیز تیر و تار ہو رہی تھی۔۔۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر چیز مر چکی ہے۔ اور صرف میں اکیلا زندہ رہ گیا ہوں اور میرے لئے بھی موت کا یہ زمہریر انتظار کر رہا ہے۔
اس وقت میری عمر اٹھارہ برس کی تھی۔۔۔ کیا ہی زمانہ تھا؟
میں سرد گیلی ریت پر بہت دور تک چلا گیا۔ سردی اور بھوک کے اعزاز میں میرے دانت ایک ساز کی طرح بج رہے تھے۔ ایک جگہ خالی الماریوں کے پیچھے میں کوئی کھانے کی چیز تلاش کر رہا تھا کہ یکایک میری نظر ایک انسانی صورت پر پڑی۔ اس کا نسوانی لباس بارشوں کی وجہ سے تر بہ تر ہو کر اس کے جھکے ہوئے کندھوں میں پیوست ہو گیا تھا۔ میں چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہا کہ وہ کیا کرتی ہے، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ریت میں کوئی خندق سی کھود رہی ہے۔
’’تم یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘ میں نے اس کے قریب جا کر کہا۔
ایک ہلکی سی چیخ اس کے منہ سے نکلی اور وہ کھڑی ہو گئی۔ اب کہ خوف سے بھری ہوئی بڑی بڑی نیلی نیلی آنکھیں کھولے میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ لڑکی ہے، میری ہی عمر کی، جس کے روشن چہرے کو تین بڑے بڑے نیلے داغوں نے گہنا رکھا ہے۔گو ان داغوں کی تقسیم اس کے چہرے پر نہایت موزونیت اور تناسب کے ساتھ ہوئی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اس کے حسن کو چھپا دیا تھا۔ تینوں اپنی اپنی جگہ اکیلے اکیلے نمایاں تھے۔ سب جسامت میں تقریباً برابر تھے۔۔۔ دو آنکھوں کے نیچے اور ایک جو بڑا تھا پیشانی پر ناک کے عین اوپر بلا شبہ یہ کام تھا کسی اس حسن کار کا جو انسانی صورتوں کو بگاڑنے کا خو گر ہو۔
وہ میری طرف دیکھتی رہی اور اس کی آنکھوں میں سے وحشت آہستہ آہستہ مفقود ہوتی گئی۔۔۔ اس نے ہاتھوں پر سے ریت جھاڑی۔ سر کے سوتی رومال کو ترتیب سے باندھا، پھر ذرا جھکی اور کہا:۔
’’ میں سمجھتی ہوں کہ تمہیں بھی کھانے کے لئے کچھ چاہیے، تو پھر اس جگہ کو کھودو، میرے ہاتھ تھک گئے ہیں ۔۔۔ یہاں !‘‘۔۔۔ اس نے اپنے سر کی جنبش سے ایک دوکان کی طرف اشارہ کیا۔۔۔’’ یہاں روٹی کامل جانا یقینی ہے۔۔۔ اور سالن کا بھی۔۔۔ یہ دوکان ان دنوں بھی کھلی ہے‘‘
میں زمین کھودنے لگا۔ کچھ دیر ٹھہر کر اور میری طرف دیکھنے کے بعد وہ میرے قریب بیٹھ گئی اور مجھے مدد دینے لگی۔
ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ میں اب نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت جرم، قانون، ملکیت اور ایسی ہی وہ تمام باتیں جن کے متعلق تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ زندگی کے ہر لمحے میں ملحوظ رہنی چاہئیں میرے خیال میں تھیں یا نہیں ۔ صداقت کے انتہائی قریب رہتے ہوئے میں اقرار کرتا رہوں کہ میں کھودنے میں اتنا منہمک تھا کہ اس ایک بات کے سوا کوئی دوسری بات میرے وہم و خیال میں بھی نہ آتی تھی کہ اس الماری کے اندر کیا ہو گا!
?شام کا سایہ پھیلتا گیا، چاروں طرف کہر کی تاریکی چڑھتی گئی،موجوں کا شور بھاری ہوتا گیا اور مینہ کے چھینٹے الماری کے تختوں پر پہلے سے بلند آواز کے ساتھ گرنے لگے۔ کبھی ادھر کبھی ادھر پہرہ داروں کی آوازیں آنے لگیں۔
’’ اس کا کوئی پتہ بھی ہے؟‘‘ اس نے آہستہ سے پوچھا۔ میں نہ سمجھ سکا کہ اس نے کیا کہا۔ اس لئے میں خاموش رہا۔
’’ میں کہتی ہوں ، اس الماری کی کوئی تہہ بھی ہے؟۔۔۔ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم کھودتے کھودتے ایک خندق بنا دیں اور یہ نتیجہ ہو کہ الماری کے نیچے بھی لکڑی کے مضبوط تختے لگے ہوں ، ایسی صورت میں ہم کیوں کر انہیں اکھاڑ سکیں گے؟ بہتر ہو کہ تالے توڑ ڈالیں ۔۔۔ اس ناکارہ تالے کو‘‘۔
عورتوں کو عمدہ خیالات شاذ و نادر ہی سوجھتے ہیں ، لیکن کبھی کبھی سوجھ ضرور جاتے ہیں۔ میں نے عمدہ خیالات کی ہمیشہ قدر کی ہے، اور ہمیشہ جہاں تک ممکن ہو سکا ان سے مستفید ہونے کی کوشش کی ہے۔
میں نے تالے کو پکڑ کر اس زور سے مروڑا کہ وہ کنڈی سمیت اکھڑ آیا وہ جھپٹ کر آگے بڑھی اور الماری کا جائزہ لیتی ہوئی مجھ سے یوں کہنے لگی’’ تم تو لوہا ہو لوہا!‘‘
آج کسی عورت کا ایک چھوٹا سا تعریفی فقرہ میرے لئے اس مرد کے بڑے سے بڑے قصیدے سے زیادہ قد رو قیمت رکھتا ہے، جس میں تمام قدیم اور جدید لسانیات جمع ہوں ۔لیکن اس وقت میرے مزاج میں اکھڑ پن تھا اور اب اس کی اصلاح ہو چکی ہے۔چنانچہ اس کی تحسین و تعریف پر کان نہ دھرتے ہوئے ، میں نے بے تابانہ اس سے سوال کیا:
’’ اس میں کچھ ہے بھی؟‘‘
وہ ایک بے کیف آواز کے ساتھ سب چیزوں کو گننے لگی۔
ٹوکری بھر بوتلیں ۔۔۔ پوستینیں ۔۔۔ ایک چھری۔۔۔ لوہے کی ایک گڑوی‘‘،
ان میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی، میری تمام امیدیں مٹ گئیں ۔۔۔ لیکن یکا یک وہ شگفتہ خاطر ہو کر بولی۔
’’ آہا ، یہ لو!‘‘
’’ کیا؟‘‘
’’ روٹی۔۔۔ایک روٹی۔۔۔ صرف بھیگ رہی ہے۔۔۔ یہ لو!‘‘
اس نے اسے میری طرف پھینک دیا اور پھر خود بھی چلی آئی، اس کے آنے تک میں نے ایک بڑا سا لقمہ دانتوں سے توڑ کر اپنا منہ بھر لیا تھا۔اور اب اسے چبا رہا تھا۔۔۔
’’ آؤ، اس میں سے تھوڑی سی مجھے دے دو۔۔۔ اور ہمیں یہاں ٹھہرنا نہیں چاہئے۔۔۔ لیکن ہم کہاں جائیں وہ ہر طرف متفکرانہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔ فضا میں تاریکی، نمی اور شور تھا۔
’’ دیکھو، وہ ایک الٹی ہوئی کشتی پڑی ہے۔۔۔ آؤ، وہاں چلیں ‘‘
’’ چلو‘‘
اور ہم چل پڑے۔۔۔ اپنے مال غنیمت کے حصے بخرے کرتے ہوئے اور اس کے بڑے ٹکڑوں سے اپنے کلوں کو بھرتے ہوئے۔۔۔ بارش اور تیز ہو گئی، دریا رعد کی طرح گرجنے لگا کہیں نہ کہیں ایک مسلسل مضحکہ اڑانے والی سیٹی بج رہی تھی۔۔۔ بالکل اس طرح جیسے کوئی بالا و برتر ہستی، جسے کائنات میں کسی کا خوف نہ ہو۔۔۔ تمام زمینی سر گرمیوں کی، خزاں کی، اس ہیبت ناک رات کی، اور ہماری، جو اس طوفانی رات کے ہیرو ہیں ، ہنسی اڑا رہی ہے۔ اس ہنسی کو سن کر میرا دل پارہ پارہ ہو گیا۔ مگر اس کے باوجود اپنی روٹی حریصانہ کھاتا رہا۔ اور یہ لڑکی جو میرے بائیں جانب ساتھ ساتھ چل رہی تھی مگر اس معاملے میں بھی میرے قدم بہ قدم جا رہی تھی۔
میں نے ابھی تک اس کا نام دریافت نہ کیا تھا۔اب میں نے کہا’’ تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’ نتاشا‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا۔
میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ میرے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی اور پھر میں نے اپنی نظریں رات کی تاریکی کی طرف پھیر لیں اور مجھے معلوم ہوا جیسے میری قسمت کی بد اندیش صورت میری طرف دیکھ دیکھ کر عجب پر اسرار اور بے رحمانہ انداز سے مسکرا رہی ہے۔
مینہ کشتی کے تختوں پر تازیانوں کی طرح مسلسل پڑ رہا تھا۔ اس کی ہلکی ٹپ ٹپ غم و الم کے خیالات برانگیختہ کر رہی تھی، اور ہوا جب کشتی کی ایک درز میں سے اس کے ٹوٹے ہوئے پیندے میں داخل ہوتی تھی تو اس میں سے ایک اضطراب انگیز اور اداس آواز اٹھتی تھی۔ دریا کی لہریں آ آ کر ساحل سے ٹکراتی تھیں تو ان میں سے ایک بھیانک اور مایوس کن صدا پیدا ہوتی تھی، اس طرح جیسے وہ کوئی رنج دہ اور ناقابل برداشت کہانی سنا رہی ہیں ، جو خود ان کی ہمتوں کو توڑ توڑ کر رکھ دیتی ہے۔۔۔ ایسی کہانی جس کو سنائے بغیر وہ بھاگ جانا چاہتی ہیں۔ لیکن جس کو سنانے پر مجبور ہیں۔ بارش کی آواز دریا کی آواز مل کر ایک آہ مسلسل بن جاتی تھی، جو اوندھی کشتی کے اوپر تیرتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔۔۔ جفا کش، زخمی دل اور خستہ و ماندہ زمین کی وہ بے اختتام آہ جو تاباں و درخشاں بہار میں سے نکل کر سرد، کہرہ آلود اور تاریک خزاں کی منزل سے گذرتے وقت اس کے سینے سے نکلتی تھی۔ ہوا سنسان اور کف انگیز دریا پر چل رہی تھی۔۔۔ چل رہی تھی اور اپنے المناک راگ گائے چلی جاتی تھی۔
کشتی کے اوٹ میں ہم بالکل بے آرامی کی حالت میں پڑے تھے۔ یہ تنگ تھی اور بھیگ رہی تھی، ٹوٹے ہوئے پیندے میں سے بارش کے چھوٹے چھوٹے سرد قطرے ٹپکتے تھے اور ہوا کے سرد جھونکے اندر داخل ہوتے تھے۔ ہم خاموش بیٹھے تھے اور سرد ی سے کانپ رہے تھے۔ پھر مجھے نیند کا خیال آیا نتاشا کشتی سے سہارا لگائے گچھم گچھا ہو کر ایک چھوٹی سی گیند بنی بیٹھی تھی۔بانہوں کو گھٹنوں کے گرد لپیٹے اور ٹھوڑی کو گھٹنوں پر ٹکائے وہ اپنی کشادہ آنکھوں سے دریا کی طرف گھور رہی تھی ، اس کی آنکھیں اس کے زرد چہرے پر نیلے داغوں کی وجہ سے اور بھی بڑی معلوم ہو رہی تھیں۔ وہ بالکل بے حرکت ہو رہی تھی۔ اور میں محسوس کرنے لگا کہ یہ سکون و سکوت میرے اندر رفتہ رفتہ اس کی طرف سے خوف پیدا کر رہا ہے۔ میں اس سے گفتگو کرنا چاہتا تھا مگر کیوں کر شروع کروں۔
’’ زندگی کیسا دکھ ہے!‘‘۔ اس نے نہایت صفائی، محویت اور یقین کے لہجے میں کہا۔
لیکن یہ شکایت نہ تھی، ان الفاظ کو کچھ ایسی بے اعتنائی سے ادا کیا گیا تھا کہ ان میں شکایت کا شائبہ بھی معلوم نہ ہوتا تھا۔ اس سادہ اور بے لوث روح نے زندگی پر اپنی سمجھ کے مطابق غور کیا تھا۔۔۔ غور کیا تھا، اور ایک نتیجے پر پہنچ کر اُسے بلند آہنگی سے بیان کر دیا تھا۔ میں اس کی تردید نہ کر سکتا تھا کیونکہ میں ایسا کرتا تو یہ میری اپنی تردید ہوتی۔ اس لئے میں خاموش رہا۔ اور وہ اسی طرح بے حرکت بیٹھی رہی۔
’’ کیا ہو گا۔۔۔ اگر ہم زندگی کوبرا بھی کہہ دیں ؟‘‘ نتاشا نے پھر کہا۔
اس دفعہ بھی اس کے لہجے میں شکایت کا کوئی پہلو نہ تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ زندگی کے متعلق ان خیالات کے اظہار کے وقت اس کے پیش نظر اس کی اپنی ذات تھی اور اسے یقین ہو چکا تھا کہ اپنے آپ کو زندگی کی تضحیک و استہزا سے بچانے کے لئے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کی تحقیر کرے ۔یہ سلسلہ خیالات میرے لئے نا قابل بیان طور پر غم انگیز اور پْر درد تھا اور میں نے محسوس کیا کہ اگر میں اب بھی خاموش رہا تو عجب نہیں کہ میں رونے لگوں ۔۔۔ اور ایک عورت کے سامنے یہ حرکت کیسی شرمناک معلوم ہوتی، خصوصاً ایسی صورت میں کہ وہ خو برو نہ رہی تھی ، میں اس سے باتیں کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔
’’ اور وہ کون تھا جس نے تمہیں پیٹا تھا؟‘‘ میں نے جھٹ کہہ دیا، کیوں کہ میں اس سے کسی زیادہ دقیق اور لطیف بات کے سوچنے کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔
’’ یہ سب پاشکا کی مہربانی تھی!‘‘ ۔اس نے سادہ لوحی سے کہا
’’ وہ کون ہے؟‘‘
’’ اسے مجھ سے محبت ہے۔۔۔ وہ نانبائی کا کام کرتا ہے۔‘‘
’’ کیا وہ اکثر تمہیں مارتا ہے؟‘‘
’’ جب کبھی وہ شراب کے نشے میں ہوتا ہے، وہ مجھے مارتا ہے۔۔۔ اکثر!‘‘۔
اب یکایک اس نے میری طر ف مڑ کر اپنے متعلق، پاشکا کے متعلق اور اپنے باہمی تعلقات کی نسبت باتیں شروع کر دیں کہ وہ ایک نانبائی تھا۔ اس کی مونچھیں سرخ تھیں اور وہ ستار بہت اچھی بجاتا تھا۔ وہ اکثر اس سے ملنے آتا تھا۔ اور اسے اس سے مل کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ کیونکہ یہ خوش طبع چھو کرا عمدہ اور نفیس لباس پہنتا تھا۔ اس کے پاس ایک واسکٹ تھی، جس پر اس کے پندرہ روبل خرچ آئے تھے اور ایک خوبصورت مخملی بوٹ بھی تھا۔۔۔ یہ تھیں وہ تمام باتیں جنہوں نے اس سیدھی سادھی لڑکی کا دل موہ لیا تھا۔ اور اس کی نظروں میں اعتبار پیدا کر لیا تھا۔ اسی اعتبار پر وہ اس سے وہ تمام نقدی اڑا لے جاتا تھا جو اسے گھر سے ملتی تھی۔ لیکن اسکی وہ ذرہ برابر پرواہ نہ کرتی اگر وہ اس کی آنکھوں کے سامنے دوسری لڑکیوں کے پیچھے نہ بھاگتا پھرتا۔
’’ اب کیا یہ میری توہین نہ تھی؟۔۔۔ میں دوسری لڑکیوں میں صورت شکل میں تو کم نہیں ، یقیناً اس کے یہی معنی تھے کہ وہ مجھ سے مذاق کرتا ہے، نابکار! کل کی بات ہے میں اپنی مالکہ سے تھوڑی دیر اجازت لے کر اس کے پاس گئی اور وہاں میں نے دیکھا کہ و مکا شراب پی کر بد مست ہو رہی ہے اور پاشکا کی عقل بھی سمندر پار پہنچی ہے۔ میں نے کہا’’ او ذلیل کمینے!‘‘۔۔۔ اس پر اس نے مجھے خوب سزا دی۔ وہ مجھے لاتوں اور مکوں سے مارتا رہا اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا رہا۔ لیکن یہ سب اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو بعد میں ہوا۔ اس نے میرا سارا لباس اتار لیا اور جب چھوڑا تو میں اس حالت میں تھی جو میری اب ہے!۔۔۔ اب کیسے میں اپنی بیگم کے سامنے جا سکتی تھی؟ اس نے میری تمام چیزیں چھین لیں ۔۔۔ میرا جاکٹ بھی لے لیا۔ یہ ابھی بالکل نیا تھا، ابھی چند روز ہوئے میں نے اس پر ایک پنجہ خرچ کیا تھا۔۔۔ اس نے میرے سر سے رومال بھی اتار لیا۔۔۔ او میرے خدا، میرا اب کیا انجام ہو گا‘‘ ۔وہ یکایک ایک آزردہ اور درد مند آواز میں چلا اٹھی۔
ہوا چیخیں مارتے ہوئے چلنے لگی، اور زیادہ سرد اور نم آلود ہو گئی۔۔۔ میرے دانت پھر اچھل اچھل کر رقص کرنے لگے۔ وہ سردی سے بچنے کے لئے میری جانب چلی آئی اور میرے جسم سے لگ کر مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اندھیرے میں مجھے اس کی آنکھوں کی چمک نظر آنے لگی۔
’’ کیسے کم بخت ہو تم تمام مرد! ۔میرا بس چلے تو تم سب کو بھٹی میں ڈال کر جلا دوں ، تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں ، اگر تم میں سے کوئی مر رہا ہو تو اس کے منہ میں تھوک دوں اور اس کی پشتہ بھر بھی پروانہ کروں ۔۔۔ کمینے کتے!تم خوشامدیں اور چاپلوسیاں کرتے ہو، کتوں کی طرح دمیں ہلا ہلا کر ہمارے طرف آتے ہو اور ہم نادان اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دیتی ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ہم اپنی ہستی کو کھو بیٹھتی ہیں ، پھر ذرا سی دیر بھی نہیں گذرتی کہ تم ہمیں اپنے پیروں تلے روندنا شروع کر دیتے ہو۔۔۔ بد نصیبو، بدبختو!!‘‘۔
وہ ہمیں برا بھلا کہہ رہی تھی لیکن اس کے برا بھلا کہنے میں کوئی طاقت کوئی دشمنی، کوئی نفرت نہ تھی، اس کی گفتگو کا لہجہ کسی طرح بھی اس کے موضوع کا ہم آہنگ نہ تھا، کیونکہ اس میں کامل سکون تھا۔ اور اس کی آواز خطر ناک حد تک دھیمی تھی۔
مگر ان سب باتوں نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ قنوطیت کی وہ فصیح ترین کتابیں اور تقریریں بھی نہ کر سکیں۔ جس کا معتدبہ حصہ میں پڑھ چکا تھا اور جنہیں آج تک میں پڑھ رہا تھا۔ اور یہ اس لئے کہ ایک مرتے ہوئے انسان کا دردو کرب اپنے اندر بہت زیادہ حقیقت اور قوت رکھتا ہے، بہ نسبت موت کی اس تصویر کے جسے کسی نے اپنے الفاظ کے باریک قلم سے کھینچ کر رکھ دیا ہو۔
میں اپنی حالت میں ابتر محسوس کرنے لگا۔ نتاشا کی گفتگو سے متاثر ہو کر نہیں ، بلکہ سردی کی شدت کی وجہ سے کراہنے لگا اور دانت پیسنے لگا۔
اسی وقت دو چھوٹے چھوٹے ہاتھ میری طرف بڑھے۔۔۔ ایک میری گردن کے گرد حمائل ہو گیا اور دوسرا میرے چہرے پر آ لگا۔۔۔ اور ساتھ ہی کسی نے فکر مند، نرم اور شیریں اور دوستانہ آواز میں پوچھا:
’’ تمہیں کیا چیز دکھ دے رہی ہے؟‘‘
میں یہ یقین کر لینے پر تیار تھا کہ مجھ سے یہ سوال کرنے والا اس نتاشا کے سوا کوئی دوسرا بھی ہے، جس نے ابھی ابھی تمام مردوں کو بے حمیت ظاہر کیا تھا اور ان کو تباہ و برباد کر دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن یہ وہی تھی اور اب وہ جلد جلد اور تیزی سے بولنے لگی تھی:۔
’’ تمہیں کون سی چیز دکھ دے رہی ہے؟۔۔۔ کیا تمہیں سردی لگ رہی ہے؟کیا تم ٹھٹھر رہے ہو؟۔۔۔ آہ! تم یوں ایک ننھے الو کی طرح بیٹھے ہوئے کیسے عجیب معلوم ہو رہے ہو۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا، کہ تمہیں سردی ستا رہی ہے۔۔۔ آؤ۔۔۔ یہاں لیٹ جاؤ اور میں تمہارے ساتھ لیٹ جاؤں گی ۔۔۔ یہاں یونہی، اب اپنی بانہیں میرے گرد لپیٹ لو۔۔۔ کس کر! اب بتاؤ؟ اب تم بہت جلد گرم ہو جاؤ گے۔۔۔ پھر ہم ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے سو جائیں گے۔۔۔ رات بہت جلد گذر جائے گی۔۔۔ تم دیکھنا یہ کتنی جلد گذر جائے گی، میں کہتی ہوں کیا تم بھی شراب پیا کرتے تھے؟۔۔۔ کیا تم سے بھی کام چھین لیا گیا ہے؟۔۔۔ تم قطعاً پروانہ کرو؟‘‘۔
اس نے مجھے آرام پہنچایا۔۔۔ میری ہمت بڑھائی۔
لعنت ہو، میری اس زندگی پر! میری اس ایک مصیبت میں مصائب کی ایک دنیا بستی تھی! ذرا تصور کرو، میں جو انسانیت کے انجام پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنے میں مصروف رہتا تھا، نظام تمدن کو از سر نو ترتیب دینے کی تجویزیں سوچا کرتا تھا، سیاسی انقلابات کے خیالات اپنے دماغ میں بسایا کرتا تھا، ان کتابوں کو پڑھا کرتا تھا، جنہیں شیطان صفت حکمت و فراست سے لکھا گیا تھا۔۔۔ اور ان کی ا تھاہ گہرائی تک خود مصنّفین کا دماغ بھی نہ پہنچ سکا ہو گا۔ میں ، جو اپنی تمام قوت سے کوشش کر رہا تھا کہ اپنے آپ کو ایک ذی اختیار عملی اشتراکی طاقت بناؤں ،بلکہ یہ محسوس کر رہا تھا کہ میں نے ایک حد تک اپنے مقصد کی تکمیل کر لی ہے۔میں جو اپنے خیال میں اس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں میں نے سمجھ رکھا تھا کہ مجھے زندہ رہنے کا ایک امتیازی حق حاصل ہے اور مجھ میں وہ عظمت موجود ہے جو اس حق کو ثابت کرتی ہے۔ اور میں دنیا کے عظیم الشان تاریخی کار ناموں میں ایک اور کارنامے کا اضافہ کرنے کے بالکل قابل ہوں ۔۔۔ یہاں پڑا تھا اور ایک عورت مجھے اپنے جسم کی حرارت سے گرما رہی تھی،۔۔۔ ایک مفلوک الحال، بے سر و سامان، ستائی ہوئی ہستی، جس کی عرصہ حیات میں کوئی قدرو قیمت نہ تھی اور جس کی مدد کرنے کا مجھے خیال تک نہ آیا تھا۔ یہاں تک کہ خود اس نے میری مدد کی۔ اور اگر مجھے مدد کا خیال آ بھی جاتا تو یقیناً میں یہ نہ جان سکتا کہ وہ کیوں کر ہو سکتی ہے۔
میں یہ مان لینے پر تیار تھا کہ یہ کوئی خواب ہے جو مجھ پر گذر رہا ہے۔۔۔ ایک ناخوشگوار اور اندوہ گیں خواب۔
لیکن آہ! میرے لئے یہ خیال کرنا ناممکن تھا کیونکہ بارش کے سرد سرد قطرے مجھ پر پڑ رہے تھے۔ وہ مجھے سردی سے بچا رہی تھی، اور اس کی گرم گرم سانس میرے منہ سے چھو رہی تھی۔ بارش کے قطرے تیروں کی طرح کشتی پر پڑ رہے تھے۔ لہریں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں اور ہم دونوں سردی سے اکڑے ہوئے اور کانپتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ رہے تھے۔ اس ساری کیفیت پر مجاز کا شائبہ تک نہ ہوتا تھا اور مجھے یقین ہے کہ آج تک کسی نے ایسا گراں بار اور ہولناک خواب کبھی نہ دیکھا ہو گا، جیسی یہ حقیقت تھی۔
مگر نتاشا لگا تار ادھر ادھر کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔ ملاطفت اور ہمدردی کی باتیں ، جیسی صرف عورتیں کر سکتی ہیں۔ اس کی آواز اور الفاظ کے تاثرات ایک ہلکی سی آگ کی طرح میرے سینے میں سلگنے لگے اور میرا دل پگھلنے لگا۔
پھر آنسو میری آنکھوں سے طوفان باراں کی طرح گذرنے لگے۔ جنہوں نے بہت سی بدیوں ، بہت سی حماقتوں اور بہت سے غموں کی گرد کو میرے دل سے دھو ڈالا جو اس رات سے پہلے اس پر جم رہی تھی۔۔۔ نتاشا مجھے تسلی دے رہی تھی۔
’’ بس ، بس ننھے میاں ، اب چپ ہو جاؤ، خدا تمہیں اور موقع دے گا۔۔۔ تم اپنی اصلاح کر لو گے اور اپنے حقیقی مقام پر پھر کھڑے ہو گے۔۔۔ اور سب کام اچھے ہو جائیں گے۔۔۔‘‘
اور وہ مجھے چومتی جاتی تھی، جس طرح ماں اپنے بچے کو چومتی ہے۔۔۔ بے نفس اور بے غرض ہو کر۔
’’ بس اب چپ ہو جاؤ،۔۔۔ مجھے تمہاری صورت دیکھ کر ہنسی آ رہی ہے ۔صبح ہونے دو، میں تمہارے لئے آپ کوئی جگہ تلاش کروں گی، اگر تم نہیں کر سکے،‘‘۔ اس کی یہ پر سکون اور ہمت افزا سرگوشیاں میرے کانوں میں اس طرح گونج رہی تھیں جیسے یہ کوئی خواب ہو، صبح ہونے تک ہم وہیں پڑے رہے۔۔۔
اور جب صبح ہوئی، ہم کشتی کے پیچھے سے نکلے اور شہر کو چلے گئے۔۔۔ پھر ہم نے ایک دوسرے سے دوستانہ طریق پر رخصت حاصل کی اور اس کے بعد کبھی نہ مل سکے، گو پورے چھ ماہ تک میں نے اس ہمدرد نتاشا کے لئے شہر کا کونہ کونہ چھان مارا، جس کے ساتھ میں نے خزاں کی یہ رات گزاری تھی۔
اگر وہ مر چکی ہے، تو اس کے لئے اچھا ہے ۔اگر وہ مر چکی ہے۔۔۔ تو وہ یہ ابدی نیند امن کے ساتھ سوئے گی۔ اور اگر وہ زندہ ہے تو پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ اس کی روح پر سلام ہو اور اس کی روح کو کبھی دنیا کی پستی کا احساس نہ ہو۔۔۔ کیونکہ اگر زندہ رہنا ہے تو یہ احساس،زندگی کا ایک بے مصرف اور بے حاصل دکھ ہے۔

Check Also

دادی کیوں تنہا ہے ۔۔۔ گوہر ملک /شاہ محمد مری

دادی ہر وقت کو ستی رہتی ہے کہ ’’میں سارادن یک وتنہا ، چڑیل کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *